15600 اساتذہ کا تقرر عنقریب: وزیر تعلیمات این مہیش

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th July 2018, 11:32 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍جولائی(ایس او نیوز)ریاستی وزیر برائے بنیادی وثانوی تعلیمات این مہیش نے آج اسمبلی کو بتایا کہ سرکاری ، پرائمری اور ہائی اسکولوں میں15600 مہمان اساتذہ کا تقرر عنقریب کیا جائے گا۔

وقفۂ سوالات میں سبھاش گتے دار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پرائمری اسکولوں میں اساتذہ کی 2500 اور ہائی اسکولوں میں 3100 اسامیاں خالی ہیں۔ان اسامیوں کو پر کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے دس ہزار پرائمری اسکول ٹیچروں کے تقرر کے لئے پہل کی جارہی ہے۔اس عمل کی تکمیل کے بعد مہمان اساتذہ کا تقرر از خود ختم ہوجائے گا۔

وزیر موصوف نے بتایا کہ ریاست بھر کے 58 سرکاری پی یو کالجوں میں طلبا کی تعداد دس سے کم ہے، ان کالجوں کے طلبا کو دوسرے کالجوں میں منتقل کردیا جائے گا۔ اس سلسلے میں حکمران اور اپوزیشن پارٹیوں کی طرف سے اعتراض کے بعد وزیر موصوف نے بتایاکہ کالجوں کی منتقلی طلبا کی سہولت کی بنیاد پر کی جائے گی۔ خاص طور پر انہوں نے بتایاکہ مضافات بنگلور میں جن کالجوں کو ایک دوسرے میں ضم کیا جارہا ہے اس سے طلبا کو پریشانی کاسامنا نہ کرنے یہ یقینی بنانے محکمے کو سخت ہدایت دی گئی ہے۔ 
 

ایک نظر اس پر بھی

جنوبی ہند کے مشہور ومعروف عالم دین حضرت مولانا زکریا والا جاہی کا انتقال

نوبی ہند کے مشہور ومعروف،ممتاز جیدعالم دین زکریا صاحب والا جاہی طویل علالت کے بعد آج صبح 10؍بجے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ مولانا کو شیواجی نگرکے براڈوے کی ان کی رہائش پر آخری دیدار کے لئے رکھا گیا تھا۔

یڈیورپا میرے صبر کا امتحان نہ لیں؛ حکومت کو گرانے کی بارہا کوشش بی جے پی کو زیب نہیں دیتی: کمار سوامی کا بیان

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے ریاستی بی جے پی صدر یڈیورپا کو متنبہ کیا ہے کہ بارہا ریاستی حکومت کو گرانے کی کوشش کرکے وہ ان کے صبر کا امتحان نہ لیں۔اگر یہ کوشش جاری رہی تو یڈیورپا کو اس کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

ارکان اسمبلی کو خریدنے کی کوشش پرسدرامیا نے کہا؛ اپوزیشن کار ول ادا کرنے کی بجائے بی جے پی بے شرمی پر اتر آئی ہے

سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی  حکمران اتحاد کی رابطہ کمیٹی کے چیرمین سدرامیا نے کہا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کو ایک تعمیری اپوزیشن پارٹی کا رول ادا کرنا چاہئے، لیکن ایسا کرنے کے  بجائے انتہائی بے شرمی سے یہ پارٹی ریاستی حکومت کو گرانے کی کوششوں کو اپنا معمول بناچکی ہے۔