بھٹکل میں حضرت ٹیپو سلطان ؒ جینتی : ٹیپو سے دشمنی  ملک سے دشمنی کے مترادف ہے: مولانااقبال نائطے ندوی

Source: S.O. News Service | By Abu Aisha | Published on 10th November 2018, 7:39 PM | ساحلی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

بھٹکل:10؍نومبر (ایس او نیوز) 17-18صدیوں کی جاہلیت ، مظلومی ،لاچاری اور بے بسی کو دور کرتےہوئے میسور اور اس کی ریاست کے عوام کو خود مختار، بہادر اورخود کفیل بنانے والے شیر میسور حضرت ٹیپو سلطان ؒ اس ملک کے مایہ ناز فخریہ سپوت ہیں۔ آج ان کی جینتی منائی جارہی ہے تو وہ کسی حکومت یا پارٹی کا دیا ہوا حق نہیں ہے بلکہ ٹیپو ایک زندہ شخصیت ہے  ٹیپو کی جینتی منانا صرف ایک قوم یا صوبے کے لئے نہیں بلکہ پورے ملک کے لئے فخریہ مقام ہے۔ جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاذ المحترم مولانا محمد اقبال نائطے ندوی نے ان خیالات کا اظہارکیا۔

وہ یہاں 10نومبر 2018بروز سنیچر کو نوائط کالونی کے خوشحال شادی ہال میں تعلقہ انتظامیہ ، تعلقہ پنچایت، بلدیہ اور پٹن پنچایت جالی کے زیرا ہتمام مشترکہ طورپر منعقدہ حضرت ٹیپو سلطان ؒ یوم ِ پیدا ئش پروگرام میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے پُرمغز و اثر انگیز خطاب فرما رہے تھے۔ مولانا نے اپنے مختصر خطاب میں قرآن و احادیث کے حوالوں سے کہاکہ جو اپنی سرزمین ، اپنی جان، اپنے مال اور اپنے خاندان کی حفاظت کے لئے جان قربان کرتاہے وہ شہید کہلاتاہے اور شہید ہمیشہ زندہ رہتاہے، اس معنی میں  ٹیپو نے اپنی جان، مال، سلطنت کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد کو بھی اس ملک کے لئے قربان کیا ہے وہ ہمیشہ زندہ رہے گا۔

مولانا نے کہاکہ حضرت ٹیپو سلطان ؒ  کا بھٹکل سے بھی ایک خاص تعلق رہاہے اس معاملےمیں کوئی جینتی منائے یا نہ منائے بھٹکل والوں کو ضرور منانا چاہئے۔ تاریخ کے پنوں کو پلٹتے ہوئے مولانا نے کہاکہ انگریزوں نے کسی مسلمان ، ہندو کو نہیں لوٹا بلکہ پورے  ملک کو لوٹا ہے انہی انگریزوں کے خلاف سینہ تان کے کھڑے ہوکر دانت کھٹے کرنے والا ٹیپو ایک سچا محب وطن ہے۔اور اگر  کوئی ٹیپو سے دشمنی رکھتا ہے وہ ملک کا دشمن ہوگااور ملک کے لئے  ہندو ہویا مسلم جس  کسی نے بھی  قربانی دی ہے  ملک سے وفاداری کی ہے ہم ان تمام سے محبت کرتے ہیں۔ مولانا نے گاندھی جی کی تحریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا  ٹیپو سلطان  ایک روادار مسلمان تھا، شرنگیری مٹھ اور ہندو برادری کےساتھ جو رویہ ٹیپو کا ہے وہ تاریخ کا ایک سنہر ا باب ہے۔ مولانا نے کہاکہ ٹیپو صرف مسلمانوں کا نہیں تھا بلکہ ہرایک ہندو، عیسائی ، بے کس،  بے بس ،مظلوم اور ہر ہر انسان کا تھا وہ  متعصب نہیں عدل پرور بادشاہ تھا۔ ٹیپو کے دورمیں یہاں مسلمانوں سے زیادہ ہندوآبادی تھی ان کے ساتھ بہتر برتاؤ کرتے ہوئے وہ  وقت  کا مثالی حکمران   تھا۔ مولانا نے زور دے کر کہاکہ ٹیپو نے  کسی ہندو یا مسلم  کو قتل نہیں کیا بلکہ ملک کے  باغیوں کو قتل کیا جن میں ہندو بھی تھے مسلمان بھی ، غرض  جو بھی ملک کی سلامتی ، حفاظت اور ترقی کے لئے روڑہ بنا اس کو قتل کیاکیونکہ وہ ایک سچا محب وطن تھا۔اس کے ساتھ ٹیپو نے سماجی ، صنعتی ، فوجی ،زرعی سمیت کئی ایک میدانوں میں ایسے کارنامے انجام دئیے ہیں جن سے آج بھی استفادہ کیا جارہاہےمولانا نے کہاکہ ٹیپو کی جینتی کو سیاسی مسئلہ نہ بنائیں دراصل اس وقت ملک سپر پاور کی حیثیت رکھتاہے اس کو کمزور کرنے اور توڑنے اور ترقی کی راہوں میں خلل پیدا کرنے  کے لئے  ہندو مسلم میں دشمنی پیدا کرنےکی کوشش کی جارہی ہے ہم تمام متحد رہتے ہوئے اس ملک کی ترقی میں لگے رہیں گے تو ہی ملک ترقی کرنےکاخیال ظاہر کیا۔

کنڑا کے مشہور ادیب اور موظف پروفیسر شری پاد شٹی نے کنڑا میں ٹیپو سلطان کی سیرت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ ٹیپو سلطان  اپنے ضمیر کو گواہ بناتے ہوئے انصاف کی بنیاد پر حکومت کی ہے۔ موت سے خوف نہ کھاتے ہوئے اپنے بچوں کو تک رہن میں رکھنے کے بعد بھی غم کی پرواہ نہ کی اور ہمت و حوصلہ سے انگریزوں کا سامنا کیا۔ اپنی حکمرانی کو بچانے کے لئے دوسرے راجاؤں کی طرح ٹیپو نے بھی پالیسی اپنائی ہوگی مگر ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ وہ کسی دھرم، نسل یا ذات کے خلاف نہیں تھی۔ ٹیکس کے متعلق نئی پالیسی، نئے سکوں کا چلن کرتےہوئے اپنی حکمرانی کو بہتر سے بہتر منظم کرنے کا سہرا ٹیپو کا ہے۔ وہ ایک ماہر زبان تھا جس کو قریب 16زبانوں پر عبور تھا۔

 ضلع پنچایت کی صدر جئے شری موگیر نےٹیپو جینتی پروگرام کا دیا سلائی کے ذریعے افتتاح کرنےکے بعد اپنے خیالات کااظہار کیا۔ ڈائس پر بھٹکل کے اسسٹنٹ کمشنر ساجد ملا، تحصیلدار وی این باڈکر، ڈی وائی ایس پی ویلنٹائن ڈیسوزا، بھٹکل بلدیہ صدر محمد صادق مٹا، جالی پنچایت صدر آدم پنمبور، ضلع پنچایت ممبر سندھو بھاسکرنائک، تعلقہ پنچایت آفیسر جی ایم مرگوڈ، بلدیہ چیف آفیسر وینکٹیش ناؤڈا، جالی پنچایت چیف آفیسر وینوگوپال شاستری ، مجلس اصلاح وتنظیم کے نائب عنایت اللہ شاہ بندری ، جنرل سکریٹری محی الطاف کھروری ، محمد میراں  صدیق، عبدالعظیم ، محمد شفیع وغیرہ موجود تھے۔ تعلیمی وسائل آفیسر یلما نے استقبال کیاتو اقلیتی محکمہ کے آفیسر شمس الدین شیخ نے شکریہ اداکیا۔ استاد سریش آچاریہ اور پرمیشور نائک نے نظامت کی۔ پروگرام میں اسکولی طلبا کے علاوہ کثیر لوگ شریک تھے۔

 

ایک نظر اس پر بھی

کاروار بوٹ حادثہ: زندہ بچنے والوں نے کیا حیرت انگیز انکشاف قریب سے گذرنے والی بوٹوں سے لوگ فوٹوز کھینچتے رہے، مدد نہیں کی؛ حادثے کی وجوہات پر ایک نظر

کاروار ساحل سمندر میں پانچ کیلو میٹر کی دوری پر واقع جزیرہ کورم گڑھ پر سالانہ ہندو مذہبی تہوار منانے کے لئے زائرین کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوبنے کا جو حادثہ پیش آیا ہے اس کے تعلق سے کچھ حقائق اور کچھ متضاد باتیں سامنے آرہی ہیں۔ سب سے چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ کشتی جب  اُلٹ ...

دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ میں علمائے شوافع کی جانب سے فقہی سمینار کا انعقاد ؛ علماء فقہائے شوافع نے حقیقتاً حدیث اور فقہ میں بہت نمایاں کام کیاہے: خالد سیف اللہ رحمانی 

بروز سنیچر 19؍ جنوری مجمع الامام الشافعی العالمی کی جانب سے دو روزہ پہلے فقہی سمینار کا آغاز کیا گیا اس سمینار کا افتتاحی جلسہ صبح 10؍ بجے جامعہ دارالعلوم اسلامیہ عربیہ تلوجہ ممبئی میں منعقد کیا گیا

بھٹکل: ریاست کے مشہور سد گنگامٹھ کے شری کمار سوامی جی کی وفات پر رابطہ ملت اترکنڑا کا اظہار تعزیت

ریاست کے قدآور ، معروف سد گنگا مٹھ کے شری کمار سوامی جی کے دارِ فانی سے کوچ کر جانے پر رابطہ ملت اترکنڑا ضلع کے عہدیداران نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوامی جی ملک کی ایک قوت کی مانند تھے۔

گنگولی کے آراٹے ندی میں غرق ہوکر لاپتہ ہونے والے ماہی گیر کی نعش آج برآمد

یہاں آراٹے ندی میں غرق ہوکر کل رات ایک ماہی گیر لاپتہ ہوگیا تھا، جس کی نعش آج متعلقہ ندی سے برآمد کرلی گئی ہے۔ ماہی گیر کی شناخت آراٹے کڑین باگل کے رہنے والے  کرشنا موگویرا (50) کی حیثیت سے کی گئی ہے۔

کنداپور میں ہوئی چوری کی واردات کے بعد پولس نے گھر میں نوکری کرنے والے میاں بیوی کوکیا گرفتار

کنداور دیہات کے سٹپاڑی کے ایک گھرمیں ہوئی  چوری کے معاملے میں کنداپور دیہی پولس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسی گھر میں کام کرنےو الے میاں بیوی کو صرف دو دنوں میں ہی گرفتار کر کے معاملے کو حل کرنے میں کامیابی حاصل کرلی  ہے۔

پُتور میں پیک آپ کار کی اومنی سے خطرناک ٹکر؛ ایک کی موت، دو شدید زخمی

ماروتی اومنی اور  پیک آپ کے درمیان ہوئی خطرناک ٹکر کے  نتیجے میں اومنی پر سوار ایک شخص کی موت واقع ہوگئی، جبکہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا، حادثے میں پیک آپ کار ڈرائیور کو بھی چوٹیں آئی ہیں ۔ حادثہ منگل صبح مُکوے مسجد کے سامنے   پیش آیا۔

شیرور میں کار کی ٹکر سے بائک سوار کی موت

پڑوسی علاقہ شیرور نیشنل ہائی وے پر ایک کار کی ٹکر میں بائک سوار کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی جس کی شناخت محمد راشد ابن محمد مشتاق (21) کی حیثیت سے کی گئی ہے جو شیرور  بخاری کالونی کا رہنے والا تھا۔

ہائی کمان کہے تو وزارت چھوڑ نے کیلئے بھی تیار : ڈی کے شیو کمار

ریاست میں سیاسی گہما گہمی کا فی تیز ہونے لگی ہے ۔ ایک طرف جہاں کانگریس اور جنتادل( سکیولر) اپنی مخلوط حکومت کو بچانے میں لگے ہیں وہیں بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی ) نے آپریشن کنول کے ذریعہ دیگر پارٹیوں کے اراکین اسمبلی کو خریدکر برسر اقتدار آنے کے حربے جاری رکھے ہیں۔