سعودی عرب میں کسی خاتون کو پہلا ڈرائیونگ لائسنس 66 برس قبل ملا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 1st October 2017, 10:49 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،یکم اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بہت سے لوگوں کے لیے یہ بات دل چسپی اور حیرت سے خالی نہ ہوگی کہ سعودی عرب میں کسی خاتون کو گاڑی چلانے کے لیے پہلا ڈرائیونگ لائسنس 1378 ہجری میں مملکت کے شہر مجمعہ میں وہاں کے قاضی (جج) شیخ علی بن سلیمان الرومی نے پیش کیا۔سعودی تاریخ داں عبدالکریم الحقیل نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ انہوں نے یہ قصّہ خود شیخ ابن ابن رومی سے سْنا تھا جو 1423 ہجری میں وفات پا گئے۔تفصیلات کے مطابق اْس وقت ایک نابینا شخص ہوا کرتا تھا جس کی دو بیٹیاں تھیں۔ ان میں ایک بیٹی گاڑی چلا کر اپنے باپ کو مجمعہ کے بازار لے کر آتی تھی جہاں وہ اپنی اشیاء4 کو فروخت کیا کرتا تھا۔ الحقیل کے مطابق اْس وقت بازار کے لوگ اس امر کو انتہائی معیوب سمجھتے تھے کہ ایک خاتون کس طرح گاڑی چلا سکتی ہے۔الحقیل نے مزید بتایا کہ "بازار کے لوگ نابینا شخص اور اس کی بیٹیوں کو شہر کے قاضی علی الرومی کے پاس لے گئے۔ قاضی نے نابینا شخص کے تمام تر حالات اور بیٹی کے گاڑی چلانے کی مجبوری اور ضرورت کو سْنا اور پھر اس شخص کی بیٹی کو گاڑی چلانے کی اجازت دے دی۔ شرعی قاضی علی الرومی نے نہ صرف اس خاتون کو ڈرائیونگ کی اجازت دی بلکہ بازار والوں کے سامنے یہ بات بھی واضح کی کہ ایسی کوئی شرعی بنیاد نہیں جس کے سبب خواتین کے لیے گاڑی چلانا ممنوع قرار دیا جائے۔سعودی تاریخ داں کے مطابق "اس طرح مجمعہ شہر کے قاضی شیخ علی الرومی وہ پہلی شخصیت ہیں جس نے سعودی عرب میں کسی خاتون کو گاڑی چلانے کی سرکاری طور پر اجازت دی۔ یہ شیخ رحمہ اللہ کے علم اور ان کی فقہی بصارت سے متعلق معاملہ تھا"۔عبدالکریم الحقیل کا کہنا ہے کہ جزیرہ عرب میں ایسے کئی مثالیں ملتی ہیں جب ابتدا میں کسی چیز کو علماء کرام نے ممنوع قرار دیا تاہم بعد ازاں لوگوں نے اس کو اپنا لیا اور پھر وہ امور عوام کی روز مرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔

ایک نظر اس پر بھی

سعودی کے نئے قانون سے ہندوستانی عوام سخت پریشان؛ 15 ماہ میں 7.2 لاکھ غیر ملکی ملازمین نے سعودی عربیہ کو کیا گُڈ بائی؛ بھٹکل کے سینکڑوں لوگ بھی ملک واپس جانے پر مجبور

سعودی عرب میں ویز ے کے متعلق نئے قانون کا نفاذ ہوتے ہی بھٹکل کے ہزاروں لو گ اپنی صنعت کاری، تجارت اور ملازمت کو الوداع کہتے ہوئے وطن واپس لوٹنے پر مجبورہوگئے  ہیں۔ اترکنڑا ضلع کے اس خوب صورت شہر بھٹکل کے  قریب 5000 لوگ سعودی عربیہ میں برسر روزگار تھے جن میں سے کئی لوگ واپس بھٹکل ...

بھٹکل مسلم جماعت بحرین کا خوبصورت عید ملین پروگرام 

بھٹکل مسلم جماعت بحرین نے 28/جون 2018ء کو عید ملن کی تقریب مشہور ڈپلومیٹ ریڈیشن بلو(Diplomat  Radssion  Blu) فائیو اسٹار ہوٹل میں بنایا۔ محفل کاآغاز تقریباً رات 10بجے عزیزم محمد اسعدابن محمدالطاف مصباح کی خوبصورت قرآن سے ہوا۔ محمد عاکف ابن محمد الطاف مصباح نے قرآن کاانگریزی ترجمہ پیش ...

بھٹکل :صحافتی میدان کے بے لوث اورمخلص خادم  ساحل آن لائن کے مینجنگ ایڈیٹر  ایوارڈ کے لئے منتخب

اترکنڑا ضلع ورکنگ جرنالسٹ اسوسی ایشن کی طرف سے دئیے جانےو الےمعروف ’’جی ایس ہیگڈے  اجِّبل ‘‘ ایوارڈ کے لئے اپنی جوانی کی ابتدائی  عمر سے ہی سوشیل میڈیا کے ذریعے صحافت کی دنیا میں قدم رکھتے ہوئے ایمانداری کے ساتھ قوم وملت کی بے لوث اور مخلصانہ خدمات انجام دینے والے ساحل آن ...

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ پر پابندی ختم

سعودی خواتین پر لگی ڈرائیونگ  کی پابندی ختم ہوتے ہی خواتین رات کے بارہ بجتے ہی جشن مناتے ہوئے  سڑکوں پر نکل آئیں اور کار میں بلند آواز میں میوزک چلاکر  شہروں کا چکر لگاتے ہوئے اس پابندی کے خاتمے کا خیر مقدم کیا۔

بھٹکل کمیونٹی جدہ کا عید ملن یکم شوال کو تزک و احتشام سے منایا گیا

یکم شوال 15 جون 2018کو  جدہ شہر کے بیچوں بیچ بہت ہی خوبصورت پاریس ہال میں بی سی جدہ کے ممبران کے لئے عید ملن منعقد ہوا. کثیر تعداد میں ممبران اور مہمانان بھی شریک ہوئے. پروگرام کا اغاز مولوی عفان ادیاور کی خوش آواز تلاوت کلام پاک سے ہوا.