کلبرگی میں درجہ حرارت 42.9 ڈگری درج

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 18th May 2017, 1:35 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو:17/مئی (یواین آئی) بنگلورکے محکمہ موسمیات کے دفتر کی جانب سے درج کردہ مشاہدات کے مطابق کرناٹک کے دور دراز کے بعض مقامات پر بارش ہوئی جب کہ ساحلی کرناٹک میں موسم خشک رہا۔کنکاپور میں 6' کے آر نگر میں 4' سری رنگاپٹنم ' مانڈیا میں فی کس 3' الکٹرانک سٹی ' انیکل ' چنا پٹنہ میں فی کس 2' میسورو ' کے آر ساگر میں فی کس ایک سنٹی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ شمالی کرناٹک کے دور دراز علاقوں میں اعظم ترین درجہ حرارت میں بتدریج اضافہ ہوا ہے۔ساحلی کرناٹک میں کئی مقامات پر اس میں بتدریج اضافہ دیکھا گیا۔ جنوبی دور دراز کرناٹک کے بعض مقامات پر بھی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا۔یہ ریاست کے چند مقامات پر معمول سے زائد رہا۔ کلبرگی میں اعظم ترین درجہ حرارت 42.9ڈگری سیلسیس درج کیا گیا۔محکمہ موسمیات نے اپنے بلیٹن میں کہا کہ اڈوپی ' اضلاع ' بیدر ' کلبرگی ' یادگیر ' باگل کوٹ ' بنگلور رورل ' بیدر ' کلبرگی ' یادگیر ' باگل کوٹ ' ہاسن ' مانڈیا ' میسورو' چامراج نگر میں ہلکی تا اوسط بارش کا امکان ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

اسکولی بچوں کے سوشیل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی،پابندی پامال کرنے والوں کو اسکول سے نکال دینے کی تاکید

ریاستی محکمۂ تعلیمات نے کمسن ذہنوں پر سوشیل میڈیا کے اثرات کو دیکھتے ہوئے سختی سے یہ فرمان جاری کیا ہے کہ 13سال کی عمر تک کے بچوں کو سوشیل میڈیا کا استعمال کرنے کی اجازت قطعاً نہ دی جائے۔

مودی حکومت کے انسداد گؤ کشی قانون کو کمار سوامی نے قرار دیا خوش آئند: گائیوں کی دیکھ بھال کیلئے مراکز قائم کرنے کا بھی مشورہ

مرکزی حکومت کی طرف سے کل ملک بھر میں لاگو کئے گئے انسداد گؤ کشی قانون کا سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی جنتادل(ایس) صدر ایچ ڈی کمار سوامی نے خیر مقدم کیااور کہاکہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ اس قانون کو نافذ کرنے کے ساتھ ملک بھر میں گائیوں کی دیکھ بھال کیلئے مراکز قائم کرے۔

موسلادھار بارش کی وجہ سے شہر میں عام زندگی متاثر،نشیبی علاقے زیر آب ، دوسو سے زائد درخت اور متعدد بجلی کے کھمبے زمین بوس

شہر میں کل رات ہوئی زبردست بارش کے سبب 200 سے زائد مقامات پر درخت اور بجلی کے کھمبے اکھڑگئے اور ساتھ ہی نہ صرف نشیبی علاقے بلکہ چند مشہور ومعروف سرکاری اور دیگر عمارتوں میں بھی بارش کا پانی گھس آیا۔