شام: اسد فوج نے کلورین گیس کا استعمال کیا، اقوام متحدہ کی تصدیق

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 8th July 2018, 1:34 PM | عالمی خبریں |

نیویارک،8؍جولائی (ایجنسی) اقوام متحدہ نے شام میں ایک برس قبل اسد رجیم کی جانب سے کلورین گیس کے استعمال کی تصدیق کر دی، دوما میں اعصابی گیس کے استعمال کا کوئی ثبوت موجود نہیں البتہ شامی فوج کی طرف سے استعمال کردہ اسلحہ کی باقیات میں کلورین گیس کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ نے ایک سال قبل شام کے شہر دوما میں اسد رجیم کی جانب سے شہریوں کے خلاف کیمیائی گیس کلورین کے استعمالکی تصدیق کردی ہے۔ اقوام متحدہ کی کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی ذمہ دار ایجنسی نےدمشق کے شمالی قصبے دوما میں اپریل 2017 کو کیے گئے ایک کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی تھی۔ ماہرین پر مشتمل اس کمیٹی نے کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد کہا ہے کہ اسد رجیم دوما میں شہریوں پر کلورینگیس کے استعمال کی مرتکب ہوئی تھی۔یو این ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہمیں دوما میں اعصابی گیس کے استعمالکے شواہد نہیں ملے مگر کلورین گیس کے استعمال کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین نے دوما میں ہونے والے کیمیائی حملوں کے بعد 7 مقامات سے کوئی ایک سو سے زاید نمونے جمع کیے تھے۔ یہ نمونے اپریل میں ہونے والے کیمیائی حملے کے دو ہفتے بعد حاصل کیے گئے تھے۔تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوما میں اعصابی گیس کے استعمال کا کوئی ثبوت موجود نہیں البتہ شامی فوج کی طرف سے استعمالکردہ اسلحہ کی باقیات میں کلورین گیس کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔طبی ماہرین اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی فوج کی طرف سے دوما میں ایک گیس بیرل بم گرایا گیا تھا جس کے نتیجے میں 40 افراد دم گھٹنے سے ہلاک ہوگئے تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

گولان پہاڑیوں کے قریب باغیوں کے ٹھکانوں پر شام کا قبضہ

شام کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے صدر بشار الاسد کی وفادار فورسز نے ملک کے جنوب مغرب میں باغیوں کے ٹھکانوں کے خلاف اپنی پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے فوجی اہمیت کی ایک چوٹی تل الحارہ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے جہاں سے اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔

افغانستان میں داعش نے 20 افراد اور طالبان نے 9 پولیس اہل کار ہلاک کر دیے

داعش کے ایک خودکش بمبار نے منگل کے روز شمالی افغانستان میں دھماکہ کر کے 20 افراد کو ہلاک کر دیا جن میں ایک طالبان کمانڈر بھی شامل ہے۔ جب کہ جنوبی صوبے ہلمند میں ایک سرکاری کمانڈو یونٹ نے طالبان کی جیل سے 54 لوگوں کو آزاد کر ا دیا۔