کابل حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی: افغان طالبان 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 31st December 2018, 12:43 PM | عالمی خبریں |

کابل31دسمبر ( ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) افغان طالبان نے ایک مرتبہ پھر زور دے کر کہا ہے کہ وہ کابل حکومت کے ساتھ براہ راست امن مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ بتایا گیا ہے کہ کابل حکام نے طالبان کو اگلے ماہ بات چیت کی دعوت دی تھی۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق افغان طالبان کے ایک سینیئر رہنما نے کہا ہے کہ وہ جنوری 2019ء4 میں سعودی عرب میں امریکی نمائندوں سے تو ملاقات کریں گے مگر کابل حکام سے نہیں، ’’ہم نے تمام فریقین پر واضح کر دیا تھا کہ کابل حکومت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔طالبان قائدین کی فیصلہ ساز کونسل کے اس رکن نے مزید بتایا کہ اگلے برس سعودی عرب میں ہونے والے امن مذاکرات میں ان موضوعات کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی، جو ابوظہبی بات چیت میں نا مکمل رہ گئے تھے۔اس موقع پر طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی کابل حکومت سے بات چیت نہ کرنے کے فیصلے کی تصدیق کی ہے۔ اسی برس طالبان کے نمائندوں کی امریکی خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد سے ملاقاتوں کے شروع ہونے کے بعد سے اس مسئلے کا سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں میں تیزی آئی ہے۔ابھی تک اس طرح کے تین اجلاس ہو چکے ہیں، جس میں افغانستان سے بین الاقومی دستوں کا انخلا اور 2019میں فائر بندی جیسے موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جا چکا ہے۔امریکہ کی جانب سے ابھی حال ہی میں افغانستان میں تعینات فوجیوں کی تعداد کم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ طالبان کا اصرار ہے کہ امریکا کے ساتھ معاہدہ ہونے کے بعد ہی بات چیت آگے بڑھے گی۔ تاہم امریکا کا موقف ہے کہ اس مسئلے کا کوئی حتمی حل افغانوں کی جانب سے سامنے آنا چاہیے۔طالبان کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کے ستر فیصد حصے پر قابض ہیں۔ صدر اشرف غنی کے ایک قریبی ساتھی نے بتایا کہ حکومت طالبان کے ساتھ براہ راست رابطوں کی بحالی کی کوششوں میں ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

انڈونیشیا میں سیلاب اور تودے سے مرنے والوں کی تعداد 89 ہوئی

  انڈونیشیا کے مشرقی علاقے پاپوا میں سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 89 ہو گئی ہے اور لاپتہ 74 لوگوں کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن چلایا جا رہا ہے۔ راحت رسانی مہم میں مصروف حکام نے منگل کو یہاں یہ اطلاع دی۔

پاکستان جیسے دوست ملک سے امریکہ کو ’خارش ‘ ہونے لگی : پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کے لیے بڑا خطرہ ہے: مائیک پومپیو

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اتوار کو ایک انٹرویو میں امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔