مصنوعی آنکھ۔۔لاکھوں زندگیوں کی روشنی لوٹا سکتی ہے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 4th February 2018, 1:14 PM | اسپیشل رپورٹس |

وہ دن اب کچھ زیادہ دور نہیں ہے جب بینائی سے محروم افراد اپنے اردگرپھیلے ہوئے رنگوں کو دیکھ سکیں گے کیونکہ سائنس دانوں نے حال ہی میں مصنوعی آنکھ بنانے میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

بینائی پر تحقیق کرنے والے سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آنکھ کے پردے میں موجود اس خلیے کے کوڈ تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو دماغ کو برقی پیغام بھیجتا ہے۔دیکھنا ایک پیچیدہ عمل ہے اور کسی چیز کی طرف دیکھنے اور اس کے نظر آنے کے درمیان کئی مرحلے ہیں۔ ہوتا یوں ہے کہ جب ہم کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو آنکھ کا عدسہ بصارتی پردے پر اس کی الٹی تصویر بناتا ہے۔ یہ پردہ ڈیجیٹل کیمرے کے سینسر کی طرح کام کرتا ہے او برقی لہروں کے ذریعے تصویر کو فوراً دماغ کے اس حصے میں منتقل کردیتا ہے جس کا تعلق دیکھنے سے ہے۔ دماغ اس کا موازنہ یادشتوں سے کرتا ہے اور ہمیں پتا چل جاتا ہے ہم کیا دیکھ رہے ہیں یااس چیز کا رنگ کیا ہے۔دیکھنے کا عمل دماغ میں انجام پاتا ہے، آنکھ محض ایک ابتدائی کام کرتی ہے۔اگر دماغ کا بصارتی حصہ درست کام کررہاہو تووہ مصنوعی آنکھ سے پیغامات وصول کرکے چیزوں کو دیکھ سکتا ہے۔ لیکن اگر اس حصے میں کوئی خرابی ہوتو دیکھنے کا عمل درست طورپر انجام نہیں پاسکتا۔آنکھ کے پردے پر روشنی پڑنے سے اس کے خلیوں میں ایک مخصوص برقی نقش بنتے ہیں ۔بصارتی خلیوں کے کوڈ تک رسائی کے بعد سائنس دانوں نے مصنوعی بصارتی پردہ تیار کیا جسے انہوں نے ایک ایسے چوہے کی آنکھ میں لگایا جو مکمل طور پر اندھا تھا۔ آلہ نصب ہونے کے بعد چوہے تقریباً نارمل انداز میں دیکھنے کے قابل ہوگیا۔مصنوعی آنکھ کی تیاری پر ایک عرصے سے کام ہورہاہے ، لیکن اس سے پہلے تک کوئی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔اب تک بننے والی بہترین مصنوعی آنکھ جن مریضوں کو لگائی گئی وہ صرف روشن اور کالے دھبے دیکھنے کے قابل ہوسکے تھے۔جب کہ نئی مصنوعی آنکھ دماغ کو وہی سنگنلز ملتے ہیں جو حقیقی آنکھ کےبصارتی خلیے بھیجتے ہیں۔نیشنل اکیڈمی آف سائنسز کے جریدے میں شائع ہونےتحقیق میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کو یقین ہے کہ نئی مصنوعی آنکھ بہت سے لوگوں کی زندگیاں یکسر تبدیل کردے گی۔

نیویارک کی کارنل یونیورسٹی کی ڈاکٹر شیلا نیرن برگ نے ، جو اس تحقیق کی قیادت کررہی ہیں، کہاہے کہ بصارتی خلیے کا استعمال کرنے سے آنکھ کی کارکردگی اسی طرح بہتر ہوئی ہے جیسے کوئی تصویر ریزولوشن بڑھانے سے زیادہ واضح ہوجاتی ہے۔دنیا بھر کے طبی سائنس دان طویل عرصے سے بینائی کے اس مرض کا علاج ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں جس میں مبتلا ہوکر مریض آہستہ آہستہ بینائی سے مکمل طورپر محروم ہوجاتا ہے۔ یہ مرض بصارتی پردے کے روشنی محسوس کرنے والے خلیو ں کو تباہ کردیتا ہے ، جب کہ آنکھ اور دماغ کااعصابی تعلق قائم رہتا ہے۔اس مرض کے باعث دنیا بھر تقریباً دو کروڑ افراد ایسے ہیں جو یا تو اپنی بصارت کھوچکے ہیں یا پھر رفتہ رفتہ ان کی زندگی میں تاریکی بڑھ رہی ہے۔سائنس دانوں کو توقع ہے کہ ان مریضوں کی آنکھوں میں مصنوعی پردہ لگانے سے ان کی بینائی واپس آجائے گی۔ماہرین کا کہناہے کہ دیکھنے کے لیے صرف ریزولوشن بڑھانا ہی کافی نہیں ہے۔ اصل کام روشنی کی لہروں کو ایسے پیغامات میں تبدیل کرنا ہےجسے دماغ پڑھ سکتا ہو۔ نئی مصنوعی آنکھ میں اسی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہے۔سائنس دانوں کا کہناہے کہ اندھے چوہے کی آنکھ میں مصنوعی بصارتی پردہ لگانے سے اس کی90 فی صد بینائی واپس آجانے کے بعد لاکھوں انسانوں کی زندگیوں میں روشنی لانے کا راستہ کھل گیا ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

بابری مسجد، مسلم پرسنل لابورڈ اور مولانا سید سلمان ندوی : سوشل میڈیا پر وائر ل سید سعادت اللہ حسینی کی ایک تحریر

بابری مسجد ،پرسنل لابورڈ اور مولانا سلمان ندوی صاحب وغیرہ سے متعلق جو واقعات گذشتہ چند دنوں میں پیش آئے ان کے بارے میں ہرطرف سے سوالات کی بوچھار ہے۔ ان مسائل پر اپنی گذارشات اختصار کے ساتھ درج کررہاہوں ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی صحیح اور مبنی برعدل و اعتدال ، سوچ کی طرف رہنمائی ...

آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ ماضی اور حال کے آئینے میں ..... آز: محمد عمرین محفوظ رحمانی (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ) ۔

آج جمعہ بعد نماز مغرب سے حیدرآباد میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا تین روزہ اجلاس شروع ہورہا ہے، جس میں مسلمانوں کے شرعی مسائل پر کھل کر گفتگو ہوگی۔ اسی پس منظر میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا ایک تعارف بورڈ کے سکریٹری کے ذریعے ہی یہاں قارئین کے لئے پیش خدمت ہے

رٹا اسکولنگ سسٹم؛ کیا اس " گلے سڑے " اور " بوسیدہ " نظام تعلیم کو ہی جاری رکھا جائے گا ؟ تحریر: جہانزیب راضی

شمالی یورپ کا ایک چھوٹا سا ملک فن لینڈ بھی ہے جو رقبے کے لحاظ سے 65 ویں جبکہ آبادی کے اعتبار سے دنیا میں 114 ویں نمبر پر ہے ۔ ملک کی کل آبادی 55 لاکھ کے لگ بھگ ہے ۔ لیکن آپ کمال دیکھیں اس وقت  تعلیمی درجہ بندی کے اعتبار سے فن لینڈ پہلے نمبر پر ہے جبکہ ” سپر پاور ” امریکا 20ویں نمبر پر ہے ...

ریاست کرناٹک کو بھگوارنگ میں رنگنے کی کوشش

2014 کے لوک سبھا انتخابات میں زبردست کامیابی کے بعد راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اوربھارتیہ جنتاپارٹی (بی جے پی) کے حوصلے ابھی تک اس لئے بھی بلند ہیں کہ ریاستوں کے اسمبلی اور کارپوریشن انتخابات میں بھی انہوں نے کامیابی حاصل ہے ۔

تین طلاق پر غیر متوازن سزا ......آز: حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی

اندازہ ہے کہ ۲۸؍دسمبر ۲۰۱۷ء کو مرکزی وزیر قانون روی شنکر پرشاد پارلیمنٹ میں وہ بل پیش کردینگے، جسکا تعلق تین طلاق سے ہے ایوان زیریں کے ٹیبل پر رکھے جانیوالے اس بل کا نام دی مسلم ومن (پروٹیکشن آف رائٹس آن مریج) بل ۲۰۱۷ء ہے اس کا تعلق ایک ساتھ تین طلاق دینے سے ہے ۔۔۔۔ سپریم کورٹ نے ...