تین طلاق پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ،گرمی کی چھٹیوں کے بعد فیصلہ ممکن ؛ پرسنل لاء بورڈنے مذہبی معاملہ ثابت کیا

Source: S.O. News Service | Published on 18th May 2017, 10:59 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی18مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)تین طلاق معاملے پر سپریم کورٹ نے سماعت آج مکمل کرلی۔کورٹ کی آئینی بنچ نے 6دن تک تمام فریقوں کو سننے کے بعدفیصلہ محفوظ رکھ لیا۔مسلم سماج سے منسلک اس مسئلے پر فیصلہ گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد آئے گا۔کورٹ نے اس دوران ایک ساتھ3طلاق بولنے کا بندوبست یعنی طلاق بدعت کی آئینی حیثیت کی جانچ پڑتال کی۔یہ پرکھا کہ کہیں اس سے خواتین کے برابری کے حقوق کی خلاف ورزی تو نہیں ہورہی ہے۔ساتھ ہی، یہ بھی دیکھا کہ یہ نظام اسلام کا لازمی حصہ ہے یا نہیں۔

اس مسئلے پر2015میں سپریم کورٹ کے 2ججوں کی بنچ نے ازخودنوٹس لیاتھا۔آخرکاراسے 5ججوں کی آئینی بینچ کوسونپ دیاگیا۔بنچ نے موسم گرما کی چھٹیوں میں اس مسئلے پر سماعت کی۔اس دوران اٹارنی جنرل مکل روہتگی، کپل سبل، سلمان خورشید، راجورام چندرن، اندرا جے سنگھ اور رام جیٹھ ملانی جیسے سینئر وکلاء کے ساتھ ساتھ بہت سے اور وکلاء نے اپنی دلیلیں رکھیں۔3طلاق کی مخالفت میں سپریم کورٹ پہنچی سائرہ بانو اور دوسری مسلم خواتین کے ساتھ ہی مسلم خواتین پرسنل لاء بورڈ، مسلمان خواتین تحریک جیسی تنظیموں نے اسے ختم کرنے کی وکالت کی۔انہوں نے اسے خواتین کے خلاف امتیازی سلوک بھرا بتایا۔انہیں مرکزی حکومت کا بھی پورا ساتھ رہا۔

مرکزی حکومت کے سب سے بڑے وکیل اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے کہا کہ جس طرح ہندوؤں میں ستی اور ہیکل جیسی روایت کو ختم کیا گیا، اسی طرح 3طلاق کو بھی ختم کیا جانا چاہئے۔انہوں نے پاکستان، بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اس کے کافی پہلے ختم ہو جانے کی معلومات کورٹ کو دی۔حالانکہ کل جمعیۃ علماء ہندنے سرکارکی اس دلیل کی ہوانکال دی تھی اورپاکستانی عدالتوں کے فیصلے کی معلومات کورٹ کودیں تھیں جن میں طلاق ثلاثہ کوتسلیم کیاگیاہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے پیش کپل سبل نے کہا کہ 3طلاق کا اطلاق  1400سال پرانا ہے۔یہ مذہب سے منسلک موضوع ہے۔اس میں کورٹ کو مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

واضح ہوکہ سپریم کورٹ نے ابتداء ہی میں کہاتھاکہ اگریہ مذہبی معاملہ ہوگاتوہم مداخلت نہیں کریں گے۔اگرچہ کورٹ کا یہ کہنا تھا کہ آئین کی آرٹیکل 25کسی مذہب کے صرف ایسے حصے کو تحفظ دیتا ہے جو لازمی ہو۔مسلم پرسنل لاء بورڈنے حدیث اورصحابہ اورمعتبرکتابوں میں اس نظام کے ذکر کا حوالہ دیا۔اس کی دلیل تھی کہ ہندوستان کا سب سے بڑا سنی مسلم طبقہ حنفی اس نظام کو تسلیم کرتا ہے۔لہٰذا ساڑھے 16کروڑلوگوں کے مذہبی مسئلے سے کورٹ دور رہے۔اس پر عدالت کا سوال تھا کہ اگر یہ اتنا ضروری حصہ ہے تو جمعہ کی نمازمیں اسے گناہ قرار دیتے ہوئے اس سے دور رہنے کوکیوں کہا جاتا ہے۔سماعت کے آخری دن آج پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ مسلم سماج 3طلاق کو غلط سمجھتا ہے۔لہٰذا بورڈنے یہ طے کیاہے کہ وہ ملک بھر کے قاضیوں کو اس کے خلاف مشاورت جاری کرے گا۔ان سے یہ کہا جائے گا کہ 3طلاق سے بچا جائے۔کورٹ نے بورڈ سے کہا  کہ وہ مشاورت کی کاپی اسے سونپیں۔
 

ایک نظر اس پر بھی

جلد25وزارتیں اور محکمے ای۔ آفس میں بدل جائیں گے:ڈاکٹر جتیندر سنگھ

عملہ ،عوامی شکایت اور پنشن محکمہ (ڈی اے آرپی جی)کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے 25وزارتیں اور محکمے اس مہینے کے آخر تک ای۔ آفس میں بدل جائیں گے۔محکمہ کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ منگل کو یہاں کہا کہ ای-فائلوں کی تعداد میں 6000فیصد اضافہ ہوا ہے۔

امرناتھ یاترا پر دہشت گردانہ سایہ، گرینیڈ سے ہو سکتا ہے حملہ!

29جون سے شروع ہونے والی شری امرناتھ یاترا کو لے کر انٹیلی جنس رپورٹ سامنے آئی ہے کہ دہشت گرد ناخوشگوار واقعہ کو انجام دینے کی فراق میں لگے ہیں۔سیکورٹی ایجنسیوں کے سامنے امرناتھ یاترا کو بحفاظت کرانا بڑا چیلنج ہے۔