سری لنکا میں بدھسٹ اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں، دو ہلاک؛ حالات پر قابو پانے کے لیے ایمرجنسی نافذ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 7th March 2018, 1:37 PM | عالمی خبریں |

کولمبو 7/مارچ (ایس او نیوز/ایجنسی)  سری لنکا کے  شہر کینڈی کے بعض علاقوں میں بودھ مذہب سے تعلق رکھنے والی اکثریتی سنہالا برادری کی جانب سے مسلمانوں کی دکانوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات کے بعد ایک مسلم نوجوان کی لاش برآمد ہونے کے بعد کرفیو نافذ کیا گیا، مگر کرفیوکے بائوجود تشدد کے واقعات جاری رہنے کے نتیجے میں اب حکومت نے دس دنوں کے لئے  ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق سری لنکا کے  حکام کو خدشہ ہے کہ جلائی گئی ایک عمارت سے ایک نوجوان مسلمان کی لاش برآمد ہونے کے بعد انتقامی حملے ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق علاقے میں حالات اُس وقت  کشیدہ ہوئے جب ایک ہفتہ قبل مبینہ طور پر چند مسلمانوں نے ٹریفک سگنل پر لڑائی کے بعد ایک بودھ نوجوان پر تشدد کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ بودھ نوجوان کی موت کی اطلاع پھیلتے ہی مسلمانوں پر حملے شروع ہوگئے، کئی مساجد کے ساتھ ساتھ کئی دکانوں اور مکانوں میں توڑ پھوڑ کئے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

کینڈی میں پولیس کی وافر تعداد میں موجودگی کے باوجود پرتشدد کارروائیاں جارہی رہیں  اور حالات قابو میں ہوتے نظر نہیں آئے تو  حکومت نے فوج کی مدد طلب کی۔ بتایا جارہا ہے کہ   پولیس نے یا تو احکامات پر عمل نہیں کیا  یا پھر ان کے پاس تشدد روکنے کی صلاحیت نہیں تھی، جس کو دیکھتے ہوئے فوج کو بلایا گیا ہے، جس کے ذریعے تشدد کو ہوا دینے والوں کے لئے سخت پیغام دیا گیا ہے کہ  اب فسادات بھڑکانے والوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ 

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ہفتے ملک کے مشرقی شہر امراپرا میں بھی مسلم مخالف پرتشدد واقعات پیش آئے تھے۔ اس کے علاوہ گذشتہ دو ماہ کے دوران گال میں مسلمانوں کے ملکیتی کاروباروں اور مساجد پر حملوں کے 20 سے زیادہ واقعات پیش آئے ہیں۔ خیال رہے کہ سری لنکا میں کشیدگی سال 2012 سے پائی جاتی ہے جس میں رجعت پسند بدھ مت گروپوں پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں۔ 

گذشتہ برس جون میں پولیس نے مبینہ طور پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں ملوث ایک بودھ مذہبی رہنما کو گرفتار کیا تھا۔گرفتار کیے جانے والے 32 سالہ شخص کا تعلق سخت گیر بودھ تنظیم 'بودو بالا سینا' سے تھا۔ ان پر مسلمانوں کے خلاف حملے اور آتش زنی کرنے جیسے متعدد الزامات ہیں جس سے ملک میں مذہبی منافرت اور کشیدگی میں اضافہ ہوا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پولیس کا کہنا تھا کہ جس شخص کو حراست میں لیا گیا ہے ان کا کولمبو کے مضافات میں ہونے والی آتشزدگی سے براہ راست تعلق ہے۔ گرفتار کیے گئے مذکورہ شخص کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس کی تحویل میں لیا گیا ہے۔

ماضی میں سری لنکا میں مسلم اقلیتوں کو پیٹرول بموں سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ بدھ مت الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان اور عیسائی افراد یہاں کے  لوگوں کے مذہب تبدیل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں تاہم مسلمان اور عیسائی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

انیس عامری ایک ’دہشت گرد سیل‘ کا حصہ تھا: جرمن میڈیا

برلن میں دو برس قبل ایک کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے حملہ کرنے والا انیس عامری’تنہا بھیڑیا‘ نہیں تھا بلکہ ممکنہ طور پر اس کا تعلق ایک سلفی سیل سے تھا، جس نے اسے اس حملے میں مدد دی تھی۔جرمن میڈیا پر ہفتے کے روز سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق برلن کرسمس مارکیٹ حملے کے فقط دو ...

فرانسیسی شہروں میں زرد جیکٹوں والے مظاہرین کا احتجاج

فرانس کے مختلف شہروں میں زرد جیکٹوں والے حکومت مخالف مظاہرین مسلسل پانچویں ویک اینڈ پر احتجاج کے لیے جمع ہیں۔ صدر ایمانوئل ماکروں کی حکومت کے خلاف مظاہروں کا یہ سلسلہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر شروع ہوا تھا۔ فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں مظاہرین کی پرتشدد کارروائیوں کو ...

سری لنکا کے برخاست وزیراعظم پر پارلیمان کا اعتماد

رواں برس اکتوبر میں برخاست کیے جانے والے سری لنکن وزیراعظم رانیل وکرمے سنگھے نے پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا ہے۔ آج بدھ کو ہونے والی رائے شماری میں 225 رکنی ایوان میں وکرمے سنگھے کی حمایت میں 117 اراکین نے ووٹ ڈالا

امریکی فوج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں

امریکی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اْس کی افواج نے شمالی شام میں مبصر چوکیاں قائم کر دیں ہیں۔ اس اعلان میں ان چوکیوں کی تعداد اور مقامات کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ اسی علاقے میں شامی کردوں کی ملیشیا وائی پی جی ایک بڑے علاقے پر قابض ہے

برطانوی وزیر اعظم کو درپیش قیادت کا چیلنج: کیوں اور کیسے؟

برطانوی پارلیمان کے ارکان نے قدامت پسند وزیر اعظم ٹریزا مے کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی ہے، جس پر رائے شماری آج بدھ بارہ دسمبر کو ہو رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ تحریک پیش کیے جانے کے بعد اب ہو گا کیا ۔برطانوی وزیر اعظم ٹریزا مے نے اسی ہفتے پیر کا دن یورپ کے مختلف ممالک کے ...