صدارتی انتخابات: جنگ چھوٹی سوچ اورفرقہ پرستی کے خلاف ہے;سونیا گاندھی نے کی میراکماراورگوپال کرشن گاندھی کوووٹ دینے کی اپیل

Source: S.O. News Service | Published on 16th July 2017, 10:29 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،16/جولائی (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانگریس صدر سونیا گاندھی نے مودی حکومت پرحملہ بولاہے۔سونیاگاندھی نے صدارتی انتخابات کولے کرکہاکہ یہ چھوٹی سوچ اورفرقہ پرستی کے خلاف جنگ ہے۔صدارتی انتخابات کے لیے ووٹنگ سے ایک دن قبل سونیاگاندھی نے اپوزیشن پارٹیوں سے میراکماراورنائب صدر کے عہدے کے لیے گوپال کرشن گاندھی کوووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔اپوزیشن پارٹیوں کی میٹنگ میں سونیاگاندھی نے مودی کی”فرقہ وارانہ اور تقسیم کی پالیسی“کولے کرجم کرنشانہ سادھا۔سونیاگاندھی نے کہاکہ یہ انتخابات تنگ ذہن رکھنے والے فرقہ وارانہ نظریات کے خلاف ہے۔سونیا گاندھی نے صاف کیا کہ صدراور نائب صدرکے انتخابات میں بھلے ہی افرادی طاقت ان کے ساتھ نہیں ہے،لیکن یہ جنگ پوری سنجیدگی سے لڑیں گے۔سونیاگاندھی نے کہاکہ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ بیدار ہونا چاہیے کہ ہم کون ہیں؟۔ آزادی کے دوران ہم نے کیا لڑا؟۔ہم اپناکیامستقبل چاہتے ہیں؟۔ہمیں ان اقدار پر یقین ہونا چاہیے، جنہیں ہم مانتے چلے آئے ہیں۔سونیاگاندھی نے مزیدکہاکہ یہ الیکشن نظریات اورمتضاد اقدار کا تصادم ہے، ہم ہندوستان کو ان کے ذریعے گروی نہیں ہونے دیں گے جو تنگ سوچ، تقسیم اور فرقہ وارانہ نظریات کولاگوکرناچاہتے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی