سلامتی کونسل کے 15 ارکان برما، بنگلہ دیش اور عراق کا دورہ کریں گے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th April 2018, 1:00 PM | عالمی خبریں |

نیویارک13اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا)اقوام متحدہ کے مطابق عالمی سلامتی کونسل کے 15 ارکان 26 اپریل سے 2 مئی تک برما، بنگلہ دیش اور عراق کا دورہ کریں گے۔سلامتی کونسل کئی ماہ سے برما کا دورہ کرنے کے لیے کوشاں ہے جہاں روہنگیا اقلیت سے تعلق رکھنے والے 7 لاکھ افراد اگست 2017 سے فرار ہو کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ یہ نقل مکانی برما کی فوج کی جانب سے کیے جانے والے فوجی آپریشن کے سبب عمل میں آئی۔ اقوام متحدہ نے اس آپریشن کو نسلی تطہیر قرار دیا ہے۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس پر لازم ہے کہ برما کا بحران حل کرنے کے لیے ایک خصوصی ایلچی مقرر کریں۔سلامتی کونسل کے رکن سفیروں کے برما کے صوبے راکھین میں جانے کے حوالے سے ایک سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ "حقائق کی روشنی میں یہ معاملہ بڑا پیچیدہ ہے۔ ہم ہیلی کاپٹر کے ذریعے اس علاقے پر پرواز کا مطالبہ کریں گے"۔ یاد رہے کہ برما کی فوج پر الزام ہے کہ اس نے راخین میں روہنگیا اقلیت کے خلاف وحشیانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا۔ایک دوسرے سفارت کار کے مطابق برما کے دورے کا مقصد پناہ گزینوں کے رہنے کے حالات کو بہتر بنانا، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنا اور روہینگا مسلم اقلیت کو ان کی شناخت اور حقوق دینے کے حوالے سے کوفی انان کے منصوبے پر برما کے حکام کے ساتھ بات چیت کرنا ہے۔سلامتی کونسل کے ارکان کے عراق کے دورے کا مقصد 12 مئی کو مقررہ انتخابات کے لیے اقوام متحدہ کی سپورٹ کا اظہار ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نیویارک کے مرکزی علاقے میں زیر زمین بھاپ پائپ لائن پھٹنے سے دھماکے

نیویارک شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کی گلیوں میں زیر زمین گزرنے والا ایک ہائی پریشر بھاپ کا پائپ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ففتھ ایونیو کے مرکز میں واقع ایک سوراخ سے بھاپ نکل کر ہوا میں پھیلنا شروع ہو گئی۔

ترک بچوں اور خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا خود ساختہ مذہبی رہنما گرفتار

استنبول کی ایک عدالت نے بزعم خود ایک اسلامی فرقے کے رہنما اور ٹی وی پر تبلیغ کرنے والی شخصیت عدنان اوکتار کو 115 دیگر پیروکاروں سمیت مختلف الزامات کی مزید تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدنان اوکتار پر جرائم پیشہ گینگ قائم کرنے، دھوکادہی اور جنسی استحصال کے الزامات ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے مظاہرین کی حمایت کردی ،نئی حکومت کی تشکیل مُوَخَّر کرنے کا مطالبہ

عراق کے سرکردہ شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے ملک کے جنوبی صوبوں میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی حمایت کردی ہے او ر تمام متعلقہ سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے بہتری شہری خدما ت کی فراہمی کے مطالبات پورے ہونے تک نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیں ۔