ڈھونگی بابا کے چنگل میں پھنسی ایک لڑکی کا وہ خط جس نے گرمیت رام رحیم کی پول کھولی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 27th August 2017, 11:44 AM | اسپیشل رپورٹس | ملکی خبریں |

(یہ خط اس ڈھونگی بابا کے چنگل میں پھنسی ایک لڑکی نے اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی کو لکھا تھا۔ اسی خط کی بنیاد پر سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے رام رحیم کو زانی قرار دیا۔) 

بخدمت :

محترم وزیر اعظم جناب اٹل بہاری واجپئی، حکومت ہند

موضوع: ڈیرے کے مہاراج کے ذریعے سینکڑوں لڑکیوں کی عصمت دری کی جانچ پڑتال کرنے کی درخواست 

جناب عالی! 

عرض یہ ہے کہ میں پنجاب کی رہنے والی ہوں اور اب پانچ سال سے ڈیرہ سچا سودا سرسا، ہریانہ (دھن دھن ست گرو تیرا ہی آسرا) میں سادھوی کے طور پر خدمت کر رہی ہوں۔  میرے ساتھ یہاں سینکڑوں لڑکیاں ڈیرے میں 18، 18 گھنٹے  خدمت کرتی ہیں۔  ہمارا یہاں جسمانی طور پر استحصال کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی ڈیرے کے مہاراج گرمیت سنگھ کے ذریعے جنسی استحصال (عصمت دری) کیا جا رہا ہے۔ میں بی اے پاس لڑکی ہوں۔  میرے خاندان کے لوگ مہاراج کے اندھے عقیدت مند ہیں، جن کے ایما پر میں ڈیرے میں سادھوی بنی تھی۔

سادھوی بننے کے دو سال بعد ایک دن مہاراج گرمیت کی شاگردہ سادھوی گرجوت نے رات 10 بجے مجھے بتایا کہ آپ کو پتا جی نے غار (مہاراج کے رہنے کا مقام) میں بلایا ہے۔ کیونکہ میں پہلی بار وہاں جا رہی تھی، میں بہت خوش تھی۔  یہ سوچ کر کہ  آج خدا نے مجھے بلایا ہے۔  جب میں غار میں پہنچی تو دیکھا کہ مہاراج بستر پر بیٹھے ہیں۔  ہاتھ میں ایک ریموٹ ہے، سامنے بلو فلم ٹی وی پر چل رہی ہے۔  بستر کے سرہانے ایک ریوالور رکھا ہوا ہے۔  میں یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئی۔  مجھے چکر آنے لگے، میرے پیر کے نیچے کی زمین کھسک گئی۔ یہ کیا ہو رہا ہے؟ مہاراج ایسے ہوں گے میں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔  مہاراج نے ٹی وی کو بند کیا اور مجھے ساتھ بٹھاکر پانی پلایا اور کہا کہ میں نے تمہیں اپنی خاص پیاری سمجھ کر بلایا ہے۔  یہ میرا پہلا دن تھا۔

مہاراج نے مجھے باہوں میں لیتے ہوئے کہا ہم تجھے دل سے چاہتے ہیں۔  تمہارے ساتھ محبت کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ تم نے ہمارے ساتھ سادھوی بنتے وقت تن من دھن سب ست گرو کے لیے قربان کرنے کو کہا تھا۔  تو اب یہ تن من ہمارا ہے۔  میرے مخالفت کرنے پر انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ہی خدا ہیں۔

جب میں نے پوچھا کہ کیا یہ خدا کا کام ہے تو انہوں نے کہا - شری کرشن بھگوان تھے، ان کے یہاں 360 گوپياں تھیں جن سے وہ ہر روز پیار محبت کرتے تھے۔ پھربھی لوگ ان کو پرماتما مانتے  ہیں، یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔  اگر ہم چاہیں تو تمہاری زندگی اس ریوالور سے ختم کر سکتے ہیں۔  تمہارے خاندان والے ہم  پر ایسا یقین رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے غلام ہیں۔ وہ ہمارے دائرے سے باہر نہیں جا سکتے یہ تم اچھی طرح جانتی ہو۔  حکومت میں ہماری بہت چلتی ہے۔

ہریانہ اور پنجاب کے وزیر اعلی، پنجاب کے مرکزی وزیر ہمارے پیر چھوتے ہیں۔  سیاستداں ہم سے اپنی تائید کرواتے ہیں، پیسہ کماتے ہیں اور ہمارے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔ ہم تمہارے خاندان کے نوکری یافتہ تمام افراد کو برخاست کروا دیں گے، سبھی افراد کو اپنے خدمت گاروں (غنڈوں)  سے مروا دیں گے۔ ثبوت بھی نہیں چھوڑیں گے۔یہ تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم نے غنڈوں سے پہلے بھی ڈیرے کے انتظام کار فقیر چند کو ختم کروا دیا تھا جن کا اتہ پتہ تک نہیں ہے۔  اور کوئی ثبوت نہیں ہے۔ پیسے کی بدولت ہم سیاست دانوں، پولیس اور قانون کو خرید لیں گے۔  اس طرح میرا منہ کالا کیا اور گزشتہ تین ماہ میں 20-30 دن کے وقفے سے مسلسل کیا جا رہا ہے۔

آج مجھے پتہ چلا کہ مجھ سے پہلے جو لڑکیاں رہتی تھیں، ان سب کے ساتھ منہ کالا کیا گیا ہے۔  ڈیرے میں موجود 35-40 سادھوی لڑکیاں 35-40 سال کی عمر سے زیادہ ہیں جو شادی کی عمر سے آگے نکل چکی ہیں۔ جنہوں نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔  ان میں زیادہ تر لڑکیاں بی اے، ایم اے، بی ایڈ، ایم۔ فل پاس ہیں، مگر گھر والوں کی اندھی عقیدت کی وجہ سے جہنم کی زندگی گزار رہی ہیں۔

ہمیں سفید لباس پہننے ، سر پر چنّی رکھنے، کسی آدمی کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھنے ، آدمی سے 5-10 فٹ دور رہنے کے مہاراج کی جانب سے احکامات ہیں ، دکھاوے کے طور پر ہم دیوی ہیں، لیکن ہماری حالت طوائفوں کی طرح ہے۔

میں نے ایک دفعہ اپنے گھر والوں کو بتایا کہ ڈیرے میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے، میرے گھر والے ناراض ہو گئے اور غصے میں کہنے لگے کہ اگر بھگوان کے ساتھ رہتے ہوئے ٹھیک نہیں ہے تو پھر ٹھیک کہاں ہے؟ تمہارے دماغ میں غلط خیالات آنے شروع ہو گئے ہیں، ست گورو کو  یاد کیا کر۔ میںمجبور ہوں۔ یہاں ست گرو کا حکم ماننا پڑتا ہے۔  یہاں دو لڑکیاں ایک دوسرے سے بات بھی نہیں کرسکتی ہیں۔  گھر والوں کو ٹیلی فون ملا کر گفتگو نہیں کرسکتیں، گھر والوں کا ہمارے نام فون آئے تو مہاراج کے حکم کے مطابق ہمیں بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔   اگر لڑکی ڈیرے کی اس حقیقت کے بارے میں بات کرتی ہے تو پھر مہاراج کا حکم ہے کہ اس کا منہ بند کروا دو۔

پچھلے دنوں جب بٹھنڈا  کی ایک سادھو لڑکی نے تمام لڑکیوں کے سامنے  مہاراج کی کالی کرتوتوں کو بے نقاب کیا تو کئی سادھو لڑکیوں نے اسے مل کر پیٹا، جو آج بھی اس پٹائی کے باعث بستر پر پڑی ہے۔ جس کے باپ نے رضاکاروں سے نام کٹوا کر چپ چاپ گھر بٹھا دیا ہے، جو چاہتے ہوئے بھی بدنامی اور مہاراج کے ڈر سے کسی کو کچھ نہیں بتا رہی ہے۔

 کرکشیتر ضلع کی ایک سادھو لڑکی جو گھر آ گئی ہے , اُسنےاپنے گھر والوں کو سب کچھ سچ بتا دیا ہے۔ اُسکا بھائی بڑا رضاکار تھا، جو کہ خدمت چھوڑکر ڈیرے سے ناطہ توڑ چکا ہے۔سنگرور ضلع کی ایک لڑکی جس نے گھر آکر پڑوسیوں کو ڈیرے کی کالی کرتوتوں کے بارے میں بتایا تو ڈیرے کے رضاکار / غنڈے بندوقوں سے لیس لڑکی کے گھر آ گئے۔  گھر کےاندر سے کنڈی لگا کر جان سےمارنےکی دھمکی دی اور مستقبل میں کسی سےکچھ بھی نہیں بتانے کو کہا۔ اسی طرح کئی لڑکیاں جیسےکہ ضلع مانسا (پنجاب) , فیروز پور , پٹیالا , لدھیانہ کی ہیں . جو گھر جاکر بھی چپ ہیں کیونکہ اُنہیں جان کا خطرہ ہے۔ اسی طرح ضلع سرسا , حسار , فتح آباد , ھنمان گڑہ , میرٹھ کی کئی لڑکیاں جو کہ ڈیرے کی غنڈہ گردی کےآگے کچھ نہیں بول رہیں۔

 لہذا آپ سے گزارش ہے کہ ان سب لڑکیوں کےساتھ ساتھ مجھے بھی میرےخاندان کےساتھ جان سےمار دیا جائیگا اگر میں یہاں اپنا نام پتہ لکھونگی۔ کیونکہ میں چپ نہیں رہ سکتی اور نا ہی مرنا چاہتی ہوں۔  عوام کے سامنے سچائی لانا چاہتی ہوں۔  اگر آپ پریس کے ذریعے کسی بھی ایجینسی سےجانچ کروائیں تو ڈیرے میں موجود 40 - 45 لڑکیاں جو کہ دہشت زدہ اور ڈری ہوئی ہیں پورا یقین دلانے کے بعد سچائی بتانےکو تیار ہیں۔ ہمارا ڈاکٹری معاینہ کیا جائے تاکہ ہمارے سرپرستوں کو اور آپکو پتہ چل جائیگا کہ ہم کنواری دیوی سادھو ہیں یا نہیں۔  اگر نہیں تو کس کے ذریعے برباد ہوئی ہیں۔  یہ بتا دیں گے کہ مہاراج گرمیت رام رحیم سنگھ جی،سنت ڈیرا سچا سودا کے ذریعے تباہ کی گئی ہیں ۔

 درخواست کنندہ : ایک بے قصور ذلت کی زندگی جینےکو مجبور

 (ڈیرا سچا سودا، سِرسا) 

ایک نظر اس پر بھی

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

بلقیس بانو کیس۔ انصاف کی جدوجہد کا ایک سنگ میل ......... آز: ایڈووکیٹ ابوبکرسباق سبحانی

سترہ سال کی ایک لمبی اور طویل عدالتی جدوجہد کے بعد بلقیس بانو کو ہمارے ملک کی عدالت عالیہ سے انصاف حاصل کرنے میں فتح حاصل ہوئی جس فتح کا اعلان کرتے ہوئے عدالت عالیہ (سپریم کورٹ آف انڈیا) نے گجرات سرکار کو حکم دیا کہ وہ بلقیس بانو کو پچاس لاکھ روپے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری نوکری ...

بھٹکل کے نشیبی علاقوں میں کنووں کے ساتھ شرابی ندی بھی سوکھ گئی؛ کیا ذمہ داران شرابی ندی کو گٹر میں تبدیل ہونے سے روک پائیں گے ؟

ایک طرف شدت کی گرمی سے بھٹکل کے عوام پریشان ہیں تو وہیں پانی کی قلت سے  عوام دوہری پریشانی میں مبتلا ہیں، بلندی والے بعض علاقوں میں گرمی کے موسم میں کنووں میں پانی  کی قلت  یا کنووں کا سوکھ جانا   عام بات تھی، مگر اس بار غالباً پہلی بار نشیبی علاقوں میں  بھی پانی کی شدید قلت ...

مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

اب انگلش میڈیم کے سرکاری اسکول ؛ انگریزی میڈیم پڑھانے والے والدین کے لئے خوشخبری۔ ضلع شمالی کینرا میں ہوگا 26سرکاری انگلش میڈیم اسکولوں کا آغاز

سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے داخلے میں کمی اور والدین کی طرف سے انگلش میڈیم اسکولوں میں اپنے بچوں کے داخلے کے رجحان کو دیکھتے ہوئے اب سرکاری اسکولوں میں بھی انگلش میڈیم کی سہولت فراہم کرنے کا منصوبہ بنایاگیا ہے۔

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

مودی جی کا پرگیہ سنگھ ٹھاکور سے لاتعلقی ظاہر کرنا ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کا دہشت گردی سے ۔۔۔۔ دکن ہیرالڈ میں شائع    ایک فکر انگیز مضمون

 وزیر اعظم نریندرا مودی کا کہنا ہے کہ وہ مہاتما گاندھی کے قاتل ناتھو رام گوڈسے کو دیش بھکت قرار دیتے ہوئے ”باپو کی بے عزتی“ کرنے کے معاملے پر پرگیہ ٹھاکورکو”کبھی بھی معاف نہیں کرسکیں گے۔“امیت شاہ کہتے ہیں کہ پرگیہ ٹھاکور نے جو کچھ کہا ہے(اور یونین اسکلس منسٹر اننت کمار ہیگڈے ...

لوک سبھا انتخابات؛ آخری مراحل کے انتخابات جاری؛ 918 اُمیدواروں کی قسمت داو پر؛ ای وی ایم میں خرابی کی شکایتیں؛ بنگال میں دو کاروں پر حملہ

لوک سبھا انتخابات کے ساتویں  اور آخری مرحلہ کے لئے اتوار کی صبح 7 بجے سے ووٹنگ جاری ہے۔جس میں  918 امیدواروں کی قسمت دائو پر لگی ہوئی ہے۔آج جاری انتخابات میں  وزیر اعظم نریندر مودی کا حلقہ انتخاب وارانسی بھی شامل ہے۔ 

دہشت گرد ہر مذہب میں ہیں: کمل ہاسن

تنازعات میں گھرے اداکار لیڈر کمل ہاسن نے جمعہ کو کہا کہ ہر مذہب میں دہشت گرد ہوتے ہیں اور کوئی بھی اپنے مذہب کوبہترین ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔

بی جے پی کو280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی، این ڈی اے کی سیٹیں 300 سے متجاوز ہوں گی: پی مرلیدھر راؤ

بی جے پی لیڈر رام مادھو کے تخمینے کو مسترد کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر پی مرلیدھر راؤ نے کہا کہ بھگوا پارٹی کو 280 سے زیادہ سیٹیں ملیں گی جبکہ این ڈی اے کے سیٹوں کی تعداد 300 کے پار ہوں گی۔

مالیگاؤں 2008بم دھماکہ معاملہ: اے ٹی ایس کی عدالت سے غیر حاضری کے معاملے میں عدالت کا دخل دینے سے انکار

مالیگاؤں 2008 بم دھماکہ متاثرین جانب سے خصوصی این آئی اے عدالت میں داخل عرضداشت جس میں اس معاملے کی سب سے پہلے تفتیش کرنے والی تفتیشی ایجنسی ATSکی عدالت سے غیرحاضری پر سوال اٹھایا گیا تھا کو عدالت نے یہ کہتے ہوئے خارج کردیا کہ اے ٹی ایس کو پابند کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے ...