کرناٹکا میں تیسری مرتبہ یڈی یورپا نے لیا وزیراعلیٰ کا حلف؛ کیا بی جے پی اکثریت ثابت کرپائے گی ؟

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 17th May 2018, 10:07 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

بنگلور 17/مئی (ایس او نیوز) 24 ویں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے آج جمعرات صبح بی جے پی کے سربراہ بی ایس یڈی یورپا نے تیسری مرتبہ کرناٹک کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے اپنا حلف لیا۔ انہوں نے بھگوان اور کسان کے نام پر نئے وزیراعلیٰ کا حلف اُٹھایا، جس کے ساتھ ہی کرناٹک اسمبلی انتخابات میں 104 سیٹوں کے ساتھ کامیاب ہونے والی بڑی بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی)  کرناٹک میں پھر ایک بار اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

خیال رہے کہ بی جے پی  کو اکثریت ثابت کرکے حکومت بنانے کے لئے مزید آٹھ سیٹوں کی ضرورت ہے، جس کے لئے  اُنہیں گورنر نے پندرہ دنوں کی مہلت دی ہے، مگرسپریم کورٹ نے مرکز کو یڈی یورپا کی  طرف سے  ریاست  کے گورنر وجو بھائی  والا کو حکومت بنانے کا دعوی پیش کرنے کے لئے بھیجے گئے دو خطوں کو  عدالت میں پیش کرنے کے لئے کہا ہے. بنچ نے کہا ہے کہ کیس کا فیصلہ کرنے کے لئے اس کا جائزہ لینا ضروری ہے.

اعلیٰ عدالت نے کانگریس اور جےڈی ایس کی درخواست پر كرناٹك سرکار  اور یڈی یورپا  کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس پر جواب مانگا  ہے۔ سپريم کورٹ جمعہ صبح 10:30 بجے اس معاملے پر پھر سنوائی  کرے گا۔

 بی جے پی کے رہنما  بی ایس یڈی یورپا نے جمعرات کو اپنے طئے شدہ وقت پر وزیراعلی کی حیثیت سے بھلے ہی حلف لیا ہومگر  رسم تخت نشینی کے بعد بھی یڈی یورپا کو راحت نہیں ملی ہے، ابھی اُن کےسامنے ودھان سبھا میں اکثریت ثابت کرنے کا بہت بڑا چیلنج  ہے۔ جبکہ جمعہ کو سپریم کورٹ میں بھی معاملے کی سنوائی ہے.

آج وزیراعلیٰ کی حلف برداری تقریب میں وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی صدر امت شاہ سمیت کئی بڑے لیڈران شریک نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ بدھ کو جب کانگریس اور جے ڈی ایس نے  سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے آج کی یڈی یورپا کی حلف برداری تقریب پر روک لگانے کی درخواست کی تھی  تو  سپریم کورٹ نے حلف برداری پر روک لگانے سے انکار کردیا  تھا، البتہ سپریم کورٹ نے کانگریس۔جے ڈی ایس مخلوط  پارٹی اور بی جے پی دونوں کوحکم جاری کیا  تھا کہ وہ اپنے اپنے ارکان کی فہرست صبح10:30 بجے تک عدالت میں جمع کرائیں۔

بدھ کو کرناٹک کے گورنر وجو بھائی والا کے بی ایس یڈی یورپا کو وزیراعلیٰ کا عہدہ کا حلف دلانے کے  فیصلے کے خلاف کانگریس اور جنتادل ایس نے سپریم کورٹ کا رُخ کیا تھا، سپریم کورٹ نے اس معاملے پر اُن کی درخواست قبول کرلی اور رات کے 1:45 بجے تین ججوں کی بینج نے اس معاملے پر سنوائی شروع کی۔

اس بینچ میں جسٹس اشوک بھوشن، جسٹس سکری اور جسٹس بوبڈے شامل تھے. معاملے میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل توشار مہتا ، بی جے پی کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل مکل روہتگی اور کانگریس کی جانب سے ابھیشک سنگھوی عدالت میں پیش ہوئے۔ عدالت نے گورنر کے فیصلے پر روک لگانے  سے انکار کرتے ہوئے  کہا کہ حلف نامہ کی تقریب پرروک نہیں لگائی جاسکتی ہے، مگر  عدالت  نے اس بات  کومانا  کہ  اپنی اکثریت  ثابت کرنے کے لئے دئے گئے  15 دنوں کی مہلت پر سماعت کی جا سکتی ہے.

وزیراعلیٰ کا حلف لینے پر کانگریس صدر راہول گاندھی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اکثریت نہ ہونے کے بائوجود بھی بی جے پی کی سرکار بننا  آئین کا مزاق اُڑانا ہے۔ آج صبح جب بی جے پی اپنے کھوکھلی جیت کا جشن منا رہی ہوگی تو ہندوستان جمہوریت کی ہار کاماتم منائے گا۔

اب جبکہ یڈی یورپا کرناٹک کے نئے وزیراعلیٰ بن گئے ہیں، اب اُنہیں اپنی حکومت سازی کے لئے  اکثریت ثابت کرنی ہے ، بھلے ہی اُنہیں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لئے کچھ دنوں کی مہلت ملی  ہے، مگر اُنہیں اپنے ارکان اسمبلی کی لسٹ آج صبح ہی سپریم کورٹ میں جمع کرانی ہے، یہ دیکھنا اب دلچسپ ہوگا کہ بی جے پی کی لسٹ میں درکار مزید آٹھ ارکان اسمبلی کون ہیں، جن کو لے کر بی جے پی اپنی حکومت قائم کرے گی۔

یاد رہے کہ کرناٹک میں اس بار کے انتخابات میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوئی ہے، لیکن بی جے پی نے 104 سیٹیں ہونے کے بائوجود اکثریتی ہندسہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا، دوسری طرف  کانگریس اور جے ڈی ایس نے گٹھ بندھن کرتے ہوئے اپنے پاس اکثریتی ہندسہ ہونے کا دعویٰ پیش کیا تھا۔ لیکن انہیں گورنر وجو بھائی والا نے سرکار بنانے کی دعوت نہیں دی، جسے لے کر کانگریس اور جے ڈی ایس نے سپریم کورٹ کا بھی رُخ کیا لیکن فی الحال فیصلہ بی جے پی کے حق میں رہا ہے۔

224 سیٹوں والی کرناٹک  اسمبلی میں 12مئی کو 222 اسمبلی حلقوں پر پولنگ ہوئی تھی جس کے نتائج 15 مئی کو ظاہر ہوئے تھے۔ بی جے پی کو 104 ، کانگریس کو 78 ، جنتادل (سیکولر) کو 37  اور دیگر کو تین سیٹوں پر کامیابی ملی ۔ حکومت بنانے کے لئے  کسی بھی پارٹی کو 112 سیٹیں ضروری ہیں جس کو دیکھتے ہوئے نتائج کا اعلان ہونے سے پہلے ہی کانگریس نے جے ڈی ایس کے رہنما کماراسوامی کو   وزیراعلیٰ کا اُمیدوار منتخب کرتے ہوئے  اپنی جانب سے حمایت کا اعلان کیا جس کے ساتھ ہی کانگریس۔جےڈی ایس کی سیٹوں کی تعداد 115ہوگئیں تھیں، کانگریس نے دیگر دو ارکان کو بھی اپنے ساتھ ملایا ہے تاکہ بی جے پی کے لئے اقتدار حاصل کرنے کا کوئی راستہ  نہ چھوڑا جائے، اس طرح کانگریس۔جے ڈی ایس اتحاد کے پاس جملہ 117 سیٹیں ہیں۔

 

ایک نظر اس پر بھی

متحدہ جدوجہد سے رام نگرم اور منڈیا میں کامیابی ممکن، کانگریس اور جے ڈی ایس کارکنوں سے کمار سوامی اور ڈی کے شیوکمار کا خطاب

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی اور وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار نے آنے والے ضمنی انتخابات میں رام نگرم اسمبلی حلقے سے جے ڈی ایس امیدوار انیتا کمار سوامی اور منڈیا پارلیمانی حلقے سے جے ڈی ایس امیدوار ایل آر شیورامے گوڈا کو کامیاب بنانے کے لئے دونوں پارٹیوں کی طرف سے متحد ...

یکم نومبر سے سرکاری کام کاج صرف کنڑا میں : کمار سوامی

وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ یکم نومبر 2018سے ریاست کا تمام سرکاری کام کاج کنڑا میں ہوگا۔ کسی بھی فائل کو جو منظوری کے لئے سرکاری محکموں میں رہے گی کنڑا زبان میں ہی آگے بڑھایا جائے گا

مودی قومی رہنماؤں کو سیاسی فائدے کے لئے استعمال نہ کریں:ملیکارجن کھرگے

لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملیکارجن کھرگے نے کہاہے کہ جیسے جیسے انتخابات قریب آرہے ہیں وزیر اعظم مودی سردار ولبھ بھائی پٹیل ، سبھاش چندر بوس اور دیگر قائدین کا نام لے کر ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔

کے سی وینو گوپال کے خلاف جنسی ہراسانی کیس میں ایف آئی آر،اے آئی سی سی عہدے سے برطرف کرنے بی جے پی کامطالبہ

اے آئی سی سی جنرل سکریٹری اور کرناٹک میں کانگریس امور کے انچارج کے سی وینو گوپال کے خلاف جنسی ہراسانی کے ایک کیس میں کیرلا پولیس کی کرائم برانچ نے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

جامعہ فیض ناصرمیں گزشتہ روز علماء کی زیر نگرانی طلباء وطالبات کا تعلیمی جائزہ

جامعہ فیض ناصر حضرت شیخ الاسلام کا لونی مملانا روڈ مظفر نگرمیں گزشتہ روز علماء کی زیر نگرانی طلباء وطالبات کا تعلیمی جائزہ لیا گیا واضح ہو کہ جامعہ فیض ناصر اپنے علاقہ کا وہ ادارہ ہے جو اکابر کی رہنمائی میں مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن ہے موقع بموقع اکابرین علماء جامعہ میں قدم ...

ضلع شمالی کینرا میں جے ڈی ایس کا وجود نہیں ہے۔ آئندہ لوک سبھا میں کانگریس کا ہی امیدوار ہوگا۔ دیشپانڈے کا بیان

ریوینیو اور ضلع انچارج وزیر آر وی دیشپانڈے نے کہا ہے کہ ضلع شمالی کینرا میں جنتا دل ایس کا کوئی وجود نہیں ہے، بلکہ کانگریس پارٹی ضلع میں پوری طرح مستحکم ہے۔ اس لئے آئندہ لوک سبھا انتخاب میںیہاں سے کانگریس کا امیدوار ہی میدان میں اتارا جائے گا۔

جمعیۃعلماء مہاراشٹر کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ؛ صوبائی سطح پر ممبر سازی کالیا گیا جائزہ؛ 2لاکھ ممبران بنانے کا نشانہ

جمعیۃعلماء ہند کے نئے ٹرم کی ممبر سازی پورے ملک میں جوش و خروش سے جاری ہے، اور اس کے لئے ماہ اکتوبر کے اختتام کو آخری حد مقرر کیا گیا ہے،جمعیۃعلماء مہاراشٹر کے کارکنان بھی پوری دلجمعی کے ساتھ ممبر سازی مہم میں لگے ہوئے ہیں ۔

شیوراج حکومت جادو دکھاکر جیتیں گے عوام کا دل

مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو مسلسل چوتھی بار اقتدار میں واپسی کے لئے شیوراج حکومت اب جادوگروں کا سہارا لینے کی تیاری میں ہے۔’’ میجک اسپیل‘‘ کے اس یونیک قدم سے شیوراج حکومت عوام کے دل جیتنے کی کوشش کرتی نظر آ سکتی ہے۔ پی بی جے پی کے ترجمان رجنیش اگروال نے اس کی تصدیق کی ہے۔رجنیش ...