ہاپوڑ میں ہوئے عوامی ہجوم کے بعد اسٹنگ آپریشن؛ گرفتار ہونے کے بعد ضمانت پر رہا ہونے والے ملزم نے کہا ’وہ گائے کاٹ رہا تھا، میں نے اسے کاٹ دیا‘

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 8th August 2018, 3:01 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ۔8/اگست(ایجنسی/ایس او نیوز) ملک میں ماب لنچنگ کرنے والے ذلیل حرکتوں سے باز نہیں آرہے ہیں۔ اور وہ سماج میں نفرت کی آگ پھیلا کر کتنا فخر محسوس کر رہے ہیں اس کا اندازہ ایک پرائیویٹ چینل کے اسٹنگ آپریشن سے چلتا ہے۔

این ڈی ٹی وی کے ذریعہ کئے گئے اس اسٹنگ آپریشن میں ماب لنچنگ کے الزام میں گرفتار اور پھر ضمانت پر رہا ایک شخص کو فخریہ لہجے میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ ’’وہ گائے کاٹ رہا تھا، میں نے اس کو ہی کاٹ دیا۔‘‘ یہ اسٹنگ آپریشن ہاپوڑ ماب لنچنگ میں قاسم قریشی کی موت سے متعلق کیا گیا۔ این ڈی ٹی وی کی ٹیم نے ہاپوڑ ماب لنچنگ معاملے میں ضمانت پر باہر آئے ملزم راکیش سسودیا کااسٹنگ آپریشن کیا۔چینل کی ٹیم سے بات چیت کے دوران راکیش سسودیا نہ صرف نفرت آمیز جملے بولتا ہے بلکہ اپنا گناہ بھی قبول کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ’’ہاں میں نے جیلر کے سامنے کہا کہ وہ گائے کاٹ رہا تھا ، میں نے اسے کاٹ دیا۔ ‘‘ سسودیا ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتا ہے کہ ’’جب میں ضمانت پر چھوٹ کر جیل سے باہر آیا تو لوگوں نے میرا ہیرو کی طرح گرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا۔ 4۔3 گاڑیا ں مجھے لینے جیل پہنچی تھیں اور لوگوں نے راکیش سسودیا زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ‘‘

سسودیا کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس نے جو جرم کیا اس پر لوگ اس کی سرزنش کرنے کی جگہ بے پناہ محبت دے رہے ہیں اور ماب لنچنگ کے واقعہ کو درست قرار دے رہے ہیں۔ اس کی باتوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کے ذہن میں کس قدر نفرت بھری ہوئی ہے کہ وہ گائے کے نام پر کسی کی جان لینے سے بھی باز نہیں آتے۔ راکیش سسودیا تو یہاں تک کہتے ہیں کہ’’لوگوں نے اپنا بازو پھیلا کر میرا استقبال کیا ، مجھے اس بات پر بڑا فخر محسوس ہوا۔ ‘‘کیا یہ افسوس کا مقام نہیں کہ کسی کا قتل ہو جاتا ہے اور سماج کا ایک طبقہ قاتل کے لئے ’زندہ باد‘ کے نعرے لگاتا ہے اور اس کی اتنی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اپنے اوپر فخر کرنے لگے۔

این ڈی ٹی وی نے اس اسٹنگ کے ذریعہ ایک ایسی حقیقت کو سامنے لا کر رکھ دیا ہے جس کی امید ہم پولس انتظامیہ سے تو شاید کر بھی نہیں سکتے۔

ہاپوڑ ماب لنچنگ کے علاوہ این ڈی ٹی وی نے راجستھان کے الور ضلع میں پہلو خان کی ماب لنچنگ پر بھی اسٹنگ کیا۔ یہ ٹیم الور ضلع کے بہروڈ پہنچی جہا ں اپریل 2017 میں پہلو خان نامی شخص کو پیٹ پیٹ کر ہجوم نے مار ڈالا تھا۔ماب لنچنگ کے اس واقعہ میں بھی پولس نے 9 لوگوں کو گرفتا ر کیا تھا لیکن اس وقت سبھی ملزمین ضمانت پر باہر ہیں۔ پہلو خان کے قتل کے ایک ملزم وپین یادو سے جب چینل کے ایک رکن نے بات چیت کی تو اس نے بھی اپنے جرم کا اعتراف کیا۔

ویپن نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہاں ہم لوگ ڈیڑھ گھنٹے تک پہلو خان کو مسلسل پیٹتے رہے۔ پہلے 10 آدمی آئے پھر 20 اور پھر 500 لوگ جمع ہوگئے۔ ‘‘ وپین نے یہ بھی بتایا کہ متاثرین کی گاڑی کو اس نے ہی اوور ٹیک کرکے روکا تھا اور بعد میں زبردستی گاڑی کی چابی نکال لی تھی۔راکیش سسودیا کا بیان ہو یا پھر ویپن کا، دونوں ہی اپنے عمل پر شرمندہ ہونے کی جگہ خوش اور فخر کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اس طرح کے نظریہ کو سماج کا ایک بڑا طبقہ فروغ دے رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں ماب لنچنگ کے واقعات کا سیلاب آ چکا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اس معاملہ میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو پھٹکار بھی لگائی ہے اور اس سلسلے میں حکومت کو قانون بنانے کی ہدایت بھی دی ہے۔ لیکن مودی حکومت اور دیگر بی جے پی حکمراں ریاستوں میں ہندوتوا پرست غنڈے بے خوف قتل و غارت کا بازار گرم کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

ملک میں آپسی منافرت پھیلانے کی کوشش انتہائی خطرناک: سنجے نروپم

لک میں آپسی منافرت پھیلانے کی کوشش انتہائی خطرناک رخ اختیار کرچکی ہے، جبکہ ڈرانے ودھمکانے کی سرکاری پالیسی کی وجہ سے ایک عام آدمی کے ساتھ ساتھ ہرکوئی فکر مند ہے، اس بات کا اظہار ممبران کانگریس کمیٹی کے صدر اور سینئر لیڈر سنجے نروپم نے آج یہاں علماء ودانشور سے ملاقات کےدوران ...

قانون بنا کر ہو مندر کی تعمیر ورنہ پی ایم بدل دیں گے، توگڑیا کا مودی کو انتباہ

  ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کا مطالبہ کرتے ہویے انتر راشٹریہ ہندو پریشد کے پروین توگڑیا نے اتوار کو مرکز کی نریندر مودی حکومت کو انتباہ دیا ہے کہ اسے اس معاملے کا حل قانون بنا کر کرنا ہوگا ورنہ نتائج ان کے برخلاف ہونگے۔

کشمیر میں مسلح تصادم اور پراسرار دھماکہ۔7شہری ہلاک تقریباً 4 درجن زخمی

مودی حکومت کے دعوے کے برخلاف جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے لارو میں اتوار کو مسلح تصادم کے مقام پر ایک پراسرار دھماکے اور سکیورٹی فورسز کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں 3جنگجو اورعام شہری ہلاک جبکہ قریب4درجن دیگر زخمی ہوگئے ۔