یڈیورپا کے مبینہ آڈیو کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم جانچ کرے گی، اسپیکر کی سفارش کے بعد ریاستی حکومت کافیصلہ، پندرہ دنوں میں رپورٹ دینے ٹیم کو ہدایت

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2019, 9:18 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو،11؍جنوری(ایس او نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی طرف سے جے ڈی ایس کے ایک رکن اسمبلی کو وفاداری بدلنے کے عوض بھاری رقم کی پیش کش اور رکن اسمبلی کے فرزند سے ہوئی بات چیت پر مشتمل مبینہ آڈیو کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے جانچ کرانے سے حکومت نے اتفاق کرلیا ہے۔

 ریاستی اسمبلی میں اس موضوع پر طویل اور سنجیدہ بحث کے بعد اسپیکر رمیش کمار نے ریاستی حکومت کو سفارش کی کہ اس معاملے کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے جانچ کرائی جائے۔ وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی نے اسپیکر کی ہدایت کو تسلیم کرلیا اور اعلان کیا کہ اسپیکر کی خواہش کے مطابق خصوصی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت دی جائے گی کہ پندرہ دن کے اندر وہ اس معاملے کی تحقیقات مکمل کرکے حکومت کو رپورٹ پیش کرے۔ آج جیسے ہی اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی ۔

ریاست کے سیاسی حلقوں میں غیر معمولی ہلچل کا سبب بننے والی مبینہ آڈیو کلپ کا معاملہ اسپیکر نے خود ایوان میں اٹھایا اور اس آڈیو کلپ میں انہیں 50کروڑ روپیوں کی رشوت دئے جانے کا دعویٰ کرنے پر انتہائی جذباتی ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ تحقیقات کے دوران پتہ لگایا جائے کہ انہیں یہ رقم کس نے کہاں اور کس شکل میں پہنچائی ہے۔

اسپیکر نے کہاکہ ریاستی اسمبلی کے لئے وہ اس سے پہلے بھی منتخب ہوچکے ہیں اور اسپیکر بننے کا اتفاق انہیں دوسری بار ملا ہے۔ لیکن آج بھی وہ سرکاری مکان میں نہیں رہتے۔ شہر کے ڈملور میں وہ ایک چھوٹے سے کمرے میں مقیم ہیں۔ جن لوگوں نے ان پر رشوت لینے کا الزام لگایا ہے کہ وہ بتائیں کہ 50 کروڑ روپیوں کی رقم اس چھوٹے سے کمرے میں وہ کہاں چھپاکر رکھی ہے۔ اسپیکر نے کہاکہ آج بھی وہ کرایے کے گھر میں مقیم ہیں اوراپنی زندگی کی ضرورتوں کو محدود رکھنا جانتے ہیں۔ اسپیکر نے کہاکہ ان پر اس طرح کے الزام کو وہ ان کے ساتھ ناانصافی تصور کرتے ہیں اسی لئے وہ چاہیں گے کہ حکومت جس طریقے سے چاہے جانچ کرائے اور سچائی عوام کے سامنے لائے۔ آئے دن اراکین اسمبلی کی خرید وفروخت کے متعلق دعوؤں پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے اسپیکر نے کہاکہ اراکین اسمبلی پر عوام کی معتبریت اس وجہ سے ختم ہوتی نظر آرہی ہے۔ عوامی نمائندوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ ایسے الزامات سے اپنے آپ کو بچائیں۔

اسپیکر نے کہاکہ سبھی پارٹیوں کے اراکین نے ان کا بلامقابلہ انتخاب ان کی صلاحیتوں پر بھروسہ کرکے کیا ہے، لیکن بدقسمتی سے مبینہ آڈیو میں ان کی دیانتداری پر ہی سوالیہ نشان لگانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس معاملے میں اسپیکر کو کیا موقف اپنانا چاہئے اس ضمن میں رمیش کمار نے لوک سبھا کی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ان کا کہنا یہی ہے کہ مبینہ آڈیو کی جانچ کی جائے اور جو بھی اس کے پیچھے ہے اسے عوام کے سامنے بے نقاب کیا جائے۔ اسپیکر نے کہاکہ وہ اپنے سرکاری عہدے اور نام ونمود کی نمائش کرنے کے قائل نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے اپنے گھر کے باہر اپنے نام کی تختی بھی نہیں لگائی، کیونکہ وہ نہیں چاہتے کہ وہاں ان کے قیام کی وجہ سے اڑوس پڑوس کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ پھر بھی کچھ حلقوں کی طرف سے ان کے کردار پر انگلی اٹھانے کی کوشش کی گئی ہے، جس کا انہیں بہت افسوس ہے۔ اپنے خاندانی حالات بیان کرتے ہوئے رمیش کمار نے کہاکہ وہ اپنے ماں باپ کی آٹھویں اور آخری اولاد ہیں۔ کافی جدوجہد کے پس منظر سے وہ آگے آئے ہیں۔ ایسی جدوجہد کرنے کے بعد بھی اگر ان پر رشوت کا بیہودہ الزام لگایا جاتاہے تو وہ کیونکر برداشت کریں؟۔

اسپیکر نے کہاکہ اس آڈیو کی مکمل جانچ کرانے کی وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمارسوامی کو انہوں نے ہدایت دی ہے اور حکومت نے اس سفارش کو منظور بھی کرلیا ہے۔ریاستی حکومت کی طرف سے خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے معاملے کی جانچ کرانے کے اعلان پر بی جے پی نے سخت اعتراض کیا اور مطالبہ کرنے لگی کہ جانچ کے لئے ایوان کمیٹی تشکیل دی جائے یا پھر عدالتی جانچ کروائی جائے۔اس مرحلے میں اسپیکر نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے میں کسی طرح کی جانچ کی ہدایت نہیں دے سکتے، کیونکہ معاملہ خود ان سے جڑا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں وہ صرف حکومت کو سفارش کرسکتے ہیں کہ معاملے کی مناسب جانچ کرائی جائے۔اس مرحلے میں دیگر وزراء اور بی جے پی کے ممبروں نے بھی اسپیکر کے کردار پر سی ڈی کے ذریعے شبہ ظاہر کئے جانے کی کوشش کو افسوسناک قرار دیا۔تاہم بی جے پی اس بات پر بضد تھی کہ تحقیقات، خصوصی تحقیقاتی ٹیم کی بجائے ایوان کمیٹی یا عدالتی کمیشن سے کرائی جائے۔ تاہم حکومت نے اسے تسلیم نہیں کیا اور اسی ہنگامہ آرائی کے درمیان کارروائی کو ملتوی کردیا گیا۔

ایک نظر اس پر بھی

رائے دہندگان کی سہولت کیلئے انتخابی کمیشن سے الیکشن ایپ جاری منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کیلئے تربیت یافتہ خصوصی ٹیمیں تشکیل:منجوناتھ

بنگلورو شہری ضلع کے انتخابی افسر و بروہت بنگلور مہا نگر پالیکے ( بی بی ایم پی) کمشنر منجوناتھ پرساد نے بتایا کہ آنے والے لوک سبھا انتخابات کے دوران ووٹروں کی سہولت کیلئے انتخابی کمیشن نے ’’الیکشن ایپ‘‘ جاری کیا ہے ۔

کانگریس سے کبھی علاحدگی اختیار نہیں کریں گے۔رمیش وناگیندرا

تقریباً 2؍ ماہ تک پارٹی لیڈروں سے رابطہ قائم کئے بغیر دور رہے کانگریس کے برگشتہ اراکین اسمبلی رمیش جارکی ہولی اور بی ۔ناگیندرا واپس آچکے ہیں۔انہوں نے کانگریس لیجسلیٹرز پارٹی لیڈر وریاستی مخلوط حکومت کی کو آرڈنیشن کمیٹی کے چیرمین سدارامیا سے ملاقات کرتے ہوئے پارٹی میں ہی ...