سپریم کورٹ کی مودی حکومت کوپھٹکار، لوک پال سرچ کمیٹی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی معلوما ت مانگیں

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 5th January 2019, 12:39 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،5جنوری (ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے جمعہ کو مرکزی حکومت کو ہدایت دی کہ وہ ستمبر 2018سے ابھی تک لوک پال سرچ کمیٹی کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات پر ایک حلف نامہ سونپے۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال کو بتایا کہ انہیں اس سلسلے میں 17جنوری تک حلف نامہ دائرکریں۔چیف جسٹس رنجن گگوئی اور جسٹس سنجے کشن کول کی بنچ نے کہا کہ حلف نامے میں آپ کولوک پال سرچ کمیٹی قائم کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی معلومات یقینی بنانی ہوگی۔

اٹارنی جنرل نے جب کہا کہ ستمبر، 2018سے اب تک کئی اقدامات کئے گئے ہیں، پھر بنچ نے ان سے پوچھاکہ ابھی تک آپ نے کیا کیا ہے؟،اس میں بہت زیادہ وقت لگ رہا ہے۔وینوگوپال نے دہرایاکہ کئی اقدامات کئے ہیں،پھر بنچ ناراض ہوگئی اور کہا کہ ستمبر 2018سے لے کرکئے گئے تمام اقدامات کو ریکارڈ پر لے کرآئیں۔

غیر سرکاری تنظیم کامن کاج کی جانب سے پیش ہوئے وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ حکومت نے سرچ کمیٹی کے ارکان کے نام تک اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کئے ہیں۔عدالت عظمی نے لوک پال کے لئے سرچ کمیٹی کی تشکیل پر مرکزی حکومت کی دلیلوں کو 24جولائی، 2018کو پورا غیر اطمینان بخش بتاتے ہوئے اس پر چار ہفتوں کے اندر اندر بہتر حلف نامہ دائر کرنے کی ہدایت دی تھی۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی، سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا، لوک سبھا کی اسپیکر سمترا مہاجن اور مکل روہتگی والی سلیکشن کمیٹی کی میٹنگ 19جولائی، 2018کو ہوئی تھی جس میں سرچ کمیٹی کے لئے نام پر بحث ہوئی ۔وینو گوپال نے کہا تھا کہ سلیکشن کمیٹی نے زور دیا کہ سرچ کمیٹی میں صدر سمت کم از کم سات رکن ہونے ہیں جنہیں انسداد بدعنوانی پالیسی، پالیسی انتظامیہ، ویجلنس، پالیسی ساز، فنانس، انشورنس اور بینکاری، قانون اور انتظام وغیرہ کے علاقے میں تجربہ ہو۔اس کے علاوہ کمیٹی کے 50فیصد اراکین ایس سی، ایس ٹی،اوبی سی، اقلیتی اور خواتین ہونے چاہئے۔

ایک نظر اس پر بھی

چوکیدارکا ٹھپہ نہیں چاہتی پرائیویٹ سیکورٹی انڈسٹریز

قریب 80 لاکھ پرائیویٹ سیکورٹی گارڈز والی انڈسٹری وزیر اعظم نریندر مودی کے ’چوکیدار‘ مہم سے بہت حوصلہ افزاء نہیں ہے، البتہ وہ اپنی بہت مشکلات کو لے کر خود مرکزی حکومت سے لڑ رہی ہے۔سیکورٹی سروسز پر 18فیصد جی ایس ٹی کے خلاف برسرپیکار رہی کمپنیاں اب حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام لگا ...

بورڈنگ پاس پر مودی کی تصویر پر تنقید کے بعد ایئر انڈیا نے انہیں واپس لیا

ایئر انڈیا نے تنقید کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور گجرات کے وزیر اعلی وجے روپانی کی تصاویر والے بورڈنگ پاس واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ایئر لائنز نے پہلے کہا تھا کہ تصاویر والے بورڈنگ پاس تیسری پارٹی کے اشتہارات کے طور پر جاری کئے گئے اور اگر یہ مثالی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ...

دہلی میں خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر فیصلے کیلئے وسیع بنچ بنائے عدالت عظمی: آپ حکومت

قومی راجدھانی دہلی میں انتظامی خدمات پر کنٹرول کے معاملے پر جلد فیصلہ لینے کے لیے آپ حکومت نے پیر کو سپریم کورٹ سے ایک وسیع بنچ قائم کرنے کی درخواست کی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس دیپک گپتا کی بنچ کے سامنے اس معاملے کا ذکر کیا گیا تو بنچ نے آپ حکومت کے وکیل سے کہا کہ اس پر غور ...

عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں گوتم کھیتان اور تین دیگر کو طلب کیا

دہلی کی ایک عدالت نے منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں ای ڈی کی طرف سے چارج شیٹ داخل کئے جانے کے بعد پیر کو وکیل گوتم کھیتان، ان کی بیوی ریتو اور دو کمپنیوں اسمیکس اور ونڈفور کو طلب کیا۔خصوصی جج اروند کمار نے چاروں ملزمان کو چار مئی کو پیش ہونے کے لئے کہا ہے

سبرامنیم سوامی بولے: میں برہمن ہوں، چوکیدار نہیں ہو سکتا

کانگریس کی جانب سے 'چوکیدار چور ہے" کا نعرہ اچھالے جانے کے جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے " میں بھی چوکیدار ہوں' کیمپین شروع کیا۔ اس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی سمیت بی جے پی کے تقریبا سبھی لیڈران نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹویٹر پر اپنے نام کے آگے 'چوکیدار' لفظ لگایا لیا۔