صدر ٹرمپ کا شام سے متعلق فیصلے کے لیے لاطینی امریکا کا پہلا دورہ منسوخ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th April 2018, 5:01 PM | عالمی خبریں |

واشنگٹن11اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز اچانک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا لاطینی امریکا کا پہلا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ امریکی صدر اسی ہفتے اس دورے پر روانہ ہونے والے تھے۔وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ شام کے بارے میں امریکی ردعمل اور فیصلے کی نگرانی چاہتے ہیں۔اس لیے وہ ملک ہی میں قیام کریں گے۔وائٹ ہاؤس نے یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا ہے جب صدر ٹرمپ جنگ زدہ شام کے خلاف فضائی کارروائی پر غور کررہے ہیں اور اس سے چندے قبل ہی وفاقی ادارہ تحقیقات (ایف بی آئی) کے ایجنٹوں نے ان کے ذاتی وکیل مائیکل کوہن کے دفاتر میں چھاپا مار کارروائی کی ہے۔وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری سارہ سینڈرس کے اعلان کے مطابق اب صدر ٹرمپ کی جگہ نائب صدر مائیک پینس پیرو جائیں گے جہاں وہ دارالحکومت لیما میں امریکی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔انھوں نے کہا کہ صدر پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق لیما میں ہونے والی آٹھویں امریکی سربراہ کانفرنس میں شرکت کریں گے اور نہ وہ بوگوٹا ، کولمبیا جائیں گے۔وہ شام کے بارے میں امریکی ردعمل اور دنیا بھر میں ہونے والی تازہ پیش رفت کی نگرانی کے لیے ملک ہی میں رہیں گے۔انھوں نے مزید بتایا ہے کہ نائب صدر مائیک پینس صدر کے دورے کے شیڈول کے مطابق کولمبیا بھی جائیں گے۔واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ شام کے بارے میں آیندہ دو ایک روز ( 24 سے 48 گھنٹے ) میں بڑے فیصلے کیے جارہے ہیں۔اس سے پہلے انھوں نے شام کو خبردار کیا تھا کہ اس کو باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

ایک نظر اس پر بھی

انڈونیشیا میں سیلاب اور تودے سے مرنے والوں کی تعداد 89 ہوئی

  انڈونیشیا کے مشرقی علاقے پاپوا میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 89 ہو گئی ہے اور لاپتہ 74 لوگوں کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ راحت رسانی مہم میں مصروف حکام نے منگل کو یہاں یہ اطلاع دی۔

پاکستان جیسے دوست ملک سے امریکہ کو ’خارش ‘ ہونے لگی : پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کے لیے بڑا خطرہ ہے: مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو ایک انٹرویو میں امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔