بی جے پی خیمے میں خوف ودہشت کی لہر، کانگریس اور جے ڈی ایس کی طرف سے اراکین اسمبلی کے شکار کا اندیشہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 13th September 2018, 12:06 PM | ریاستی خبریں |

بنگلورو13؍ستمبر(ایس او نیوز) ایک طرف بی جے پی کی طرف سے ریاستی حکومت کو کمزور کرنے کے لئے برگشتہ کانگریس اراکین اسمبلی کا شکار کرنے کی کوشش ناکام ہوتی نظر آرہی ہے تو دوسری طرف وزیر اعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی اور وزیر برائے آبی وسائل ڈی کے شیوکمار کی طرف سے بی جے پی اراکین اسمبلی کی وفاداری کو خرید لئے جانے کے خوف سے بی جے پی نے آج اپنے تمام اراکین اسمبلی کو ریسارٹ منتقل کرنے پر غور وخوض شروع کردیا ہے۔

کمار سوامی اور ڈی کے شیوکمار کی طرف سے اس کھلی وارننگ کے بعد کہ کانگریس یا جے ڈی ایس کے ایک بھی رکن اسمبلی کواپنی طرف کرنے کی بی جے پی کی طرف سے کوئی بھی کوشش کی گئی تو بی جے پی کو اپنے کم از کم دس اراکین اسمبلی سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ ان معتبر اطلاعات کے بعد بعض بی جے پی اراکین اسمبلی سے کانگریس اور جے ڈی ایس قائدین مسلسل ربط میں ہیں بی جے پی حواس باختہ ہوگئی ہے۔

بتایاجاتاہے کہ اراکین اسمبلی کو کسی بھی حال میں اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے بی جے پی اعلیٰ کمان کی ہدایت پر انہیں ریسارٹ منتقل کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔کل گوری گنیش تہوار کے فوراً بعد ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کے تیز ہوجانے کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں، اسی لئے بی جے پی نے بھی اپنے اراکین اسمبلی کے شکار ہوجانے کے خوف سے تہوار کے فوراً بعد انہیں ریسارٹ میں ٹھہرنے کی ہدایت جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا کی رہائش گاہ پر متعدد اراکین بی جے پی اسمبلی کا اجلا س ہوا، اجلاس سے غیر حاضر اراکین اسمبلی کی وفاداریوں کو لے کر شکوک وشبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ سابق وزیر آر اشوک کو ہدایت دی گئی ہے کہ بنگلور کے تمام گیارہ بی جے پی اراکین اسمبلی کی نگرانی وہ اپنے ذمے لے ۔ باقی اضلاع کے اراکین اسمبلی کو ساتھ رکھنے کی ذمہ داری سینئر لیڈروں امیش کتی، بی سری راملو، بسوراج بومئی وغیرہ کو دی گئی ہے۔ اس دوران یڈیورپانے دعویٰ کیا کہ اگلے تین چار دنوں کے اندر ریاستی مخلوط حکومت گر جائے گی اور بی جے پی کے سبھی قائدین کو اس کی خوش خبری دی جائے گی۔

دوسری طرف بی جے پی کے خیمے میں یہ دہشت بھی طاری ہے کہ گنیش تہوار کے فوری بعد کانگریس اور جے ڈی ایس کی طرف سے ان کے کتنے اراکین اسمبلی کا شکار کرلیا جائے گا۔ جنتادل (ایس) کی طرف سے بی جے پی اراکین اسمبلی کو اپنی طرف کرنے کی واضح دھمکی اور آج وزیرسیاحت سارا مہیش کے اس بیان پر کہ دس سے زائد بی جے پی اراکین اسمبلی جے ڈی ایس قیادت کے ربط میں ہیں۔بی جے پی کے خیمے میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

لوک سبھا انتخابات کا دوسرا مرحلہ ؛کشمیر سے کنیا کماری تک ہورہی ہے پولنگ؛ شام تک 61 فیصد پولنگ؛ جموں و کشمیر میں سب سے کم ووٹنگ

  لوک سبھا انتخاب کے دوسرے مرحلے کے لیے صبح 7 بجے سے ووٹنگ شروع ہو گئی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ملک کی 12 ریاستوں کی 95 لوک سبھا سیٹوں پر ووٹنگ ہو رہی ہے، جس کے لئے 1.78 لاکھ پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ اس میں 1629 امیدوار اپنی قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ دوسرے مرحلے کے دوران اتر پردیش کی 8، مغربی ...

19؍اپریل کو کرناٹک میں راہل کی انتخابی مہم

کل ہند کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) صدر راہل گاندھی جمعہ 19؍اپریل کو ریاست کا دورہ کریں گے۔ یاد رہے 18؍ اپریل کو یہاں لوک سبھا انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ ہونے والی ہے۔

لوک سبھا انتخابات: ریاست بھر میں پولیس کا سخت بندوبست 90,997افسر واہلکار تعینات، دو مرحلوں کے الیکشن کیلئے 58,225پولنگ بوتھس قائم

ریاست میں دومرحلوں میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات کے لئے جملہ 58,225پولنگ بھوتھس قائم کئے گئے ہیں ان کی نگرانی کے لئے جملہ 90,997پولیس افسروں اوراہلکاروں کو تعینات کیاگیا ہے۔