متنازع بیان کےلیے مشہوروزیر اعلی یوگی نے اب کہا، اجودھیا میں مندر تھا ، ہے اور رہے گا ، یوگی نے رام کی عالیشان مورتی نصب کرنے کا بھی کیا اعلان

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 7th November 2018, 10:56 PM | ملکی خبریں |

لکھنؤ، 7؍نومبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) بھلے ہی ملک کی اعلیٰ عدالت نے بابری مسجد کے تعلق سے اپنا فیصلہ نہیں سنایا ہو، مگر اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے رام مندر کی تعمیر پر اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ ایودھیا میں پہلے سے ہی ایک مندر ہے، مندر تھا اور مندر رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ  سبھی متبادل کھلے ہیں ، لیکن حل قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے نکالا جائے گا۔

 فیض آباد کا نام بدل کر اجودھیا کرنے کے دوسرے دن آدتیہ ناتھ نے اجودھیا میں رام کی ایک عالیشان مورتی نصب کرنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ یہ مورتھی  اجودھیا کی شناخت بنے گی ۔

وزیر اعلی یوگی نے ہنومان گڑھی مندر میں پرارتھنا کے بعد صحافیوں سے کہا کہ انہوں نے دو جگہوں کو رام مورتی نصب کرنے کیلئے منتخب کیا ہے۔مزید کہا کہ مورتی کی تعمیر کرانے پر وہ غور کررہے ہیں ۔ ہم مستقبل میں  اس پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ وزیر اعلی نے بتایا کہ  ہم اس پروجیکٹ پر آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اس سلسلہ میں آرکیٹکٹوں سے کئی مشورے مانگے گئے ہیں ۔ 

انہوں نے مزید کہا کہ ایک وزیر اعلیٰ ہونے کے ناطے میرا فرض اور ذمہ داری ہے کہ صوبہ کے سبھی مقامات کی ترقی ہو،اس کیلئے میں پرعزم ہوں۔اس سے نہ صرف ٹورزم کو فروغ ملے گا بلکہ روزگار بھی ملے گا۔دیوالی اجودھیا کی دین ہے۔پورا ملک پرشوتم رام کی وجہ سے یہ تہوار مناتاہے۔

ایک نظر اس پر بھی