سرجیکل اسٹرائک: اصل نشانہ تو کچھ اور ہے! آز: مولانا اسرارالحق قاسمی

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 11th October 2016, 10:17 PM | اسپیشل رپورٹس |

مرکز میں بی جے پی کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اب تک مختلف موقعوں پر یہ بات بار بار مشاہدے میں آتی رہی ہے کہ جیسے اب ملک میں جمہوریت کی جگہ آمریت نے لے لی ہے اور حکمران وقت اختلاف رائے برداشت کرنے کے بالکل بھی روادار نہیں ہیں۔ حکومت جو چاہے سو کرے آپ کو من و عن قبول کرنا ہوگا، اگر نہیں کرتے اور اختلاف ظاہر کرتے ہیں تو فوراًآپ پر غدار وطن کا الزام تھوپ دیا جائے گا اور آپ کا ناطقہ بند کرنے کی کوشش میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی جائے گی۔ ڈھائی سال کے عرصہ میں پارٹی اورحکومتی کارپردازوں نے اپنے سینوں پر عظیم قوم پرست ہونے کے تمغے تواز خود سجائے ہی ہیں،مخالفین کو بدترین درجے کا قوم مخالف ہونے کی سند دینے میں بھی ہرگز بخل سے کام نہیں لیا ہے۔ ان کالموں میں متعدد بار ایسے متعدد واقعات کا ذکر کیا جا چکا ہے جن میں حکومت نے مخالف آوازوں کو ملک دشمنی قرار دے کر دبانے کی کوشش کی ہے اور جنہیں اب دہرانے کی ضرورت نہیں۔البتہ ایسے ہی ایک حالیہ واقعہ کا ذکر ضروری ہے جو ان دنوں صرف ہندوستان میں ہی نہیں بین الاقوامی سطح پر بھی موضوع بحث ہے۔ 

بہت سارے وعدوں کے ساتھ ساتھ، جو ہنوزتکمیل کے لئے اقدامات کے منتظر ہیں،پاکستان کے خلاف سخت قدم اٹھانے کا وعدہ کرکے اقتدار حاصل کرنے والی مودی حکومت نے جب زبردست عوامی دباؤ کے نتیجے میں سرحد پار کے دہشت گردوں کے ذریعہ 18ستمبر کو کئے گئے کشمیر کے اڑی میں فوجی کیمپ پر حملے کے ردعمل میں 28-29 ستمبر کی شب پاکستانی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوکر سرجیکل اسٹرائک کرنے اور دہشت گردوں کے چھ سات ٹھکانے تباہ و برباد کردینے کا دعوی کیا تو ہندوستان میں تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس کارروائی کا خیر مقدم کیااور وزیر اعظم کو مبارکباد پیش کی۔ اُدھرپاکستان نے دنیا بھر میں یہ پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا کہ بھارت کا دعوی بالکل غلط اور بے بنیاد ہے، کوئی سرجیکل اسٹرائک سرے سے ہوا ہی نہیں ہے۔ پاکستان نے قومی اور بین الاقوامی صحافیوں کے گروپ کو بھی بطور خاص لائن آف کنٹرول پرلے جاکر ہندوستان کے دعوے کو بے بنیاد قرار دینے کی کوشش کی۔ 

ادھر ہندوستان میں بی جے پی لیڈران جب پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کو مودی حکومت کا ’انوکھا‘ کارنامہ قرار دے کر اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے نظر آئے تو بعض حلقو ں نے اس پراعتراض ظاہر کیا اور بتایا کہ اس سے پہلے بھی اسی نوعیت کی کارروائیاں یوپی اے حکومت کے دوران ہو چکی ہیں لیکن انہیں منظر عام پر نہیں لایا گیا تھا۔کچھ حلقوں نے بطور مشورہ یہ بھی کہا کہ جب سرجیکل اسٹرائک کی بات منظر عام پر لا ہی دی گئی ہے تومودی حکومت کو پاکستان کے پروپیگنڈے کو غلط ٹھہرانے کے لئے اس کا فوٹو یا ویڈیوبھی جاری کردینا چاہئے۔ شک و شبہ اتنا بڑھا کہ کچھ لوگوں نے مودی حکومت کے سرجیکل اسٹرائک کو فرضی بھی بتایا۔ بس پھر کیا تھا، منتری سے لیکر سنتری تک بی جے پی کے سارے لوگ زبردست غیض و غضب میں آگئے اور حسب عادت تمام ’مخالفین‘ کو ’قوم مخالف‘ قرار دینے لگے اور مودی بھکتوں کی فوج نے سوشل میڈیا پر مغلظات کے طوفان کے ساتھ اُن پر یلغار کرنا شروع کر دیا۔

ہندوستان اور پاکستان دو کٹر حریف پڑوسی ممالک کے طور پر مشہور ہیں۔ ماضی میں دونوں ملکوں کے بیچ تین محدود جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ لیکن اب دونوں ہی ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں اور اگر کوئی جنگ چھڑی اور ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال ہوا تو تباہی و بربادی کس پیمانے کی ہوگی اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔اسی بات کو مدنظر رکھ کر اگر مودی حکومت نے سرجیکل اسٹرائک کے ثبوت پیش نہیں کئے تو یہ مصلحت کوشی جائز ہے کیونکہ اگر ثبوت پیش کردیا جاتا ہے تو پھر پاکستان کی حکومت اور فوج اپنے عوام کے دباؤ کی وجہ سے جوابی کارروائی کو زیادہ دنوں تک ٹال نہیں سکتے تھے اور جب بھی جوابی کارروائی کرتے بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ جاتی۔ یہ نوبت نہ آئے یہ سوچ کر ثبوت پیش نہ کرنے کا فیصلہ دانشمندی ہے لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر سابقہ حکومت کی طرح مودی حکومت بھی سرجیکل اسٹرائک کے بعد خاموش رہنے کو ہی ترجیح دیتی۔لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ سرجیکل اسٹرائک کی بات کچھ اس طرح مشتہر کی جس سے یہ محسوس ہونے لگا کہ اسٹرائک کا مقصد سرحدپار دہشت گردی کا سدباب کرنا تھا یا اسکامقصد کچھ اور تھا۔ 

سرحد پار سے دہشت گردانہ کارروائیاں کوئی نئی بات نہیں لیکن مودی حکومت کے قیام کے بعد سے جہاں ایک طرف ہندوستان کی جانب سے پڑوسی ملک سے رشتے بہتر بنانے کی کوششیں نظر آئیں وہیں دوسری جانب سے ہندوستان کے خلاف اشتعال انگیزی بڑھتی رہی۔ اڑی حملہ سے قبل بھی پنجاب کے پٹھان کوٹ میں فوجی اڈے پر پاکستانی دہشت گردوں کا حملہ ہوا تھا۔اگر حکومت کو یہ معلوم تھا کہ سرحد کے پار دہشت گردوں کی ٹولیاں لانچنگ پیڈ میں تیار بیٹھی ہیں تو پھر سرجیکل اسٹرائک کے لئے اڑی حملے کا انتظار کیوں کیا گیا جس میں ملک کے 19 جوان مارے گئے۔ اور اگر سرجیکل اسٹرائک کرکے ہندوستان نے دہشت گردوں کے ٹھکانے تہس نہس کردئے تو پھراسکے بعد بھی پاکستانی دہشت گردوں کی کارروائیاں کیوں جاری ہیں؟ فوجی کیمپوں کے ارد گرد جہاں پرندے بھی پر نہیں مار سکتے، اسلحے سے لیس دہشت گردکس طرح داخل ہوجاتے ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں کیوں ان کی پیشگی جانکاری حاصل کرنے میں بار بار ناکام رہتی ہیں، اس سوال پر گہرائی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر اعظم مودی اور بی جے پی کو یہ بخوبی اندازہ ہے کہ ڈھائی سال کی حکمرانی کے دورا ن گھریلو محاذپرپوری طرح ناکام رہنے اور عوام کی آرزوؤں پر پورا نہ اترنے کی وجہ سے ان کی ساکھ کافی گری ہے۔ آئندہ سال کے اوائل میں اتر پردیش میں انتخابات ہونے والے ہیں توان کے سامنے ایک مشکل سوال یہ تھا کہ جیت حاصل کرنے کے لئے اپنی ناکامیوں پر کیسے پردہ ڈالا جائے اور معصوم عوام کے ذہنوں میں ایسا کیا سمایا جائے کہ جس سے ووٹوں کی فصل ایک بار پھر لہلہا اٹھے؟ اڑی حملہ سے کافی پہلے سے ہی جانکار ذرائع اس اندیشے کا اظہار کر رہے تھے کہ اتر پردیش کے الیکشن سے پہلے بی جے پی حکومت اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان سے جنگ چھیڑ سکتی ہے۔بی ایس پی کی رہنما مایا وتی نے سرجیکل اسٹرائک سے ایک ماہ قبل ہی کہا تھا کہ بی جے پی اور حکومت اپنی ناکامیوں سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے کشمیر اور دہشت گردی کے مسئلہ پر پاکستان کے ساتھ جنگ چھیڑ سکتی ہے۔ 

سرجیکل اسٹرائک کے بعد بی جے پی جس طرح پوسٹروں کے ذریعہ مودی کو بطور رام اور پاکستانی حکمراں شریف کو راون پیش کررہی ہے اور جس طرح مودی اتر پردیش بی جے پی کے سربراہ کیشو پرساد موریہ کی دعوت پر،جو ایک دہائی تک رام مندر تحریک میں سرگرم تھے اور جن کے خلاف کم و بیش ایک درجن فوجداری کے مقدمات درج ہیں، لکھنؤ میں وجئے دشمی کی تقریبات میں شرکت کرنے والے ہیں،اس سے یہ ظاہر ہو جاتا ہے کہ بی جے پی نے پاکستان کے خلاف فوج کی کارروائی کو اپنی حصولیابی کے طور پر پیش کرکے اس کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھانے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے۔ لیکن اگر کوئی اسی سچائی کو منظر عام پر لانے کی جرات کرے گا تو قوم مخالف اور غدار وطن قرار پائے گا۔تاہم عوام بجا طور پر مودی سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ فوج نے جو کچھ کیا وہ ملک کے لئے کیا لیکن آپ بتائیں کہ آپ نے ملک کے عوام سے جو وعدے کئے تھے انکا کیا ہوا؟ امید کی جانی چاہئے کہ بی جے پی سے یہ سوال ضرور پوچھا جائے گا جب وہ اتر پردیش انتخابات کے دوران سرجیکل اسٹرائک کو اپنی کامیابی بتاکر کیش کرنا چاہے گی۔اس سے پہلے بی جے پی نے بہار انتخابات کے دوران پاکستان کا حوالہ دیکر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔امیت شاہ نے عوام سے ووٹ دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بی جے پی ہار گئی تو پاکستان میں پٹاخے چلا کر خوشیاں منائی جائیں گی۔ لیکن سب نے دیکھا کہ امیت شاہ کا پاکستان کا حوالہ بی جے پی کے لئے بالکل بھی سود مند ثابت نہیں ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اتر پردیش کے عوام بی جے پی کی سرجیکل اسٹرائک کو کیش کرنے کی کوششوں کا کس طرح جواب دیتے ہیں۔      
(مضمون نگار ممبرپارلیمنٹ اورآل انڈیاتعلیمی وملی فاؤنڈیشن کے صدرہیں)

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات؛ اُترکنڑا میں کیا آنند، آننت کو پچھاڑ پائیں گے ؟ نامدھاری، اقلیت، مراٹھا اور پچھڑی ذات کے ووٹ نہایت فیصلہ کن

اُترکنڑا میں لوک سبھا انتخابات  کے دن جیسے جیسے قریب آتے جارہے ہیں   نامدھاری، مراٹھا، پچھڑی ذات  اور اقلیت ایک دوسرے کے قریب تر آنے کے آثار نظر آرہے ہیں،  اگر ایسا ہوا تو  اس بار کے انتخابات  نہایت فیصلہ کن ثابت ہوسکتےہیں بشرطیکہ اقلیتی ووٹرس  پورے جوش و خروش کے ساتھ  ...

کرناٹک کا سب سے اہم حلقہ گلبرگہ؛ کیا ا س بار کانگریس اپنا قلعہ بچا پائے گی..؟ (آز: قاضی ارشد علی)

ملک بھر میں چل رہے 17ویں لوک سبھا کے انتخابات کے دو مراحل مکمل ہوچکے ہیں ۔تیسرا مرحلہ 23؍اپریل کو مکمل ہوگا ۔ریاستِ کرناٹک کے28پارلیمانی حلقہ جات میں سے14حلقہ جات میں رائے دہی مکمل ہوچکی ہے ۔باقی رہ گئے14حلقہ جات میں الیکشن پروپگنڈہ زوروں پر ہے۔18؍اپریل کو ہوئے14حلقہ جات میں ...

مرڈیشورمیں گندگی اور آلودگی کی بھرمار : عوام سمیت سیاح بھی پریشان؛ قریب میں پولنگ بوتھ ہونے سے ووٹروں کو بھی ہوسکتی ہے بڑی پریشانی

مشہور سیاحتی مرکز مرڈیشور فی الحال یتیمی کی صورت حال سے دوچار ہے، انتظامیہ کی بدنظمی سے مرڈیشور کا ماحول خراب حالت کو پہنچا ہواہے، کچرے میں لگاتار اضافہ ہونے سے مرڈیشور میں عوام کا  چلنا پھرنا بھی دوبھر ہوگیا ہے۔ 

کیا مخلوط حکومت کے تقاضے پورے کرنے میں کانگریس پارٹی ناکام رہے گی۔ ضلع شمالی کینرا میں ظاہری خاموشی کے باوجود اندرونی طوفان موجود ہے

ضلع شمالی کینرا کی پارلیمانی سیٹ پر انتخاب کے لئے ابھی صرف کچھ دن ہی باقی رہ گئے ہیں لیکن انتخابی پارہ پوری طرح اوپر کی طرف چڑھتا ہوا نظر نہیں آرہا ہے۔

شمالی کینرا پارلیمانی حلقہ میں کانگریس اور جے ڈی ایس کی کسرت : کیا ہیگڈے کو شکست دینا آسان ہوگا ؟

ضلع اترکنڑا  میں   کانگریسی لیڈران کی موجودہ حالت کچھ ایسی ہے جیسے بغیر رنگ روپ والے فن کار کی ہوتی ہے۔ لوک سبھا انتخابات سے بالکل ایک دو دن پہلے تک الگ الگ تین گروہوں میں تقسیم ہوکر  من موجی میں مصروف ضلع کانگریسی لیڈران  مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق  ان کی بھاگم بھاگ کو دیکھیں ...

شمالی کینرا پارلیمانی سیٹ کو جے ڈی ایس کے حوالے کرنے پر کانگریسی لیڈران ناراض؛ کیا دیش پانڈے کا دائو اُلٹا پڑ گیا ؟

ایک طرف کانگریس اور جنتا دل ایس کی مخلوط حکومت نے ساجھے داری کے منصوبے پر عمل کرکے سیٹوں کے تقسیم کے فارمولے پر رضامند ہونے کا اعلان کیا ہے تو دوسری طرف کچھ اضلاع سے کانگریس پارٹی کے کارکنان اور مقامی لیڈران میں بے اطمینانی کی ہوا چل پڑی ہے۔ جس میں ضلع اڈپی کے علاوہ شمالی کینرا ...