ٹرمپ اور کِم کے درمیان اہم دستاویز پر دستخط، عالمی تبدیلی کی باتیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th June 2018, 12:29 PM | عالمی خبریں |

سنگاپور 13جون ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کِم جونگ اُن نے سنگاپور کے جزیرہ سنتوزا میں منگل کے روز دو ملاقاتوں کے بعد ایک دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ اس دستاویز کو جامع اور اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دستخط کے بعد ٹرمپ نے باور کرایا کہ دستاویز میں تمام معاملات شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ اس دستاویز پر دستخط کر رہے ہیں"۔

ٹرمپ کے مطابق آج ایک تاریخی ملاقات کا انعقاد ہوا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا ایک نیا صفہ کھولا گیا ہے۔ امریکی صدر نے زور دے کر کہا کہ ان ملاقاتوں کی روشنی میں دنیا بڑی تبدیلیاں دیکھے گی۔

ٹرمپ نے واضح کیا کہ "شمالی کوریا کے ساتھ تعلقات اب ماضی کے مقابلے میں یکسر مختلف ہوں گے"۔ انہوں نے کہا کہ جوہری ہتھیاروں کے تلف کیے جانے کا عمل "بہت جلد" شروع ہو گا۔

دوسری جانب شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن نے اس ملاقات کے انعقاد پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ممنونیت کا اظہار کیا۔

انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ "تاریخی ملاقات" کو سراہتے ہوئے "ماضی کا صفحہ" پلٹ دینے کا عزم کیا۔

شمالی کوریا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ "اس تاریخی ملاقات کے بعد ایک نیا عہد شروع ہوتا ہے اور ایک بڑی تبدیلی دنیا کے سامنے آئے گی"۔

ایک نظر اس پر بھی

خشوگی کے مبینہ قتل کی مزید تفصیلات سامنے آگئیں

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2 اکتوبر کو جب صحافی جمال خشوگی استنبول کے سعودی قونصلیٹ میں داخل ہوا تو وہاں 15 سعودی ایجنٹ پہلے سے ہی ان کے منتظر تھے اور انہوں نے منٹوں کے اندر اسے ہلاک کر ڈالا۔

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ خشوگی مر چکا ہے: صدر ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ سعودی صحافی جمال خشوگی مر چکا ہے اور یہ کہ اس حوالے سے سعودی عرب کی جانب امریکہ کا رد عمل بہت سخت ہو گا، لیکن وہ اب بھی اس نتیجے پر پہنچنا چاہتے ہیں کہ اصل میں ہوا کیا تھا۔

خواتین کا عوامی مقامات پر بچوں کو چھاتی سے دودھ پلانا، صحیح یا غلط؟

آسٹریلوی رکن پارلیمان لاریسا واٹرز نے جب ایوان بالا میں اپنے نومولود بچے کو چھاتی سے دودھ پلایا، تو عالمی سطح پر ایک انتہائی شدید بحث شروع ہو گئی کہ آیا بچوں کو عوامی مقامات پر ماں کا دودھ دیا جا سکتا ہے؟