کرپشن الزامات کے بعد تہران کے اصلاح پسند میئر مستعفی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 11th April 2018, 4:54 PM | عالمی خبریں |

تہران 11اپریل(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) ایران کے دارالحکومت تہران کی بلدیہ نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شہر کے میئر نے مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ذرائع کے مطابق تہران بلدیہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سبکدوش ہونے والے میئر اصلاح پسند رہ نما محمد علی نجفی کو استعفیٰ نہ دینے کی صورت میں گرفتار کرنے کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس کے بعد انہوں نے رضاکارانہ طورپر میئر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔تاہم گذشتہ برس مئی میں میئر کا عہدہ سنبھالنے والے علی نجفی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بیماری کے باعث استعفیٰ دیا ہے اور انہیں طویل علاج کی ضرورت ہے تاہم انہوں نے بیماری کی وضاحت نہیں کی۔بلدیہ کے دیگر عہدیداروں اور ان کے جانشینوں کا کہنا ہے کہ علی نجفی کو کرپشن کے الزامات کی بناء پر عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔ ایران کے بنیاد پرست حلقوں کی طرف سے ان پربدعنوانی کا الزام عاید کیا گیا تھا۔بلدیہ کے ایک سینیر رکن مرتضیٰ الفیری کا کہنا ہے کہ محمد علی نجفی سے ایک رات پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر میں پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔الفیری نے اپنے ویدیو بیان میں کہا ہے کہ علی نجفی کے ساتھ نامناسب اور غیر مہذبانہ انداز میں بات کی گئی۔ انہیں رات کو سوتے ہوئے اٹھا کر پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر لے جایا گیا۔ میں نے سنا ہے کہ انہیں گرفتار کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔خیال رہے کہ محمد علی نجفی کا شمار ایران کے اصلاح پسند اور اعتدال پسند رہ نماؤں میں ہوتا جب کہ وہ ملک کے انتہا پسند حلقوں کی طرف سے ہمیشہ تنقید کی زد میں رہے ہیں۔گذشتہ ماہ ایران میں خواتین کے قومی دن کے موقع پر انہوں نے بلدیہ کے زیراہتمام ایک محفل کا انعقاد کیا جس میں اسکول کی بچیوں نے روایتی رقص پیش کیا تھا۔ ایران کے بنیاد پرست حلقوں نے اسے غیراسلامی اور غیراخلاقی تقریب قرار دیتے ہوئے علی نجفی کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

شام: یرموک کیمپ میں 24 گھنٹوں کے دوران 5 افراد جاں بحق

شام کے دارالحکومت دمشق کے جنوب میں داعش تنظیم کے زیر قبضہ الیرموک کیمپ اور دیگر ملحقہ علاقوں پر بشار کی فوج کی بم باری اور گولہ باری کے نتیجے میں گزشتہ 24 کے دوران پانچ افراد جاں بحق ہو گئے جن میں تین افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔