5؍ہزارسرکاری اسکول اساتذہ کو نومبرکی تنخواہ نہیں ملے گی

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th November 2017, 11:17 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،12/نومبر(ایس او نیوز) 5؍ہزار سے زائد سرکاری اسکول کے اساتذہ کو نومبر کی تنخواہ نہیں ملے گی۔ محکمہ تعلیمات عامہ نے طے کیاہے کہ ماہانہ دوسو روپئے کا خصوصی بھتہ جو ان اساتذہ کو 2008ء سے دیاجارہاہے اس کو واپس حاصل کرنے کے لئے یہ رقم اس مہینہ کی تنخواہ سے وضع کی جائے گی۔ ریاستی حکومت نے پرائمری اسکول اساتذہ کے لئے خصوصی بھتہ 2006ء میں منظور کیا تھا۔ بعد ازاں یہ بھتہ بڑھاکر پرائمری اسکول اساتذہ کے لئے ماہانہ 300؍روپئے، سکینڈری اساتذہ کے لئے ماہانہ 400؍روپئے اور پی یوسی لکچررز کے لئے ماہانہ 500؍روپئے کردیاگیاتھا۔ لیکن 2008ء میں پرائمری اسکول اساتذہ کے لئے اور 2014ء میں سکینڈری اسکول اساتذہ اور پی یو سی لکچررس کے لئے اس خصوصی بھتہ کا حکمنامہ منسوخ کردیا گیا اس کے باوجود اساتذہ کو یہ بھتہ دیا جارہاتھا۔ سی اے جی کی سرکاری جانچ میں اس بات کا خلاصہ کیا گیاہے۔ ایک اور سرکاری جانچ میں پتہ چلا ہے کہ 1557پرائمری اسکول اساتذہ سے افزود خصوصی بھتہ کے 127؍لاکھ روپئے، 3789؍سکینڈری اسکول اساتذہ سے 512؍لاکھ روپئے اور 1896؍پی یو سی لکچررس سے 193؍لاکھ روپئے حکومت موصول ہونے ہیں۔ ایسے اساتذہ کا تعلق زیادہ تر بلاری، بلگاوی، بیدر، وجیاپور، داونگیرے، ٹمکور، ہاسن اور منڈیا اضلاع سے ہے۔ کرناٹکا پرائمری اسکول ٹیچرس اسوسی ایشن کے صدر بسواراج گریکر نے بتایاکہ اس ضمن میں ہم نے تعلیمات عامہ کے کمشنر اور محکمہ کے اعلیٰ افسروں سے رابطہ کیاہے اور درخواست کی ہے کہ اگر ممکن ہوتو اس خصوصی بھتہ کو جاری رکھاجائے۔ اتنی بڑی رقم کو وضع کرنے کے لئے تنخواہ میں کٹوتی کرنے سے اساتذہ اور ان کے کنبوں کے لئے مشکلات پیداہوں گی۔ ایک سرکاری اسکول ٹیچر نے بتایاکہ پورے ایک مہینہ کی تنخواہ روک لئے جانے کی بجائے یہ رقم قسطوں میں وضع کی جائے تو بہتر ہوگا۔

ایک نظر اس پر بھی

ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم زوروں پر

پانچ حلقوں کے ضمنی انتخابات کے لئے انتخابی مہم دن بہ دن شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ شیموگہ منڈیا اور بلاری لوک سبھا حلقوں اور رام نگرم اور جمکھنڈی اسمبلی حلقوں کے لئے کانگریس جے ڈی ایس اور بی جے پی اپنے اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔

کوئلے کی فراہمی نہ ہونے کے سبب بیشتر پاور پلانٹوں میں کام بند، دیوالی تہوار سے ریاست میں لوڈ شیڈنگ کا امکان

روشنیوں کا تہوار کہلانے والے دیوالی کااہتمام کرناٹک میں اندھیروں کے ساتھ کرنے کے خدشات پیدا ہوچکے ہیں، کیونکہ ریاست میں بجلی کے ترسیل کے اہم ترین ذرائع سمجھے جانے والے تھرمل پاور پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لئے درکار کوئلہ نہیں ہے۔

کابینہ میں ردوبدل کا موضوع پھر ابھرنے لگا، 6؍ نومبر کوراہل گاندھی کے ساتھ ریاستی قائدین کی میٹنگ

ضمنی انتخابات کے بعد ریاستی کابینہ میں ردوبدل اور سرکاری بورڈز اور کارپوریشنوں کے لئے چیرمینوں کے تقرر کے واضح اشاروں کے درمیان کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے ریاستی قائدین کو پولنگ کے فوراً بعد دہلی آنے کی ہدایت دی گئی ہے۔