شرد پوار بولے، مہاراشٹر کی 48 سیٹوں میں سے 45 پر کانگریس کے ساتھ سمجھوتہ طے

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 14th January 2019, 12:05 PM | ملکی خبریں |

نئی دہلی، 14؍جنوری (ایس او نیوز؍ایجنسی) لوک سبھا انتخابات 2019 کے لئے سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لئے کانگریس سمیت مختلف پارٹیاں نئی سانٹھ گانٹھ میں جٹی ہیں۔ اترپردیش میں جہاں سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی نے ایک ساتھ مل کر لوک سبھا الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے تو وہیں مہاراشٹر میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس کے درمیان گٹھ بندھن کو لے کر بات چیت مقام پر پہنچتی نظر آ رہی ہے۔

این سی پی سربراہ شرد پوار نےکہا کہ نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور کانگریس سیٹوں کی شراکت داری کو حتمی شکل دینے پر پہنچ گئی ہیں۔ ہمارے درمیان مہاراشٹر کی 48 لوک سبھا سیٹوں میں سے 45 سیٹوں پر سمجھوتہ ہو چکا ہے۔

پوار نے کہا کہ این سی پی اپنے کوٹے سے ایک سیٹ راجیو شیٹی کو سوابھیمانی شیتکری تنظیم کو دے گی جبکہ کانگریس اپنے حصہ کی کچھ سیٹیں بایاں محاذ پارٹیوں کے لئے چھوڑے گی۔

وہیں، سابق وزیر اعلیٰ شرد پوار نے راج ٹھاکرے کی مہاراشٹر نو نرمان سینا کے ساتھ گٹھ بندھن کی قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا۔ شرد پوار نے کہا کہ راج ٹھاکرے کے ساتھ ہم کوئی گٹھ بندھن نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی شراکت داری کو لے کر کچھ ایشوز تھے جن میں سے زیادہ تر کو اب حل کر لیا گیا ہے۔ اب باقی بچی دو۔ تین سیٹوں پر بات چیت کر رہے ہیں۔

ایک نظر اس پر بھی

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے