ہماچل پردیش کے کئی علاقوں میں برفباری، معمولاتِ زندگی متاثر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th February 2018, 8:08 PM | ملکی خبریں |

شملہ12 فروری (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا ) ہماچل پردیش کے بلند و بالا پہاڑیوں پر آج صبح سے ہی رک رک کر برفباری ہو رہی ہے۔وہیں ریاست کے نچلے علاقوں میں بھی بھاری بارش ہوئی ہے۔ شملہ کے بلند ترین علاقوں میں برفباری کے سبب سڑکیں جام ہونے سے معمولات زندگی متاثر ہوئی ہیں، جبکہ نارکنڈا میں ہندوستان ۔تبت سڑک کے جام ہونے سے ٹریفک کو بسنت پور اور کنگل کی جانب موڑ دیا گیا ہے ۔ شملہ ضلع کے کمشنر امت کشیپ نے بتایا کہ ڈھلی سے آگے احتیاطی طور پر پہلے ہی سڑکیں بند کر دی گئی تھی ؛ لیکن اب شملہ کے بالائی علاقوں میں سڑکیں کھلی ہیں اور رامپور جانے والی ایچ آر ٹی سی کی بسوں کو بسنت پور کے راستے کی طرف آمد روفت کے لیے کہا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شملہ شہر میں کہیں بھی ٹریفک میں خلل پیدا نہیں ہوا ہے اور ہسپتال کی طرف جانے والے تمام راستے کھلے ہیں۔موسمیات محکمہ کے مقامی حکام نے بالائی اور متوسط پہاڑی علاقوں میں برفباری ہونے اور اگلے دو دنوں تک بارش اور برفباریکی پیشن گوئی کی ہے ۔ اس درمیان کوٹھی میں 15 سینٹی میٹر، کیلونگ میں 11 سینٹی میٹر، برہم پور میں 10 سینٹی میٹر، نارکنانڈا میں آٹھ سینٹی میٹر، ٹھیوگ میں تین سینٹی میٹر، کفری میں دو سینٹی میٹر، کالپا میں 1.6 سینٹی میٹر، جبال میں 1.3 سینٹی میٹر اور مشوہبرا میں 0.5 سینٹی میٹر برفباری ریکارڈ کی گئی ہے ۔ 

ایک نظر اس پر بھی

لندن میں سنگاپور کے پاسپورٹ پر رہ رہا نیرو مودی: ای ڈی ذرائع 

ڈائمنڈ کاروباری نیرو مودی اور ان کے خاندان کو کروڑوں روپے کے پنجاب نیشنل بینک فراڈ کیس کی تحقیقات میں شامل ہونے کے لئے نافذ کرنے والے ای ڈی کی طرف سے سمن جاری کئے جانے کے با وجود مافیا مودی نے ہدایات کو نظر انداز کرتے ہوئے بیرون ملک رہنا تو دور وہ تفتیش کاروں کی پہنچ سے بھی دور ...

کرناٹک میں فتح کے بعد راہل کا مودی کو پیغام ، وزیراعظم ملک اور سپریم کورٹ سے بڑا نہیں:راہل گاندھی 

کرناٹک میں یدی یورپا کے وزیر اعلی کے عہدے سے استعفیٰ دینے اور حکومت گرنے کے بعد راہل گاندھی نے بی جے پی اور پی ایم مودی پر جم کر حملہ کیا۔ ساتھ ہی کرناٹک میں بی جے پی کی شکست کو جمہوریت کی جیت بتایا۔

ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوزہونے دیجئے : جسٹس سیکری

کرناٹک میں اقتدار کو لے کر تنازعہ پر سماعت مکمل کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے آج کہا کہ اب ہمیں اپنی چھٹیوں سے لطف اندوز ہونے دیجئے۔ عدالت عظمیٰ میں تین ججوں کے ایک بنچ کی صدارت کر رہے جسٹس اے کے سیکری نے جب عجیب انداز میں یہ تبصرہ کیا اس وقت عدالتی کمرہ قہقہوں سے گونج اٹھا۔