بشار حکومت کو روکنے کے لیے عالمی برادری جواب وضع کرے: ٹرمپ اور مے کا اتّفاق

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th April 2018, 12:51 PM | عالمی خبریں |

لندن 13اپریل (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا) برطانوی وزیراعظم کے دفتر کے ایک اعلان کے مطابق تھیریسا مے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے کے لیے بین الاقوامی ردّ عمل کی ضرورت پر اتفاق رائے ہوا ہے۔اس حوالے سے جمعرات کے روز جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مے کی حکومت کے ارکان نے شامی حکومت کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کے مسئلے سے نمٹنے کی تائید کی ہے۔ بیان کے مطابق دونوں سربراہان نے زور دیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کو بنا کسی جواب اور سدّ باب کے نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ادھر وائٹ ہاؤس کے ایک اعلان کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کی صورت حال کے حوالے سے جمعرات کے روز قومی سلامتی سے متعلق اپنی ٹیم سے ملاقات کی تاہم ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ۔وائٹ ہاؤس کے بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس سلسلے میں معلومات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور امریکا کے شراکت داروں اور حلیفوں سے بات چیت کی جا رہی ہے۔اس سے قبل امریکی ذمے داران نے بتایا تھا کہ انہوں نے شام میں حملے کا شکار ہونے والے افراد کے پیشاب اور خون کے نمونے حاصل کیے تھے جن سے کلورین گیس اور نَرو ایجنٹ کی موجودگی کی تصدیق ہوتی ہے۔دوسری جانب ایوان نمائندگان کے اسپیکر نے باور کرایا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ شام کے خلاف بین الاقوامی جوابی کارروائی کی قیادت کریں۔ ٹرمپ نے جمعرات کے روز واضح کیا کہ انہوں نے حملے کا وقت طے نہیں کیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ قطعی طور پر حملہ عنقریب ہو سکتا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

نیویارک کے مرکزی علاقے میں زیر زمین بھاپ پائپ لائن پھٹنے سے دھماکے

نیویارک شہر کے فائر ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ مین ہیٹن کی گلیوں میں زیر زمین گزرنے والا ایک ہائی پریشر بھاپ کا پائپ پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ففتھ ایونیو کے مرکز میں واقع ایک سوراخ سے بھاپ نکل کر ہوا میں پھیلنا شروع ہو گئی۔

ترک بچوں اور خواتین کا جنسی استحصال کرنے والا خود ساختہ مذہبی رہنما گرفتار

استنبول کی ایک عدالت نے بزعم خود ایک اسلامی فرقے کے رہنما اور ٹی وی پر تبلیغ کرنے والی شخصیت عدنان اوکتار کو 115 دیگر پیروکاروں سمیت مختلف الزامات کی مزید تفتیش کے لئے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ عدنان اوکتار پر جرائم پیشہ گینگ قائم کرنے، دھوکادہی اور جنسی استحصال کے الزامات ہیں۔

مقتدیٰ الصدر نے مظاہرین کی حمایت کردی ،نئی حکومت کی تشکیل مُوَخَّر کرنے کا مطالبہ

عراق کے سرکردہ شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے ملک کے جنوبی صوبوں میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کی حمایت کردی ہے او ر تمام متعلقہ سیاست دانوں پر زور دیا ہے کہ وہ مظاہرین کے بہتری شہری خدما ت کی فراہمی کے مطالبات پورے ہونے تک نئی حکومت کی تشکیل کے لیے مذاکرات کا سلسلہ معطل کردیں ۔