چامنڈیشوری حلقے سے میری جیت یقینی: سدرامیا

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 17th April 2018, 1:10 AM | ریاستی خبریں |

بنگلورو، 16؍اپریل(ایس او نیوز) وزیر اعلیٰ سدرامیا نے آج میسور میں اپنے چامنڈیشوری اسمبلی حلقے میں زور دار انتخابی مہم کی شروعات کی اور اس حلقے سے انہیں شکست دینے جنتادل (ایس) کے ریاستی صدر ایچ ڈی کمار سوامی کے اعلان پر طنز کرتے ہوئے سدرامیا نے سوال کیا کہ چامنڈیشوری عوام کے ووٹ کیا کمار سوامی اپنی جیب میں رکھ کر گھوم رہے ہیں؟۔ انہوں نے کہاکہ جمہوری نظام کے تحت اس طرح کاغیر ذمہ دارانہ بیان کسی کو نہیں دیناچاہئے۔ انہوں نے کہاکہ ورونا اسمبلی حلقے سے ان کے فرزند ڈاکٹر یتیندرا اور چامنڈیشوری اسمبلی حلقے سے ان کی کامیابی یقینی ہے۔ میسور آمد پر ایرپورٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ کمار سوامی کو اگر ریاست کے ہر حلقے میں جیت کا اتنا ہی یقین ہے تو پھر پچھلے لوک سبھا انتخابات میں چکبالاپور حلقے سے ویرپا موئیلی سے کیوں ہار گئے؟۔ چن پٹن اسمبلی حلقے سے جب ان کی بیوی ہار گئیں تو اس وقت کمار سوامی کے جیب میں وہاں کے عوام کے ووٹ نہیں تھے؟۔ انتخابات میں جیت اور ہار کا فیصلہ عوام کرتے ہیں امیدوار نہیں۔ بادامی حلقے سے ٹکٹ نہ ملنے کے متعلق سدرامیا نے کہا کہ انہوں نے کبھی اپنے طور پر یہ اعلان نہیں کیا تھاکہ وہ بادامی اسمبلی حلقے سے چناؤ لڑیں گے۔ پارٹی کے بعض لیڈروں نے ان سے اصرار کیا تھا ۔سابق وزیراعظم دیوے گوڈا کے اس بیان پر کہ چامنڈیشوری حلقہ سدرامیا کے سیاسی انجام گاہ بنے گا۔ سدرامیا نے کہاکہ یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ سیاسی میدان میں آغاز کس کا ہوگا اور انجام کس کا۔ 
 

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس لیجسلیچر پارٹی میٹنگ میں سدرامیا پھر غالب، ہنگامہ خیزی کے اندیشوں کے برعکس میٹنگ میں کسی نے بھی زبان نہیں کھولی

حسب اعلان 22دسمبر کو ریاستی کابینہ میں توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے آج سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی لیڈر سدرامیا نے تمام کانگریسی اراکین کو خاموش کردیا۔

مندروں کو دئے جانے والے فنڈز کو فرقہ وارنہ رنگ دینے بی جے پی کی مذموم کوشش، اسمبلی میں اسپیکر نے فرقہ پرست جماعت کی ایک نہ چلنے دی

وقفۂ سوالات میں بی جے پی رکن اسمبلی سی ٹی روی کی طرف سے سوالات تک خود کو محدود رکھنے کی بجائے ایک معاملے پر بحث شروع کرنے کی کوشش کو جب اسپیکر رمیش کمار نے روک دیا تو اس بات پر بی جے پی اراکین اور اسپیکر کے درمیان نوک جھونک شروع ہوگئی۔

ریاست کرناٹک میں 800 نئے سرویرس کا تقرر

وزیر مالگزاری آر وی دیش پانڈے نے آج ریاستی اسمبلی کو بتایاکہ ریاست بھر میں اراضی سروے کی ذمہ داری ادا کرنے کے لئے محکمے کی طرف سے 800نئے سرویرس کا تقرر کیا گیا ہے۔

پسماندہ طبقات کے سروے کی رپورٹ تیاری کے مراحل میں: پٹ رنگا شٹی

ریاستی وزیر برائے پسماندہ طبقات پٹ رنگا شٹی نے کہا ہے کہ سابقہ سدرامیا حکومت کی طرف سے درج فہرست طبقات کی ہمہ جہت ترقی کو یقینی بنانے کے مقصد سے جو سماجی ومعاشی سروے کروایا گیا تھا اس کے اعداد وشمار کو کمپیوٹرائز کرنے کا عمل جاری ہے۔