آصفہ کو گائوں والوں نے قبر کی جگہ بھی نہیں دی، آٹھ کیلو میٹر دور تدفین عمل میں آئی ،دھمکیوں کے بعد اہل خانہ نقل مکانی پر مجبور

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 16th April 2018, 11:08 AM | ملکی خبریں |

یہاں ہمیں انصاف نہیں مل سکتا ، مقدمہ دوسری ریاست میں منتقل کیاجائے : اہل خانہ کی سپریم کورٹ سے فریاد
کٹھوعہ،15؍اپریل(ایس او نیوز؍ ایجنسی) کٹھوعہ میں آصفہ کی عصمت دری اور قتل کا واقعہ بہت روح فرسا ہے۔مرنے سے قبل وہ اپنے والدین کو بھی ایک نظر نہ دیکھ سکی اور ظلم و سفاکی نے اس کے جسم اور روح کو چھلنی کر دیا تھا۔ہلاکت کی موت ہی کیا کم تھی کہ اس کو اپنے گائوں میں دفن تک کے لئے جگہ نہ میسر ہوئی۔اپنے گائوں کٹھوعہ کے رسانا مقام سے8 کلومیٹردور اوبڑکھابڑ پہاڑی پر اس کی قبر ہے۔اطلاع کے مطابق لڑکی کے دادا نے بتایا ہے کہ رسانا کے ہندئووں نے اس کی تدفین کے لئے جگہ نہیں دی۔۱۷؍جنوری کو لاش ملنے کے بعد گھروالے آصفہ کو اپنے دیہات رسانا میں دفن کرنا چاہتے تھے، جہاں اس کے منہہ بولے باپ کے تین بچے، اس کی والدہ دفن ہیں۔لیکن وہ لوگ اس وقت ششدر رہ گئے جب رسانا کے لوگوں نے چھوٹا سا قطعہ اراضی دینے سے انکار کیا اور کہا کہ یہ زمین بکروال کے خانہ بدوش مسلم قبیلے کی نہیں ہے۔آصفہ کو موت کے بعد بھی اپنے وطن میں جگہ نہیں ملی اور اب وہ کٹھوعہ کے رسانا سے 8 کلومیٹر دور گیہوں کے کھیتوں میں دفن ہے۔گیہوں کے کھیتوں کا مالک بچی کا دور کا رشتے دار ہےاور اس نے بتایا کہ ہماری روایت کے مطابق قبر کو فوراً پختہ نہیں کیا جاتا اور اس کے والدین اپنے مویشیوں کے ساتھ پہاڑوں پر سالانہ دورے پر گئے ہوئے ہیں جن کی واپسی پر یہ کام کیا جائے گا۔متذکرہ بالا جگہ کی اہمیت یہ ہے کہ آصفہ کے منہ بولے بھائی،بہن اور دادی یہاں دفن ہیں جو ایک دہے قبل سڑک کے حادثہ میں ہلاک ہوئے تھے۔مگر یہاں معصوم بچی کو چھوٹا سا زمین کا ٹکڑا نہیں دیا گیا۔آصفہ کی حقیقی دادی دیہات کے لوگوں کے اس رویے پر چراغ پا ہیں اور ان کو گائوں والوں سے نفرت ہو گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ شام کو لگ بھگ 6 بجے جب ہم آدھی زمین کھود چکے تھے تب گائوں والے یہاں آگئے اور ہمارے کام کو روک دیا۔انہوں نے دستاویزات دکھائے اور دعویٰ کیا کہ یہ زمین تمہاری نہیں ہے۔ایک رشتے دار نے آصفہ کی تدفین کے لئے اپنی زمین پیش کی اور بتایا کہ لڑکی کے منہ بولے کنبے نے ایک دہے قبل ہندو خاندان سے زمین خریدی تھی مگر باقاعدہ دستاویزی لوازمات پورے نہیں کئے تھے۔اس کی وجہ سے گائو والوں کا انتقام لینے کا موقع مل گیا۔دریں اثناء کٹھوعہ کی لڑکی کی فیملی کے وکیل نے بتایا ہے کہ جموں میں وکلاء نے کارروائی کی مخالفت کی اور چارج شیٹ داخل نہیں ہونے دی۔اس طرح کی صورتحال کو دیکھ کر یہ اندیشہ ہے کہ یہاں مناسب طریقے سے کارروائی نہیں ہو سکے گی۔لہذا ہم سپریم کورٹ سے درخواست کرتے ہیںکہ کیس کو جموں و کشمیر سے باہر کسی دوسری ریاست میں منتقل کریں۔اس سلسلہ میں مرکزی وزیر پرکاش جائوڈیکر کانگریس پر برس پڑے۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے دو وزراء گئے اور مقامی لوگوں سے بات کی اور پھر استعفیٰ دیا۔اب ہم راہل گاندھ سے پوچھتے ہیں کہ وہ روشن شمعوں کے ساتھ مارچ کرتے ہیں مگر یہاں اپنے وزراء کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی؟وہ کیوں خاموش ہیں؟۔عیاں رہے کہ کانگریس نے بار بار کہا تھا کہ وزیر اعظم اس معاملےمیں اپنی خاموشی توڑیں۔

اطلاعات کے مطابق کشمیر میں زیادتی اورقتل کی گئی آصفہ کے خاندان کو انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے لگی ہیں۔ والد اور خاندان کے دیگر افراد آبائی علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ آصفہ کےوالدامجدعلی نےعزیزوں کےساتھ کٹھواکاعلاقہ چھوڑدیاہے۔زیادتی کاشکارکمسن کاگھرانہ 110کلومیٹرپیدل سفرکرکے ادھم پورپہنچ گیا ہے۔ایک ماہ مزیدپیدل سفرکرکےامجدعلی اوراسکےعزیزکشتواڑنقل مکانی کرجائیں گے۔امجدعلی نے کہا کہ کٹھوعہ میں اب ہمارےخاندان کےکوئی بھی محفوظ نہیں،بیٹی سےزیادتی اورقتل ہواتوسمجھامحض چندلوگوں کاکام ہے مگر جب ریلیاں نکالی گئیں اورملزموں کوآزادکرنےکےمطالبےبڑھےتوپتہ چلاہم تنہاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم پہلےہی ایک بیٹی سےمحروم ہو چکے ہیں ،زندگی میں کبھی کٹھوعہ نہیں جائیں گے،واپس جائیں بھی توکس چیزکےلیے؟؟؟امجدعلی نے فریاد کی کہ ان کی بیٹی کےساتھ جوہوااسےانسانی بنیادوں پردیکھاجائے،سیاستدان معاملےکوسیاسی رنگ دےرہےہیں۔ دوسری جانب خبر کے مطابق کشمیر میں 8 سالہ معصوم آصفہ کیساتھ ہونیوالے لرزہ خیز واقعے کے حقائق سامنے آنے پر مقبوضہ کشمیر کی عوام کیساتھ ساتھ ہندوستان کے سیاستدان اور فنکار بھی سراپا احتجاج ہیں۔ جسٹس فار آصفہ کے نام سے ہیش ٹیگ ہندوستان میں ٹوئٹر پر مقبول ٹرینڈ بھی بن گیا جس پر سماجی کارکن اور عام شہری ملک میں جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات اور مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز جرائم کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت خواتین کو وہ عزت نہیں دے پارہا جو دینی چاہئے، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ دوسری جانب بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان،سنجے دت، پریتی چوپڑا، انوشکا شرما اور دیگر اداکاروں نے بھی ننھی آصفہ پر ڈھائے گئے ظلم کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔اس کے علاوہ فرحان اختر، سونم کپور، انوکشا شرما، جاوید اختر، شیرش کندر، ریتیش دیشمکھ سمیت دیگر بالی ووڈ کی مشہور شخصیات نے سوشل میڈیا پر عوام سے درخواست کی وہ بھی آصفہ کیلئے انصاف کا مطالبہ کریں۔ پورے ملک میں آصفہ اور انائو کی متاثرہ کے لیے احتجاج ہورہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ایئرٹیل کا منافرت آمیز فرقہ وارانہ’ قدم‘ مسلم نمائندہ سے صارف راضی نہیں تو نوکری سے کردیا فارغ 

ملک میں فرقہ ورایت کا زہر آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرست ذیلی تنظیموں کی طرف سے پھیلایاگیا اب اس کا صاف اثر زندگی کے تمام شعبوں میں نظر آرہا ہے اسی ذیل میں ائیرٹیل کو اس وقت لوگوں کی بہت زیادہ مخالفت کا سامنا کرنا پڑا جب وہ ایک صارف کی مانگ پر ہندو نمائندہ بھیجنے کو تیار ہو گئی

صدرجمہوریہ رام ناتھ کووند سے ریاست میں گورنر راج نافذ کرنے ووہرا کی سفارش

کانگریس صدر راہل گاندھی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے جموں وکشمیر میں اتحادی حکومت سے الگ ہونے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ بی جے پی۔پی ڈی پی کے موقع پرستانہ اتحاد نے ریاست میں آگ لگانے کا کام کیا اور ترقی پسند اتحاد حکومت کی برسوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔

جموں کشمیر میں جلدالیکشن کرائے جائیں،صدرراج طویل نہ ہو، عمرعبداللہ نے گورنرسے ملاقات کی،بی جے پی ،پی ڈی پی بدحالی کی ذمہ داری قبول کریں

نیشنل کانفرنس کے ایگزیکٹو چیئرمین عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں گورنر راج کی آج حمایت کی اور ریاست میں نئے سرے سے جلد انتخابات کرائے جانے پر زور دیا تاکہ لوگ اپنی حکومت منتخب کر سکیں۔