کانگریس۔ ٹی آر ایس کا دعوی: تلنگانہ کا مینڈیٹ ہمارے حق میں آئے گا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 6th December 2018, 8:44 PM | ملکی خبریں |

حیدرآباد،06؍ دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) ٹی آر ایس اور کانگریس زیرقیادت اپوزیشن اتحاد نے جمعرات کو دعوی کیا کہ تلنگانہ کا مینڈیٹ ان کے حق میں آئے گا۔119 رکنی اسمبلی کے لئے کل پولنگ ہوگی۔اس انتخاب میں بی جے پی اور ٹی آر ایس الگ الگ انتخابی میدان میں ہیں۔لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے لیڈر بی ونود کمار نے کہاکہ ہم مکمل اکثریت سے جیتنے جا رہے ہیں۔لوگ ہمارے ساتھ ہیں۔یہ یکطرفہ جیت ہوگی۔ ہم دو تہائی اکثریت سے جیت جائیں گے۔کریم نگر سے لوک سبھا کے ایم پی نے دعوی کیا کہ گزشتہ ساڑھے چار سالوں میں لوگوں نے کے سی آرکے کاموں کی تعریف کی ہے۔ٹی آر ایس کو چیلنج (جن مورچہ ) سے مل رہا ہے۔ کانگریس، تلگودیشم پارٹی، تلنگانہ جن سمیٹی اور بھارتی کمیونسٹ پارٹی نے مل کر اتحاد بنایا ہے۔تلنگانہ کے کانگریس انچارج آر سی کھنٹیا نے کہا کہ گروپ کو 80 سے زائد سیٹیں ملیں گی۔سی پی آئی کے جنرل سکریٹری ایس سدھاکر ریڈی نے اسے سخت مقابلہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ پرجاکٹمی کی جیت کو لے کر ہم پر اعتماد ہیں۔ریڈی نے کہا کہ انتخابی مہم میں کافی تعداد میں لوگوں کے اکٹھاہونے اور ووٹروں کے جوش و جذبے کو دیکھتے ہوئے اپوزیشن پارٹی کا حوصلہ کم ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ گروپ کے ارکان نے زیادہ تر مقامات پر زمین کی سطح پر متحد ہوکر کام کیا۔سال 2014 کے انتخابات میں ٹی ڈی پی کے ساتھ اتحاد میں پانچ سیٹیں جیتنے والی بی جے پی نے کہا کہ اس سے اس بات کا یقین ہوا کہ تلنگانہ انتخابات میں مقابلہ سہ رخی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

وزیراعظم مودی نے کابینہ سمیت سونپا صدرجمہوریہ کو استعفیٰ، 30 مئی کو دوبارہ حلف لینےکا امکان

لوک سبھا الیکشن کے نتائج کے بعد جمعہ کی شام نریندرمودی نے وزیراعظم عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔ ان کے ساتھ  ہی سبھی وزرا نے بھی صدرجمہوریہ کواپنا استعفیٰ سونپا۔ صدر جمہوریہ نےاستعفیٰ منظورکرتےہوئےسبھی سے نئی حکومت کی تشکیل تک کام کاج سنبھالنےکی اپیل کی، جسے وزیراعظم نےقبول ...

نوجوت سنگھ سدھوکی مشکلوں میں اضافہ، امریندر سنگھ نے کابینہ سے باہرکرنے کے لئے راہل گاندھی سے کیا مطالبہ

لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست کا سامنا کرنے والی کانگریس میں اب اندرونی انتشار کھل کرباہرآنے لگی ہے۔ پہلےسے الزام جھیل رہے نوجوت سنگھ سدھو کی مشکلوں میں اضافہ ہونےلگا ہے۔ اب نوجوت سنگھ کوکابینہ سےہٹانےکی قواعد نے زورپکڑلیا ہے۔

اعظم گڑھ میں ہارنے کے بعد نروہوا نے اکھلیش یادو پر کسا طنز، لکھا، آئے تو مودی ہی

بھوجپوری سپر اسٹار نروہوا (دنیش لال یادو) نے لوک سبھا انتخابات کے دوران سیاست میں ڈبیو کیا تھا،وہ بی جے پی کے ٹکٹ پر یوپی کی ہائی پروفائل سیٹ اعظم گڑھ سے انتخابی میدان میں اترے تھے لیکن اترپردیش کے سابق وزیر اعلی اکھلیش یادو کے سامنے نروہا ٹک نہیں پائے۔