سعودیہ: خواتین کے لیے اسپورٹس کلبوں کے رنگا رنگ عبایا تیار

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th November 2017, 9:38 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،17؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب میں چند ہفتے قبل پبلک اسپورٹس کونسل نے خواتین کو میچ دیکھنے کے لیے اسٹیڈیم میں آنے کی اجازت دیے جانے کے بعد کاسمیٹک کی دکانوں پر رش بڑھ گیا ہے۔ دوسری جانب مارکیٹ میں مختلف اسپورٹس کلبوں کے رنگا رنگ عبایا بھی متعارف ہونے لگے اور خواتین کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ذوق وشوق میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ا سعودی عرب کی اسپورٹس کونسل نے چند ہفتے قبل ایک بیان میں واضح کیا تھا کہ خواتین کو جنوری 2018ء سے اسٹڈیم میں جا کرفٹ بال میچ اور کھیل کی دوسری سرگرمیوں کو دیکھنے اجازت ہوگی۔اس خبر کے بعد خواتین کے ملبوسات فروخت کرنے والی دکانوں پر نئے عبایا کی مختلف ورائٹیز بھی سامنے آئی ہیں جو مختلف اسپورٹس کلبوں کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں زرد، نیلے اور سبز رنگوں کے عبایا شامل ہیں۔ یہ عبایا ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تین ماہ کے بعد سعودی عرب کی خواتین کو جدہ، دمام، اور الریاض کے کھیل کے میدانوں میں جانے اور براہ راست میچ دیکھنے کی اجازت ہوگی۔خواتین کو براہ راست اسٹیڈیم میں داخل ہونے اور میچ دیکھنے کی اجازت دینے کے بعد جہاں خواتین کے حلقوں میں بھرپور جوش وخروش پایا جا رہا ہے وہیں خواتین کے ملبوسات فروخت کرنے والے تاجروں کی بھی چاندی ہوگئی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ خواتین کو ابھی اسٹیڈیم میں جانے کے لیے تین ماہ کا عرصہ باقی ہے مگر مختلف رنگوں کے عبایا کی خریداری اور ان کی طلب میں غیرمعمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔سعودی عرب کی پبلک اسپورٹس اتھارٹی نے شاہ فہد بین الاقوامی اسٹیڈیم میں 30 فی صد نشستیں خواتین کے لیے مختص کی ہیں۔ جدہ میں شاہ عبداللہ سٹی اسٹیڈیم، دمام میں شہزادہ محمد بن فہد اسٹیڈیم میں بھی خواتین اور فیملیز کے لیے الگ الگ مقامات مختص کئے گئے ہیں۔مبصرین کا کہنا ہے کہ خواتین کو اسٹیڈیم میں میچ دیکھنے اجازت ملنا سعودی عرب میں تبدیلی کی علامت ہے۔ اس تبدیلی کا ایک مثبت اثرملک کی معیشت پر بھی مرتب ہوگا۔ عبایا اور خواتین کے اسپورٹس ملبوسات کا کاروبار جو ماضی میں زیادہ پھل پھول نہیں سکا اس کے پھلنے پھولنے کے وسیع امکانات بھی موجود ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

شارجہ میں ابناء علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی خوبصورت تقریب؛ یونیورسٹی میں میڈیکل تعلیم صرف 60 ہزار میں ممکن!

علی گڈھ مسلم یونیورسٹی جسے بابائے قوم مرحوم سر سید احمد خان نے دو سو سال قبل قائم کیا تھا آج تناور درخت کی شکل میں ملک میں تعلیم کی روشنی عام کررہا ہے۔اس یونیورسٹی میں میڈیکل کے طلبا کے لئے پانچ سال کی تعلیمی فیس صرف 60,000 روپئے ہے، حالانکہ دوسری یونیورسیٹیوں میں میڈیکل کے طلبا ...

متحدہ عرب امارات میں حفظ قرآن جرم، حکومت کی منظوری کے بغیر کوئی شخص قرآن حفظ نہیں کرسکتا، مساجد میں مذہبی تعلیم اور اجتماع پر بھی پابندی

مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک میں داخل اندازی اور عرب کی اسلامی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کے بعد متحدہ عرب امارات قانون کے ایسے مسودہ پر کام کررہا ہے جس کی رو سے حکومت کی منظوری کے بغیر قرآن شریف کا حفظ بھی غیرقانونی ہوگا۔