توہین عدالت کیس: ناگیشور راو کو سپریم کورٹ نے دی عدالت میں پیچھے بیٹھنے کی سزا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th February 2019, 1:00 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12 ؍فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے سی بی آئی کے سابق عبوری ڈائریکٹر ناگیشور راو کے معافی نامہ کو نامنظور کردیا ہے۔

چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بینچ نے منگل کو کہا کہ ناگیشور راو نے یقینی طور پر سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت نے راو پر ایک لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا اور ساتھ ہی ساتھ منگل کی کارروائی ختم ہونے تک انہیں عدالت میں بیٹھے رہنے کا حکم دیا۔

قابل ذکرہے کہ بہار کے مظفرپور شیلٹر ہوم آبروریزی کیس میں جانچ کی جوں کی توں صورتحال کو برقرار رکھنے کے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ناگیشور راو نے جانچ میں شامل سی بی آئی افسر اے کے شرما کا تبادلہ کردیا تھا، جس کے بعد عدالت عظمی نے ناگیشور راو کو توہین عدالت کا نوٹس بھیجا تھا۔سماعت کے دوران چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے سوال کیا کہ سی بی آئی کا ایک عبوری ڈائریکٹر اگر اتنے سارے تبادلے نہیں کرتا تو کیا آسمان گرجاتا؟۔

اس دوران راو کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے دلیل دی کہ راو کا 30 سال کا بے داغ کیریئر ہے اور وہ اپنی غلطی کی معافی مانگ چکے ہیں۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ راو کے معافی نامہ کو نامنظور کرتے ہیں۔ناگیشور راو نے پیر کو عدالت عظمی میں حلف نامہ داخل کرکے معافی مانگی تھی۔ حلف نامہ میں ناگیشور راو نے کہا کہ وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں۔ ناگیشور راو کی طرف سے داخل حلف نامہ میں لکھا ہے کہ عدالت کے حکم کے بغیر تفتیشی افسر کا تبادلہ نہیں کرنا چاہئے تھا، یہ میری غلطی ہے اور میری معافی قبول کریں۔ ناگیشور راو نے عدالت عظمی سے بلاشرط معافی مانگی تھی۔

ایک نظر اس پر بھی

جھارکھنڈمیں پھرہجومی دہشت گردی 

وزیراعظم کہتے ہیں کہ ایک واقعے کے لیے ریاست کی تنقیدنہیں کی جاسکتی لیکن جھارکھنڈمیں متعددہجومی دہشت گردی ہوچکی ہے اوریہ سلسلہ جاری ہے۔