اے پی کو خصوصی درجہ کامطالبہ۔تیلگودیشم ممبران پارلیمنٹ کا احتجاج

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 3rd January 2019, 8:34 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی3جنوری(ایس او نیوز؍یواین آئی) اے پی کو خصوصی ریاست کادرجہ دینے کے مطالبہ پر ریاست کی حکمران جماعت تیلگودیشم کے ارکان پارلیمنٹ نے آج پارلیمنٹ میں گاندھی جی کے مجسمہ کے سامنے پلے کارڈس کے ساتھ احتجاج کیا۔ا ن ارکان پارلیمنٹ نے واضح کیا کہ ریاست سے مرکزی حکومت کے انصاف تک یہ احتجاج جاری رہے گااور مرکزکی ریاست سے شدید ناانصافیوں کو اجاگر کیا جائے گا۔ان ممبران پارلیمنٹ نے ریاست سے انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارٹی کے ان احتجاجی ارکان پارلیمنٹ نے اے پی کو خصوصی درجہ مرکز کی جانب سے نہ دیئے جانے اور اے پی سے انصاف نہ کرنے پر مودی زیرقیادت مرکزی حکومت پرشدید نکتہ چینی کی۔انہوں نے کہا کہ اے پی تنظیم نو قانون میں جو وعدے کئے گئے تھے ، ان تمام وعدوں پر عمل کیا جائے ۔ساتھ ہی پولاروم پروجیکٹ کیلئے مرکز سے وصول طلب فنڈس جاری کئے جائیں۔ضلع کڑپہ میں اسٹیل پلانٹ کا قیام عمل میں لایا جائے ۔انہوں نے کہاکہ اے پی کے لئے علاحدہ ریلوے زون کا بھی مرکزی حکومت کی جانب سے قیام عمل میں لایاجانا چاہئے ۔ان تمام مطالبات کی تکمیل تک یہ احتجاج جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں جو وعدے اے پی کے ساتھ کئے گئے تھے ، ان وعدوں پر عمل کیاجانا چاہئے ۔سابق مرکزی وزیر و پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اشوک گجپتی راجو نے اے پی سے انصاف کیلئے پارلیمنٹ میں کئے گئے وعدوں پر عمل نہ کرنے پر مودی زیرقیادت مرکزکی بی جے پی حکومت پر شدید نکتہ چینی کی۔انہوں نے کہاکہ ان وعدوں پر عمل کرنے کی ذمہ داری حکومت کی ہے ۔

ایک نظر اس پر بھی

اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کا اُمیدوارکون ؟ راہول گاندھی، مایاوتی یا ممتا بنرجی ؟

آنے والے لوک سبھا انتخابات میں اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے عہدے کا اُمیدوار کون ہوگا اس سوال کا جواب ہرکوئی تلاش کررہا ہے، ایسے میں سابق وزیر خارجہ اور کانگریس کے سابق سنئیر لیڈر نٹور سنگھ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ  اس وقت بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سربراہ مایاوتی ...

مدھیہ پردیش میں 5روپے، 13روپے کی ہوئی قرض معافی، کسانوں نے کہا،اتنی کی تو ہم بیڑی پی جاتے ہیں

مدھیہ پردیش میں جے کسان زراعت منصوبہ کے تحت کسانوں کے قرض معافی کے فارم بھرنے لگے ہیں لیکن کسانوں کو اس فہرست سے لیکن جوفہرست سرکاری دفاترمیں چپکائی جارہی ہے اس سے کسان کافی پریشان ہیں،