آدھار کارڈ کو31 مارچ تک بینک اکائونٹ اور موبائل سے لنک کرنے کی پابندی ختم: سپریم کورٹ کا آخری فیصلہ آنے تک عوام کو مہلت

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 13th March 2018, 10:03 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی 13/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی) عوام کے لئے یہ بڑی راحت کی خبر ہے کہ  جب تک سپریم کورٹ کی آئینی بینچ ادھار کارڈ کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں لیتی، اُس وقت تک آدھار کارڈ سے موبائل اور بینک اکائونٹ سے لنک کرنے کی مدت بڑھادی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے آج منگل کو واضح کردیا ہے کہ  حکومت  عوام سے 31 مارچ تک آدھار لنک کرانے کے لئے دبائو نہیں بنا سکتی۔

خیال رہے کہ حکومت نے 31 مارچ تک آدھار کو بینک اور موبائل سے جوڑنے کی تاریخ طئے کی  ہے، مگر سپریم کورٹ نے کہا کہ سرکار تتکال  پاسپورٹ کے لئے بھی آدھار کو   لازم قرار نہیں دے سکتی۔

واضح رہے اس سے قبل تمام سرکاری خدمات کا فائدہ حاصل کرنے کے لئے آدھار سے لنک کرنے کی آخری تاریخ 31مارچ طے کی گئی تھی۔ جیسے جیسے یہ تاریخ قریب آ رہی تھی ویسے ویسے عوام میں بے چینی بڑھ رہی تھی۔ پین کارڈ، بینک اکاؤنٹ، موبائل فون، شئیر اسٹاکس، کریڈٹ کارڈ، ایل پی جی کنیکشن، انشورنس، پبلک پرویڈنٹ فنڈ، نیشنل سیونگ سرٹیفیکیٹ اور کسان پتر وغیرہ جیسی تمام خدمات کو آدھار سے جوڑنا لازمی قرار دیا گیا  تھا۔ اس تعلق سے صورتحال واضح نہیں تھی لیکن اب صورتحال واضح ہو گئی ہے اور اب عوام 31مارچ تک کسی بھی خدمت کے لئے آدھار سے لنک کرنے کی پابند نہیں ہے۔

آدھار سے کچھ بنیادی خدمات کے جڑے نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو کئی مرتبہ بہت زیادہ پریشانی کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ خبریں یہاں تک آئی تھیں کہ کچھ خاندان کو اس لئے راشن نہیں ملا کہ ان کا راشن کارڈ آدھار سے لنک نہیں تھا اور راشن نہ ملنے کہ وجہ سے گھر کے ایک فرد کی جان بھی چلی گئی۔

آدھار معاملہ کی سنوائی پانچ رکنی آئینی بینچ کر رہی ہے جس کی چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا قیادت کر رہے ہیں اور اس بینچ میں جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑاور جسٹس اشوک بھوشن شامل ہیں۔

ایسے میں کچھ لوگوں کے کچھ سوال سامنے آئے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد کیا اب آدھار کے لئے دباؤ بنانے والی کمپنیوں اور خدمات فراہم کرانے والی کمپنیوں کے خلاف کوئی کارروائی ہو گی یا نہیں۔

سرکار کی دلیل ہے کہ بینک میں نقد جمع کرانے، موبائل کنیکشن لینے اور کچھ دیگر خدمات کے لئے آدھار کو لازمی کرنے سے بےنامی لین دین پر روک لگے گی اور بلیک منی پر پابندی لگے گی۔ بینک میں کھاتا کھلوانے یا نقد جمع کرانے والوں کو ا ٓدھار نمبر دینا لازمی تھا۔ ساتھ ہی یہ بھی انتظام تھا کہ جن لوگوں نے ان خدمات کو آدھار نمبر سے نہیں جوڑاتھا تو انہیں 31مارچ 2018تک لازمی طور پر لنک کرانا تھا۔

ایک نظر اس پر بھی

جموں و کشمیر میں مودی سرکارکی پالیسی ناکام ہوئی : محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور سابقہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں جموں وکشمیر پولیس کے تین ایس پی اووز کو اغوا کے بعد گولی مار کر ہلاک کرنے کے واقعہ پر اپنا ردعمل میں کہا ہے کہ وادی کشمیر میں مرکزی حکومت کی طاقت پر مبنی پالیسی ناکام ثابت ہوئی ...

کشمیرکے بدترحالات کے لیے مودی سرکارذمہ دار:کانگریس

کانگریس نے کہاہے کہ پچھلے 24گھنٹے کے دوران جموں کشمیر میں تین پولیس جوانوں کے اغواکے بعد قتل اور دہشت گردوں کے خوف سے دس پولیس جوانوں کے مبینہ استعفیٰ کے واقعات تشویش ناک ہیں اور ریاست کے ان حالات کے لیے مودی حکومت ذمہ دارہے۔