داخلہ اور خارجہ پالیسی کا مقصد امن کا حصول ہے: عمران خان

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 7th October 2018, 9:10 PM | عالمی خبریں |

اسلام آباد 7اکتوبر ( آئی این ایس انڈیا ؍ایس او نیوز) پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ہفتہ 6 اکتوبر کے روز وزیراعظم عمران خان نے ملکی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا ایک اہم دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم کو ملک میں قیام امن کی مجموعی صورتحال، سی پیک کی سیکیورٹی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے کام کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کی صدارت میں کوئٹہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں فوجی سربراہ سمیت وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی اور وفاقی وزرا نے بھی شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’موجودہ حکومت زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے تمام معاملات پر توجہ دے رہی ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی اور دفاعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہماری پالیسی بہت واضح ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے۔ پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی کا اولین حصہ ہے۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پروزیر اعظم نے ملک بھر اور بالخصوص شورش زدہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمیان کا اظہار کیا۔پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے مطابق خطے میں پائیدار امن اور سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام ہمسایہ ممالک کو مل کر اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ہفتہ 6 اکتوبر کے روز وزیراعظم عمران خان نے ملکی فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے ہمراہ جنوب مغربی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کا ایک اہم دورہ کیا۔ دورے کے دوران وزیراعظم کو ملک میں قیام امن کی مجموعی صورتحال، سی پیک کی سیکیورٹی، غیر ملکی سرمایہ کاری اور پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے کام کی پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم کی صدارت میں کوئٹہ میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں فوجی سربراہ سمیت وزیراعلیٰ بلوچستان، صوبائی اور وفاقی وزرا نے بھی شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’موجودہ حکومت زمینی حقائق کو دیکھتے ہوئے تمام معاملات پر توجہ دے رہی ہے۔ بدلتے ہوئے سیاسی اور دفاعی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہماری پالیسی بہت واضح ہے۔ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے۔ پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنا ہماری داخلہ اور خارجہ پالیسی کا اولین حصہ ہے۔ذرائع کے مطابق اعلیٰ سطحی اجلاس کے موقع پروزیر اعظم نے ملک بھر اور بالخصوص شورش زدہ بلوچستان میں قیام امن کے لیے کیے گئے اقدامات پر اطمیان کا اظہار کیا۔ عمران خان نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت کو عوام نے جو مینڈیٹ دیا ہے، اس پر کسی بھی صورت کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اورملک میں معاشی استحکام اور پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔اجلاس کے دوران فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک چائنا اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک) کی کامیابی کے لیے 'سیکیورٹی کا خصوصی نظام مرتب کیا گیا ہے۔ ان کے بقول پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کر رہا ہے اور خیبر پختونخوا کے بعد بلوچستان کے شورش زدہ علاقوں میں بھی قیام امن کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں ان کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔خطے کے بدلتے ہوئے حالات پر نظر رکھنے والے کوئٹہ میں مقیم سیاسی امور کے ماہر فرمان رحمٰن کہتے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کی خارجہ اور داخلہ پالیسوں کا محور ان بحرانوں سے نکلنا ہے جو کہ سابقہ حکومتوں کی ناکام خارجہ پالیسیوں کی وجہ سے ملک کو درپیش ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ سابقہ ادروار میں سول اور فوجی ادارے ہمیشہ اختلافات کا شکار رہے ہیں۔ ماضی کی حکومتیں اختیارات نہ ہونے کا رونا روتی رہی ہیں لیکن موجودہ جمہوری دور میں یہ توقع ضرور کی جا سکتی ہے کہ اگر حکومت کوئی فیصلہ کرے گی تو اس میں فوجی حمایت بھی شامل ہو گی۔

ایک نظر اس پر بھی

امریکی رپورٹ کا خلاصہ؛ ہندوستان کی حکومت مسلم مخالف ! مسلم اداروں کے خلاف اقدامات؛ بی جے پی قائدین کی اشتعال انگیز تقاریر کا سلسلہ جاری؛ شہروں کے مسلم نام بدلنے کا بھی حوالہ

مذہبی آزادی سے متعلق  امریکہ کے اسٹیٹ  ڈپارٹمنٹ کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان میں ہجومی تشدد، تبدیلی مذہب کی صورتحال، اقلیتوں کے قانونی موقف اور سرکاری پالیسیوں کا احاطہ کیا گیا  ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ  ہندوستان میں سال 2018 کے دوران ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے ...

امریکہ اور ایران کے درمیان حالات انتہائی دھماکہ خیز ،خطے میں جنگ کا خطرہ،ہندوستان سمیت مختلف ممالک نے کیاہرمز سے پروازوں کا ر استہ تبدیل، سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس

گزشتہ چنددنوں سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں اس وقت مزید شدت آگئی جب ایران نے امریکہ کے ڈرون کو مارگرایا۔

امریکہ کی طرف سے ہندوستان کو دھمکی روس سے ڈیل کی صورت میں دفاعی امداد محدود ہوجائے گی

امریکہ کی وزارت خارجہ کی افسر ایلس جی ویلس نے جمعہ کو کہا کہ ان کا ملک ہندوستان کی دفاعی ضروریات پورا کرنے کے لئے تیار ہے، لیکن روسی ایس-400 نظام اس میں رکاوٹ بن رہا ہے- ہندوستان-روس ڈیل سے امریکہ کا تعاون محدود کردیا جائے گا -