شیوسینا کا مودی پر حملہ، مسائل کو دبانے پر ہی پھوٹ رہے ہیں مخالفت کے سر

Source: S.O. News Service | By Jafar Sadique Nooruddin | Published on 27th July 2018, 1:22 AM | ملکی خبریں | ان خبروں کو پڑھنا مت بھولئے |

ممبئی:26/جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن تحریک کے دوران ہوئے تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے شیوسینا نے کہا کہ حکومت کی طرف سے مسائل کو 'دبانے' کے رجحان کی قیمت ریاست کو چکانی پڑی۔ پارٹی نے 'منظر سے غائب رہنے' کے لئے وزیر اعلی کی تنقید بھی کی۔ شیوسینا نے کہا کہ بی جے پی عام طور پر کریڈٹ لینے میں آگے رہتی ہے اور کل ہوئے بند اور تشدد کا کریڈٹ بھی اسے لینا چاہئے۔اس نے کہا کہ پارلی (بیڑ ضلع) میں جب کچھ لوگوں نے مخالفت کرنا شروع کیا تھا اسی وقت اگر وزیر اعلی نے مراٹھا برادری سے بات کی ہوتی تو اس کے بعد کے واقعات نہیں ہوتے ۔ شیوسینا نے پارٹی کے ترجمان اخبار 'سامنا' کے اداریہ میں الزام لگایا ہے کہ بہرحال حکومت کے رجحان کی قیمت ریاست کو چکانی پڑی جو مسائل کو دبانا چاہتی ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ مراٹھا مورچہ میں حصہ لینے والی بھیڑ کو کنٹرول کرنا پولیس کے لئے مشکل ہو گیا تھا کیونکہ جذبات کے علاوہ یہ مسئلہ ساکھ بھی ہو گیا تھا اور گزشتہ 24 گھنٹے پولیس بے بس نظر آئی ۔ پارٹی نے کہا کہ ہر مسئلے عام طور پر خود ہی حل کرنے والے وزیر اعلی منظر نامہ سے غائب تھے اور کسی کو بھی نہیں پتہ تھا کہ وہ کہاں ہیں یا کیا کر رہے ہیں۔ 

ایک نظر اس پر بھی

جے این یو طالب علم عمر خالد پر فائرنگ کے معاملے میں دو گرفتار

یوم آزادی سے دو دن پہلے راجدھانی کے انتہائی محفوظ علاقے پارلیمنٹ سے چند قدم کے فاصلے پر واقع کانسٹی ٹیوشن کلب آف انڈیا کے باہر سر عام جے این یو کے طالب علم عمر خالد پر جان لیوا حملے کے معاملے میں دہلی پولس کی اسپیشل سیل نے دو لوگوں کو حراست میں لیا ہے ۔

سیلاب متاثرین کی طرف بسکٹ پھینکنے پر وزیر تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا تنازعے میں گھرگئے؛ کئی حلقوں میں شدید ناراضگی

ریاستی وزیر برائے تعمیرات عامہ ایچ ڈی ریونا کی طرف سے کورگ اور رامناتھ پورہ کے سیلاب زدگان کی راحت کاری مہم کے دوران متاثرین کی طرف بسکٹ پھینکے جانے کا معاملہ تنازعے کا سبب بنا ہوا ہے۔