گئوکشی کے خلاف نفرت آمیز مہم کو کاؤنٹر کرنے کی حکمت عملی! .... آز: امام الدین علیگ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 16th April 2017, 1:25 PM | اسپیشل رپورٹس |

ریاست تلنگانہ میں بی جے پی کے رکن اسمبلی ٹی راجا سنگھ نے میڈیا کے سامنے کھلے عام جس طرح کا بیان دیا ہے وہ اس ملک کے مستقبل کے حوالے سے فکر کرنے والوں کے لیے واقعی صدمہ انگیز اور پریشان کن بیان ہے۔ ٹی راجا سنگھ نے واضح طور پر لاقانونیت کی پشت پناہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ گائے اور رام مندر کے لیے قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے حق میں ہیں۔انھوں نے اپنے بیان میں جنونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ 'گائے سے بڑھ کر ہمارے لیے کچھ نہیں، یہاںتک کہ گائے سے بڑھ کر انسان کی جان بھی نہیں ہے۔ایک طرف انتہاپسندی کے جنون میں ڈوبے ان جیسے لیڈران کے بیانات تو دوسری طرف گئو رکشا کے نام پر قانون کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے معاملوں میں پولیس اور انتظامیہ کی بے حسی اور جانبداری!

اب تک ملک بھر میں گئو رکشا کی آڑ میں تشدد کرکے 9 سے زائد بے قصور مسلمانوں کا قتل کیا جا چکا ہے لیکن ’قتل‘ جیسے سنگین جرم کے ان معاملوں میں پولیس انتظامیہ کی جانب سے کسی بھی قصوروار کے خلاف قابل ذکر اور مناسب کارروائی نہیں کی گئی۔ اس طرح کے معاملات میں اکثر دیکھا گیا کہ قانون شکنی کرنے اور وحشت و بربریت کا مظاہرہ کرنے والے ان غیر سماجی عناصر پر پولیس اکثر بیشتر معمولی نوعیت کے دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرتی ہے جس کی وجہ سے وہ بہت جلدی چھوٹ جاتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ آج تک کئی بے قصور افراد کی جانیں ضائع ہونے کے باجود کسی کو معمولی سزا بھی نہیں ہوئی ۔ یہ حقائق اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ متعدد انتہا پسند لیڈاران اور پولیس انتظامیہ سمیت گئو رکشا کی چادر اوڑھے ان جرائم پیشہ افراد کی پشت پناہی اعلیٰ سطح سے اور بڑے پیمانے پر ہورہی ہے۔

حالیہ عرصے میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کے ساتھ ساتھ حکومتی سطح پر گئو کشی کے خلاف بڑے پیمانے پر متنازع اور منافرت آمیز مہم چلائی گئی جس سے مسلمانوں سے نفرت اور گائے کے تقدس کے حق میں اکثریتی عوام کی بڑے پیمانے پر ذہن سازی ہوئی ۔ اسی ذہن سازی کا نتیجہ ہے کہ آج گئو کشی کے الزام میں کسی بے قصور کے قتل پر نہ تو پولیس اور حکام پر کوئی فرق پڑتا ہے اور نہ اکثریتی فرقے کے کانوں پر جوں رینگتی ہے۔ مسلمانوں سے منافرت کی انتہا کا اندازہ اس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ اکثریتی طبقے کے لوگ عوامی مقامات اور سوشل میڈیا پر ایسے واقعات پر کھلے عام تاثر دیتے ہیں کہ’ ایسا کیا ہوا بس ایک ہی مسلمان تو مراہے، انہیں صحیح کرنا ضروری ہے۔‘

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اکثریتی عوام کے ذہن اور مزاج کے ساتھ اتنے بڑے پیمانے پر جو کھیل کھیلا گیا ہے اس کی اصلاح کیسے کی جا ئے؟ موجودہ حالات اور وسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے عوام کو انتہا پسندی کے اس طوفان سے نکالنے کا طریقۂ کار اور حکمت عملی کیا ہو؟ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)کے سربراہ شرد پوار نے حال ہی میں اپنے ایک بیان سے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے ایک طریقۂ کار کی طرف اشارہ کیا ۔ ممکن ہے کہ یہ طریقہ اس سنگین صورت حال سے نمٹنے میں کسی حد تک کارگر ثابت ہو۔ در اصل شرد پوار نے گئو کشی پر آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے ایک بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز اور ہندو مہاسبھا کے نیتا ساورکربھی بیف کھانے والوں کو قصوروار نہیں مانتے تھے۔واضح رہے کہ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت نے حال ہی میں اپنے بیان میں لاقانونیت اور تشدد کو روکنے کے لیے ملک گیر سطح پر گئوکشی کے خلاف قانون سازی کی وکالت کی تھی۔ شرد پوار نے رد عمل میں کہا کہ آر ایس ایس کے نظریہ ساز ساورکر کا ماننا تھا کہ گائے کی کوئی ضرورت نہ رہ جائے تو اس کا گوشت کھانے سے کوئی قصور نہیں ہو سکتا۔ساورکر نے کہا تھا کہ گائے ایک نفع بخش جانور ہے لیکن جب اس کی افادیت ختم ہوجائے تو وہ کسانوں پر بوجھ نہیں بننی چاہیے اسی لیے اگر کسی نے گئوکشی کرکے اس کا گوشت کھایا تو میں اسے قصوروار نہیں مانتا۔ ساورکر نے اپنی کتاب ’’وگیان نشٹھ نبندھ‘‘ میں مزید لکھا ہے کہ’’گائے کی پوجا کرنا اور اسے انسان سے اوپر سمجھنا انسانیت کی توہین ہے۔

پہلی بار نہیں ہوا کہ گائے کے تعلق سے آر ایس ایس کے نظریہ ساز لیڈر ساورکر کے خیالات منظر عام پر آئے ہوں لیکن بڑے لیڈر کی طرف سے ایسا بیان پہلی بار آیا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل قدیم مذہبی کتابوں میں گئوکشی کے متعدد شواہد منظر عام پر لائے جا چکے ہیں، مزید یہ کہ آر ایس ایس کے بے شمار ممبران کے بیف کھانے اور خود آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے چیف کا عہدہ سنبھالنے سے پہلےگوشت خور ہونے کی رپورٹ منظر عام پر آچکی ہے۔اس سلسلے میں 10دسمبر 2015کو مشہور اخبارٹیلی گراف کے حوالے سے ڈی این اے میں شائع آر ایس ایس کے ایک سینئر لیڈر منموہن ویدیا کاوہ بیان کافی مدد گار ثابت ہو سکتا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ بیف کھانا بہت سی ریاستوں اور خاص طور پر آدی واسیوں کے کلچر کا حصہ رہا ہے اور ان کے یہاں بیف کھانا ایک عام سی بات ہے۔انھوں نے مزید کہا تھا کہ بیف کھانے والا بھی آر ایس ایس کا ممبر ہوسکتا ہے اور اس حوالے سے انھوں نے یہ دلیل دی تھی کہ صرف اروناچل پردیش میں بیف کھانے والے آر ایس ایس کے 3000ممبران ہیں۔

اس سے قبل بھی آر ایس ایس لیڈران کے ایسے بیانات اور انکشافات سامنے آچکے ہیں جن سے یہ بات مکمل طور پر واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے نزدیک گائے کو کسی بھی طرح کا مذہبی تقدس حاحل نہیں ہے۔8اکتوبر 215کو ’دی اکنامک ٹائمس‘ میں آر ایس ایس پرچارک ، مصنف اور کالم نگار دلیپ دیودھار کا وہ بیان بھی کافی دنوں تک سرخیوں میں رہا تھاجس میں انھوں نے یہ انکشاف کیا تھا کہ موہن بھاگوت بھی آر ایس ایس کے چیف بننے سے پہلےتک گوشت کھایا کرتے تھے ۔ انھوںنے مزید کہا تھا کہ آر ایس ایس کے زیادہ تر پرچارک گوشت خورہیں۔ یہ انکشاف کرنے کا انجام یہ ہوا تھا کہ دلیپ دیودھار سے آ رایس ایس نواز اخبار ’’ترون بھارت‘‘ نے وہ کالم چھین لیا تھا جو وہ پچھلے 16برسوں سے لکھ رہے تھے۔

در اصل ملک کے طول و عرض میں مختلف علاقوں میں گائے کے تعلق سے برادران وطن کے نظریے میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ملک کے بعض علاقوں میں گائے کو پوجا جاتا ہے تو بعض دیگر علاقوں میں اسی گائے کی بلی دی جاتی ہے اور اس کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے۔مگر ہاں ، ملک بھر میں گائے کو کھانےکا رواج زیادہ تر دلتوں، قبائلیوں اور پسماندہ ہندوؤںمیں ہے اور ان لوگوں کی تعداد گئو کشی کے خلاف نفرت آمیز مہم چلانے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

اس طرح کے متعدد شواہد و حقائق ہیں جو آر ایس ایس اور اس کی ذیلی تنظیموں کی جانب سے قائم کیے گئے بھرم اور نفرت کے ماحول کو قابو میں کرنے میں معاون ثابت ہوسکتےتھے لیکن ان کے انتہاپسندانہ نظریات کو کاؤنٹر کرنے کی غرض سے ان حقائق کو عوامی بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر کوششیں نہیں کی گئیں۔ ضرورت ہے کہ اکثریتی فرقے کے عوام سامنے ان حقائق و شواہد کو اجاگر کرکے شدت پسندوں کے اس زعم کو توڑا جائے کہ تشدد کو ہوا دے کر اور بعد ازاں تشدد کو روکنے کے نام پر من مانی قانون سازی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ آج گائے کے کاروبار سے جڑے ہندو طبقے کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ نشانے پر بھلے ہی مسلمان ہوں لیکن اس پُر تشدد اور انتہاپسندانہ مہم سے اس کاروبار سے جڑے ہرذات اور مذہب کے کسانوں کا نقصان ہوگا، یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اس نفرت آمیز مہم سےنقصان صرف مسلمانوں کا نہیں ہوگا بلکہ اس سے ان غریب دلتوں ، قبائلیوں اور پسماندہ ذاتوں کا کافی نقصان ہوگا جن کے لیے بیف غذائیت اور معیشت کا ایک بڑا ذریعہ رہا ہے۔ فسطائی نظریات کی حامل تنظیموں نے گئو کشی کے خلاف نفرت آمیز مہم سے جہاں ایک طرف دلت اور پسماندہ لوگوں سے ان کی غذائیت اور معیشت کا ایک مضبوط ذریعہ چھین کر انھیں مزید پسماندگی میں دھکیلنے کا کام کیا گیاتو وہیں اسی اندھی عقیدت کا فائدہ اٹھا کر ملک کی کمزور ذاتوں اور قبائلیوں پر اور مرکز و ریاستوں کے اقتدار پر اعلیٰ ذاتوں کے قبضے کو مزید مستحکم کیا گیا۔ ویسے بھی گائے پالنے کے پیشہ سے مسلمانوں کے بالمقابل برادران وطن زیادہ جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں موضوع یہ نہیں ہونا چاہیے کہ اسے کھاتا کون ہے بلکہ گائے اوراس قبیل کے جانوروں کو پالنے والے کسانوں کو مناسب معاوضہ اور رقم ملنی چاہئے اور ان کی محنت ضائع نہیں ہونی چاہیے ۔ ممکن ہے کہ اس حکمت عملی کو بڑے پیمانے پر اپنانے سے ’گئورکشا‘ کی پُر تشدد اور متنازع مہم سے جڑے لوگوں کو جو اکثر کسانوں کے بچے ہیں، قانون ہاتھ میں لینے اور پُر تشدد حرکتوں سے باز رکھا جا سکے۔

ایک نظر اس پر بھی

مرحوم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کے کمالات و اوصاف ۔۔۔۔۔۔۔۔ بہ قلم: خورشید عالم داؤد قاسمی

دار العلوم، دیوبند کے بانی امام محمد قاسم نانوتویؒ (1832-1880) کے پڑپوتے، ریاست دکن (حیدرآباد) کی عدالتِ عالیہ کے قاضی اور مفتی اعظم مولانا حافظ محمد احمد صاحبؒ (1862-1928) کے پوتے اور بیسویں صدی میں برّ صغیر کےعالم فرید اور ملت اسلامیہ کی آبرو حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب قاسمیؒ ...

اردو میڈیم اسکولوں میں نصابی  کتب فراہم نہ ہونے  سے طلبا تعلیم سے محروم ؛ کیا یہ اُردو کو ختم کرنے کی کوشش ہے ؟

اسکولوں اور ہائی اسکولوں کی شروعات ہوکر دو مہینے بیت رہے ہیں، ریاست کرناٹک کے 559سرکاری ، امدادی اور غیر امدادی اردو میڈیم اسکولوں اور ہائی اسکولوں کے لئے کتابیں فراہم نہ  ہونے سے پڑھائی نہیں ہوپارہی ہے۔ طلبا ، اساتذہ اور والدین و سرپرستان تعلیمی صورت حال سے پریشان ہیں۔

بھٹکل کڑوین کٹّا ڈیم کی تہہ میں کیچڑ اور کچرے کا ڈھیر۔گھٹتی جارہی ہے پانی ذخیرہ کی گنجائش

امسال ریاست میں کسی بھی مقام پر برسات کم ہونے کی خبرسنائی نہیں دے رہی ہے۔ عوام کے دلوں کو خوش کرنے والی بات یہ ہے کہ بہت برسوں کے بعد ہر جگی ڈیم پانی سے لبالب ہوگئے ہیں۔لیکن اکثریہ دیکھا جاتا ہے کہ جب برسات کم ہوتی ہے اور پانی کا قحط پڑ جاتا ہے تو حیران اور پریشان ہونے والے لوگ ...

سعودی عربیہ سے واپس لوٹنے والوں کو راحت دلانے کا وعدہ ؛ کیا وزیر اعلیٰ کمارا سوامی کو کسانوں کا وعدہ یاد رہا، اقلیتوں کا وعدہ بھول گئے ؟

انتخابات کے بعد سیاسی پارٹیوں کو اقتدار ملنے کی صورت میں کیے گئے وعدوں کو پورا کرنا بہت اہم ہوتا ہے۔ جنتادل (ایس) کے سکریٹری کمارا سوامی نے بھی مخلوط حکومت میں وزیرا علیٰ کا منصب سنبھالتے ہی کسانوں کا قرضہ معاف کرنے کا انتخابی وعدہ پورا کردیااور عوام کی امیدوں پر پورا اترنے کا ...