جی ایس ٹی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف لاریوں کی ہڑتال، پہلے ہی دن 200کروڑ کا نقصان

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th October 2017, 1:34 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 9؍ اکتوبر ( ایس او نیوز ؍ ایجنسی ) ملک بھر میں صبح 8بجے سے 2روزہ لاریوں کی  ہڑتال شروع ہوگئی ہے۔ ٹرک آپریٹروں نے جی ایس ٹی، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ اور سڑکوں پر پھیلے متعدد قسم کی بدعنوانی کے خلاف دوروزہ ملک گیر ہڑتال شروع کردی ہے۔ اس ملک گیر ہڑتا ل اپیل ٹرک آپریٹروں کی تنظیم آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس (اے آئی ایم ٹی سی ) نے کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ ٹرک مالکان اور ٓاپریٹر جی ایس ٹی کے تحت نقصان پہنچانے والی پالیسیوں کے خلاف ہیں۔ اور ان کا مطالبہ ہے کہ ڈیزل کو بھی جی ایس ٹی کے دائرے میں لایا جائے ۔ اس لئے صبح 8بجے سے 36گھنٹے کی ملک گیر ہڑتال کی اپیل کی اپیل کی گئی ہے۔اے آئی ایم ٹی سی کے صدر ایس کے متل نے ہڑتال سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹرس سرکاری افسران کے غیر انسانی اور سخت رویے سے پریشان ہیں۔ جی ایس ٹی، ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے سے پریشانی بڑھ رہی ہے اور اس کے علاوہ سڑکوں پر پھیلی بدعنوانی بھی ہے، جس کے خلاف 9سے 10اکتوبر لاریوں کی ہڑتال کرنے کا فیصلہ لیا گیا ہے۔ ٹرانسپورٹس کی سب سے بڑی تنظیم اے آئی ایم ٹی سی ملک بھر میں 93لاکھ ٹرک والوں اور 50لاکھ بس وٹورسٹ آپریٹروں کی نمائندگی کرتی ہے۔ 

سمجھا جاتا ہے کہ اس احتجاجی ہڑتال سے کھانے پینے کی اشیا سمیت روز مرہ کے استعمال میں آنے والی اشیا کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ ٹرانسپورٹروں کی ایک دیگر تنظیم آل انڈیا ٹرانسپورٹرس ویلفیئر ایسوسی ایشن (اے آئی ٹی ڈبلیو اے ) کے صدر پردیپ سنگھل نے کہا ہے کہ ہڑتال کی اپیل اے آئی ایم ٹی سی نے کی ہے اور ہم اس کی حمایت کررہے ہیں۔ سرکاری افسران ہمیں جی ایس ٹی کے بارے میں کچھ سمجھا تے نہیں ہیں اور کوئی صفائی بھی نہیں دیتے ۔ جی ایس ٹی کو بے حد پیچید بنادیا گیا ہے جس سے بے حد پریشانی ہورہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

سنیمامیں لوگ تفریح کے لیے جاتے ہیں،قومی گیت کولازمی نہیں کیاجاسکتا؛قومی ترانہ پرسپریم کورٹ نے کہا، ہمیں اپنے ہاتھوں میں حب الوطنی نہیں رکھنی چاہیے

سنیماگھروں میں قومی گیت لازمی بنانے کے فیصلہ کے ایک سال بعد ایک موڑ آیاہے۔اب سپریم کورٹ نے سینٹرکوبتایاہے کہ وہ اس معاملے میں خودفیصلہ کرتے ہیں، ہر کام کو عدالت میں داخل نہیں کیاجاسکتاہے۔