ٹیلی گرام شدت پسندی سے متعلق مواد کی روک تھام کرنے پرمتفق

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 16th July 2017, 8:49 PM | عالمی خبریں |

کوالالمپور16جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سماجی رابطوں کی ایک ایپلیکیشن ٹیلی گرام نے ان ماہرین پرمشتمل ایک ٹیم بنانے کو کہاہے جوانڈونیشیا کی زبان و ثقافت سے واقفیت رکھتے ہیں تاکہ وہ شدت پسندی سے متعلق موادکوبہت تیزی کے ساتھ ٹیلی گرام سے ہٹاسکے۔ٹیلی گرام کے شریک بانی کی طرف سے یہ اعلان انڈونیشیا کی طرف سے ایپلیکیشن تک رسائی محدود کرنے اور اسے مکمل طور بند کرنے کے انتباہ کے بعد سامنے آیا ہے۔

پیول دروف جنھوں نے اپنے بھائی نکولائی کے ساتھ مل کر 2013میں یہ ایپلیکشن بنائی تھی،نے ٹیلی گرام پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ انڈونیشیا کی حکومت کی درخواست کا فوری جواب نا دینے کے معاملے سے آگاہ نہیں ہیں جس میں انہوں نے ایپلیکشن استعمال کرنے والے متعدد چیٹ گروپس کو بند کرنے کا کہا تھا جو مبینہ طور پر متنازع مواد پوسٹ کر رہے تھے۔

انڈونیشیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت نے گزشتہ ہفتے متنبہ کیا تھا کہ اگر ٹیلی گرام نے غیر قانونی مواد کو بلاک کرنے کا طریقہ کار وضع نا کیا تو وہ اپنے ملک میں اس ایپلیکیشن کو بند کر سکتی ہے جہاں اس کو استعمال کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں بتائی جاتی ہے۔انڈونیشیا کے حکام نے ایک جزوی اقدام کے طور پر انٹرنیٹ کمپنیوں کو ملک میں ایسے 11 ٹیلی گرام اکاؤنٹ کو بند کرنے کی ہدایت کی ہے جو ویب سائٹس کے ذریعے ٹیلی گرام کی ایپلیکیشن تک رسائی فراہم کر رہی ہیں۔

انڈونیشیا کی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کی وزارت کے عہدیدار سیموئیل پینگرپان نے کہا کہ اس ایپلیکیشن کے ذریعے بعض افراد مبینہ طور انڈونیشیا کے شہریوں کو عسکریت پسند گروپوں میں بھرتی کرنے اور نفرت انگیز مواد اور عسکری حملے کرنے کے طریقوں کی تشہیر کرتے ہیں۔انڈونیشیا کی پولیس نے حال ہی میں متعدد مشتبہ عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس نے حکام کو بتایا تھا کہ یہ افراد نے ٹیلی گرام کے ذریعے سے ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔دورف نے کہا کہ ٹیلی گرام نے ان چینلز کو بند کر دیا ہے جن کے بارے میں انڈونیشیا کی حکومت نے انہیں مطلع کیا تھا کہ وہ مبینہ طور پر متنازع موادکی تشہیرکر رہے ہیں۔دورف نے مزید کہا کہ ٹیلی گرام ہر ماہ ایسے ہزاروں چینلز کو بند کرتی ہے جن کا تعلق مبینہ طور داعش سے ہوتا ہے اور یہ "ہمیشہ ا ن خیالات کو سننے پر تیار ہے تا کہ اس معاملے سے کیسے بہتر طور پر نمٹاجاسکتاہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

مسلم خواتین کے لیے حلال جنسی گائیڈ پر تنازع

اس موضوع پر شائع ہونے والی ایک کتاب ای کامرس ویب سائٹ ایمیزون پر فروخت ہو رہی ہے اور اس کی اشاعت پر تنازع شروع ہو گیا ہے۔دی مسلمہ سیکس مینیوئل(اے حلال گائیڈ ٹو مائنڈ بلوئنگ سیکس)کے نام سے شائع ہونے والی کتاب کی مصنفہ نے اپنا نام