شام کے مستقبل میں بشارالاسد کے لیے کوئی جگہ نہیں:سعودی عرب

Source: S.O. News Service | Published on 7th August 2017, 6:30 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،7اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کی وزارت خارجہ کے ایک سرکاری ذریعے نے کہا ہے کہ بعض میڈیا ذرائع نے وزیر خارجہ عادل الجبیر کے شامی بحران سے متعلق بیان کو توڑ مروڑ کر اور غلط انداز میں پیش کیا ہے۔سعودی پریس ایجنسی نے اس ذریعے کے حوالے سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سعودی عرب کا شامی بحران کے بارے میں پختہ موقف جنیوا اول اعلامیے کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد نمبر 2254پر مبنی ہے۔ان میں شام کا نظم ونسق چلانے کے لیے ایک عبوری حکومت کی تشکیل، ملک کے نئے آئین کے مسودے کی تحریر وتدوین اور شام کے نئے مستقبل کے لیے انتخابات کی تیاری کی بات کی گئی ہے جس میں بشارالاسد کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔اس ذریعے نے سعودی عرب کی جانب سے شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کی حمایت کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شامی حزب اختلاف کے مختلف دھڑوں میں اتحاد کے ذریعے اس کمیٹی کے شرکاء کی تعداد بڑھائی جاسکتی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

یمن : حوثیوں کے لیے کام کرنے والے ایرانی جاسوس عرب اتحاد کے نشانے پر

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے لڑاکا طیاروں نے تعز شہر کے مشرقی حصّے میں جاسوسی کے ایک مرکز کو نشانہ بنایا۔ اس مرکز میں ایرانی ماہرین بھی موجود ہوتے ہیں جو باغی حوثی ملیشیا کے لیے کام کرتے ہیں۔

شاہ سلمان اور صدر السیسی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ

سعودی عرب کے فرمانروا خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے درمیان ٹیلیفون پر رابطہ ہوا ہے۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے مصر کی سلامتی اور استحکام کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔