مغرب شام میں فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے مضمرات کاسنجیدہ جائزہ لے: روس

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th April 2018, 1:04 PM | عالمی خبریں |

ماسکو13اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) روس نے مغرب پر زوردیا ہے کہ وہ شام کے خلاف فوجی کارروائی کی دھمکیوں کے مضمرات کا سنجیدگی سے جائزہ لے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروفا نے جمعرات کو ماسکو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ہم عالمی برادری کے ارکان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کے الزامات ، دھمکیوں اور بالخصوص (شام کے خلاف) کسی کارروائی کے ممکنہ مضمرات پر سنجیدگی سے غور کریں۔انھوں نے کہا کہ’’ کسی نے بھی مغربی لیڈروں کو بیک وقت عالمی پولیس ، تحقیقات کار ، پراسیکیوشن،جج اور سزا پر عمل درآمد کرنے والے کا کردار نہیں سونپا ہے۔ہمارا اس ضمن میں موقف بڑا واضح اور متعین ہے۔ ہم کشیدگی نہیں چاہتے ہیں ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدھ کو ایک سخت بیان کے بعد سے شام میں مغرب اور روس کے درمیان براہ راست محاذ آرائی کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں روس کو خبردار کیا تھا کہ ’’وہ تیار رہے ، امریکا شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا جواب دینے کی تیاری کررہا ہے۔انھوں نے لکھا تھا:’’ روس نے شام پر فائر کیے جانے والے تمام میزائلوں کو مارگرانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔روس تیار ہوجائے کیونکہ وہ آئیں گے،وہ بالکل نئے اور اسمارٹ ہوں گے۔آپ کو گیس سے ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے جو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کررہا ہے اور اس پر خوشی کا اظہار کررہا ہے۔انھوں نے جمعرات کی صبح ایک ٹویٹ میں لکھا ہے:’’ کبھی یہ نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہوگا۔یہ بہت جلد بھی ہوسکتا ہے اور بہت جلد نہیں بھی ہوسکتا۔امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ روس شام میں کیمیائی ہتھیاروں کو موجود رکھنے کا ذمے دار ہے۔انھوں نے شام کے خلاف حملے سے قبل کانگریس کی قیادت سے روابط کا وعدہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ امریکی فوج مناسب حال فوجی آپشنز مہیا کرنے کے لیے تیار ہے۔امریکی حکومت کے دو ذرائع نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کو بتایا کہ امریکا کے پاس شام میں استعمال کیے گئے کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں ابھی تک 100 فی صد ٹھوس شواہد نہیں ہیں کہ وہ کیسے تھے اور کہاں سے آئے تھے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ بعض شواہد ایسے سامنے آئے ہیں کہ زہریلی اعصابی گیس کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سپرے کیا گیا تھا۔دریں اثناء برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ اسدی حکومت کے تحت فورسز بڑے ہوائی اڈے اور فوجی اڈے خالی کررہی ہیں۔ شامی فوج بعض فضائی اثاثے بھی محفوظ مقامات پر منتقل کررہی ہے تاکہ ممکنہ میزائل حملوں میں ان کی تباہی سے بچا جاسکے۔فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے آج ایک بیان میں کہا ہے کہ ان کے پاس اس امر کے شواہد موجود ہیں کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تھے اور وہ مناسب وقت پر ان کا جواب دیں گے۔انھوں نے کہا کہ شامی حکومت نے کلورین گیس سے حملے کیے ہیں۔انھوں نے ایک ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فرانس ایسے نظاموں سے کوئی رو رعایت نہیں برتے گا جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں ہر چیز اور ہر کام کی آزادی حاصل ہے۔تاہم انھوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا فرانس شام کے خلاف کسی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔صدر ماکروں کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس ہفتے کے دوران میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے سب سے موثر ردعمل کے بارے میں مسلسل گفتگو کی ہے۔انھوں نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ فرانس کشیدگی میں اضافے کی اجازت نہیں دے گا،جس سے خطے کے استحکام کو نقصان پہنچے۔انھوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ فرانس شام کی کیمیائی ہتھیاروں کی صلاحیت کو ہدف بنائے گا۔برطانیہ کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ شام کے خلاف امریکا کی ممکنہ فوجی کارروائی کی حمایت کرے گا جبکہ جرمنی کا کہنا ہے کہ وہ ممکنہ فوجی کارروائی کی حمایت نہیں کرے گا۔جرمن چانسلر اینجیلا میرکل نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم ہر اس چیز کی حمایت کرتے ہیں جو یہ ظاہر کرنے کے لیے کی جارہی ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔ شامی حزب اختلاف کے کارکنان اور طبی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ہفتے کے روز دوما میں مبینہ گیس حملے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔انھوں نے شامی فوج پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا الزام عاید کیا تھا لیکن شامی حکومت نے اس کی تردید کردی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

شمالی کوریا میزائل ٹیسٹ سائٹ کو بند کر دے گا: صدر مون

جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے میزائل لانچ اور ٹیسٹ کرنے کے ایک مرکز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔شمالی کوریا کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں دونوں ممالک کے صدور کے درمیان ملاقات کے بعد صدر مون نے کہا کہ انھوں نے کم جونگ اُن کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے ...

افغانی اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو پاکستان کی شہریت دیں گےعمران خان

پاکستان میں جو بچے پیدا ہوئے ہیں، ان کو شہریت دی جائے گی۔پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت پاکستان میں پیدا ہوئے تمام افغانی اوربنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو شہریت فراہم کرے گی۔ ایکسپریس ٹریبیونل کی خبر کے مطابق حکومت بنانے کے بعد اتوار کو اپنے پہلے دورے ...

امریکا 2019 میں 30 ہزار پناہ گزین قبول کرے گا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پیر کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ آئندہ برس کے لیے پناہ گزین پروگرام کے سلسلے میں پناہ گزینوں کی حد 30 ہزار مقرر کی گئی ہے۔