بابری مسجد کی مقبوضہ اراضی : اسی ہفتہ سپریم کورٹ سے آ سکتا ہے بڑا فیصلہ

Source: S.O. News Service | By Staff Correspondent | Published on 25th September 2018, 11:45 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

نئی دہلی25 ستمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)بابری مسجد کی مقبوضہ اراضی کے متعلق ایک اہم کیس میں سپریم کورٹ 28 ستمبر کو اپنا فیصلہ سنا سکتا ہے۔ سپریم کورٹ اس بات پر فیصلہ دے گا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا اہم جزو ہے یا نہیں۔ اس پر فیصلہ سنانے کے بعد ہی ٹائٹل سوٹ کے معاملے پر فیصلہ آنے کا امکان ہے۔1994 میں سپریم کورٹ کے بنچ نے فیصلہ دیا تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا اہم جزو نہیں ہے ، اس کے ساتھ ہی رام جنم بھومی میں جمود برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی، تاکہ ہندو مذہب کے لوگ وہاں عبادت کر سکیں۔ابھی کورٹ اس بات پر غور کرے گا کہ کیا 1994 والے فیصلے کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے یا نہیں۔کورٹ نے 20 جولائی کو فیصلہ محفوظ رکھا تھا۔ واضح ہو کہ ٹائٹل سوٹ سے پہلے یہ فیصلہ کافی بڑا ہو سکتا ہے۔ سپریم کورٹ کی ایڈوانس فہرست کے مطابق یہ فیصلہ لسٹ میں شامل ہے۔ واضح ہوکہ 1994 کے فیصلے میں پانچ ججوں کے بنچ نے کہا تھا کہ مسجد میں نماز پڑھنا اسلام کا اہم جزو نہیں ہے ۔ 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیتے ہوئے بابری مسجد کی اراضی کو ’آستھا‘ کے نام پر تین حصوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

جے پی سی سے جانچ کرانے کا راستہ ا بھی کھلا ہے، عام آدمی پارٹی نے کہا،عوام کی عدالت اورپارلیمنٹ میں جواب دیناہوگا،بدعنوانی کے الزام پرقائم

آپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ رافیل معاملے میں جمعہ کو آئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود متحدہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) سے اس معاملے کی جانچ پڑتال کرنے کا اراستہ اب بھی کھلا ہے۔

رافیل پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ، راہل گاندھی معافی مانگیں: بی جے پی

فرانس سے 36 لڑاکا طیارے کی خریداری کے معاملے میں بدعنوانی کے الزامات پر سپریم کورٹ کی کلین چٹ ملنے کے بعد کانگریس پر نشانہ لگاتے ہوئے بی جے پی نے جمعہ کو کہا کہ کانگریس پارٹی اور اس کے چیئرمین راہل گاندھی ملک کو گمراہ کرنے کیلئے معافی مانگیں۔

بھٹکل کے مرڈیشور میں دو لوگوں پر حملے کی پولس تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں

تعلقہ کے مرڈیشور میں کل جمعرات کو  دو لوگوں پر حملہ اور پھر جوابی حملہ کے تعلق سے آج مرڈیشور تھانہ میں دو الگ الگ شکایتیں درج کی گئی ہیں اور پولس نے دونوں پارٹیوں کی شکایت درج کرتے ہوئے چھان بین شروع کردی ہے۔