ٹرمپ کے خیال میں شمالی کوریا امن کے لیے تیار ہے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th March 2018, 8:23 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن 11مارچ (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ اْن کی طرف سے امریکی صدر سے ملاقات پر رضامندی کے اظہار کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا "امن قائم کرنے" کے لیے تیار ہے۔ہفتہ کو پنسلوینیا کے علاقے مون ٹاون شپ میں ایک سیاسی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے میں جب شمالی کوریا اور امریکہ کے راہنماوں میں غیر معمولی روبرو ملاقات کی منصوبہ بندی جاری ہے، جوہری ہتھیار استعمال کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہنے والے کم اب اپنے "میزائل نہیں چلائیں گے"۔انھوں نے مزید کہا کہ جب وہ کم سے ملیں گے تو "ہو سکتا ہے میں جلد ہی اٹھ جاوں یا شاید ہم بیٹھیں اور دنیا کا عظیم ترین معاہدہ کریں۔"ٹرمپ نے حال ہی میں جنوبی کوریا میں ہونے والے سرمائی اولمپکس کے کامیاب انعقاد کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا کیونکہ انھوں نے جوہری حملے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کردار ادا کیا۔اپنی 75 منٹ کی تقریر میں ٹرمپ نے مختلف امور پر بات کی لیکن زیادہ وقت شمالی کوریا کے راہنما کی طرف سے ملاقات کی پیشکش بارے گفتگو میں صرف کیا۔ان کے بقول سابق امریکی صدور بھی یہ کر سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔پنسلوینیا سے وائٹ ہاوس روانگی کے وقت جب صحافیوں نے ان سے پوچھا کہ اس موقع پر ہی کیوں انھوں نے یہ پیشکش قبول کی تو صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "میرے خیال میں یہ بہت ہی کامیاب رہے گی، ہمیں بہت سی حمایت حاصل ہے۔"گزشتہ جمعرات کو جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر نے اعلان کیا تھا کہ شمالی کوریا کے راہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے "جتنا جلد ممکن ہو" ملنے اور بات چیت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

شاہ سلمان ریلیف مرکز کے زیراہتمام جنگ سے متاثر80 یمنی بچوں کی بحالی

یمن میں حوثی شدت پسندوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے بچوں کی بحالی کے لیے شاہ سلمان ریلیف سینٹر بحالی پروگرام کے پانچویں اور چھٹے مرحلے کا آغاز کردیا ہے۔ اس مرحلے میں جنگ سے متاثرہ 80 بچوں کو بحالی پروگرام سے گذارنے کے بعد ان کے گھروں کو بھیجا جائے گا۔

کانگریس ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کوشاں

امریکا کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ کانگریس ایران کو عالمی مالیاتی نظام سے الگ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ذرائع کے مطابق امریکی کانگریس نے ایران کی منی لانڈرنگ اور دہشت گرد تنظیموں کو فنڈنگ پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔