حق و انصاف کی جنگ مل کر لڑیں گے،بی جے پی نے دھوکہ دیا ؛جنترمنترپراترپردیش کے شکشا متروں کا احتجاج 

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2017, 10:31 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)آج نئی دہلی کے جنتر منتر پراترپردیش سے آئے ہوئے شکشا متروں کے بڑے اجتماع سے ملک کے کئی معروف سیاستدانوں ، سماجی کارکنوں اور صحافیوں نے خطاب کیا اور یہ بڑا دھرنا دس ستمبر سے نئی دہلی کے وسیع میدان میں تقریباًً ایک لاکھ سے زائد شکشامتروں کو نکالے جانے کے خلاف چل رہا ہے ۔یہ پہلا تحفہ بی جے پی کو ووٹ دینے کے بدلہ میں اترپردیش کے نوجوانوں کو ملا ہے۔آج اس بڑے اجتماع کو سپریم کورٹ کی وکیل اور سینئر صحافی محترمہ جے مالا نے خطاب کیا۔اس کے علاوہ پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسربھیم سنگھ نے بھی اترپردیش سے نکالے گئے شکشامتروں سے خطاب کیا۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے شکشا متروں کو یقین دلایا کہ پنتھرس پارٹی ان کی اس مہابھارت کی جنگ میں اسی طرح لڑے گی جس طرح پانڈو مہابھارت کی جنگ میں کورووں کے خلاف لڑے تھے۔ انہوں نے کہاکہ آج کے دن مہابھارت کی جنگ کی تیاری پھر ہورہی ہے لیکن افسوس ظاہر کیا کہ کورو وں کی راج شاہی کی قیادت بی جے پی کررہی ہے جو ایک نہایت افسوسناک بات ہے۔ہزاروں شکشامتروں نے محترمہ جے مالا اور پروفیسر بھیم سنگھ کی تقریروں پر زوردار تالیاں بجائیں۔ تالیوں کی زوردار آواز سے ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے پارلیمنٹ، جو صرف 500میٹر کی دوری پر ہے، اس کی دیواریں لرز رہی ہوں۔پروفیسربھیم سنگھ نے کہاکہ مہابھارت کی جنگ کروکشیتر سے شروع ہوئی تھی اور اکیسیوں صدی کے مہابھارت کی شروعات ہوگی جنتر منتر یعنی پارلیمنٹ کے دروازہ سے ۔ محترمہ جے مالا نے خواتین شکشا متروں کی ستائش کرتے ہوئے پورے ملک کے ٹیچروں ، مفکرین او ر سماجی کارکنوں سے پرزور اپیل کی کہ وہ اترپردیش اور ملک کے باقی حصوں میں اسی حالت میں پھنسے ہوئے نوجوانوں کا ساتھ دیں تاکہ وہ بھی اکیسیوں صدی کے دور میں حق اور انصاف حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے یقین دلایا کہ وہ اس جنگ کو کشمیر سے کنیا کماری تک اور سڑکوں سے سپریم کورٹ تک اس دن تک لڑتے رہیں گے جب تک نوجوانوں کو حق و انصاف نہیں مل جاتا۔

ایک نظر اس پر بھی

بائیں بازو پارٹیاں 6 ڈسمبر کو ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی

  ایودھیا میں 6 ڈسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہادت واقعہ کے خلاف بائیں بازو پارٹیوں نے احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بابری مسجد شہادت کی 25 ویں برسی کے ان تمام بائیں بازو پارٹیاں ملک بھر میں ’’یوم سیاہ‘‘ منائیں گی۔

اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا:ملائم سنگھ یادو

سماج وادی پارٹی (ایس پی)کے بانی ملائم سنگھ یادو نے اپنی پارٹی کو آج بھی مسلمانوں کی حمایت حاصل ہونے کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ اجودھیا میں مسجد نہیں بچاتے تو ٹھیک نہیں ہوتا کیونکہ اس دور میں بہت سے نوجوانوں نے ہتھیار اٹھا لئے تھے۔