مرکزسے سپریم کورٹ نے پوچھا،کیا سزائے موت میں پھانسی کے علاوہ کوئی اور آپشن ہو سکتا ہے؟

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 10th January 2018, 12:51 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی،9؍جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا ہے کہ کیا سزائے موت میں پھانسی کے علاوہ کوئی متبادل طریقہ بھی ہو سکتا ہے۔ منگل کو معاملے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت سے پوچھا کہ دوسرے ممالک میں موت کی سزا کے لیے کیا کیا طریقے اپنائے جاتے ہیں؟ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے 4مزیدہفتے کا وقت دیا۔گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ مقننہ سزائے موت کے معاملے میں پھانسی کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ بھی تلاش کر سکتے ہیں، جس میں موت آسانی سے ہو، درد میں نہ ہو۔صدیوں سے یہ کہا جاتا رہا ہے کہ پینلیس موت کی کوئی برابری نہیں۔کورٹ بھی کہتا آیا ہے کہ ہمارے آئین مہربان ہیں جو زندگی کی پاکیزگی کے اصول کو تسلیم کرتاہے۔ایسے میں سائنس کے ترقی یافتہ میں موت کے دوسرے طریقوں کو تلاش کیا جائے۔اٹارنی جنرل کو معاملے میں مدد کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ سپریم کورٹ میں عرضی داخل کر کے کہا گیا ہے کہ پھانسی کی جگہ موت کی سزا کے لئے کسی دوسرے متبادل کو اپنایا جانا چاہئے۔ پھانسی کو موت کا سب سے دردناک اور وحشیانہ طریقہ بتاتے ہوئے زہر کا انجیکشن لگانے، گولی مارنے، گیس چیمبر یا بجلی کے جھٹکے دینا جیسے سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔درخواست میں کہا گیا ہے پھانسی سے موت میں 40منٹ تک لگتے ہیں جبکہ گولی مارنے اور الیکٹرک چیئر پر صرف چند منٹ لگیں گے۔

ایک نظر اس پر بھی

سرسی میں پرکاش رائے کے خطاب کردہ اسٹیج کوبی جے پی نے گائے کے پیشاب سے کیاپاک !

’ہمارا دستور ہمارا فخر‘کے موضوع پر اداکار دانشور پرکاش رائے نے سرسی میں جس اسٹیج سے خطاب کیا تھااس مقام کو اور راگھویندرامٹھ کلیان منٹپ کے احاطے کو بی جے پی کارکنان نے گائے کے پیشاب سے پاک کرنے کی کارروائی انجام دی۔

بھٹکل سرکاری اسپتال میں ایک بھی ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہ ہونے پر عوام اور مریض سخت برہم؛ احتجاج کی دھمکی کے بعددوسرے اسپتال کا ڈاکٹر پہنچا اسپتال

آج صبح سے بھٹکل سرکاری اسپتال میں ایک بھی ڈاکٹر موجود نہ ہونے کو لے کر مقامی عوام جو مریضوں کو لے کر اسپتال پہنچے تھے، سخت برہم ہوگئے اور اسپتال پر موجود نرس سمیت دیگر اسٹاف پر اپنا غصہ اُتارنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر ڈیوٹی پر موجود نرس کو عوام نے آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے  دس منٹ ...