بابری مسجد کی شہادت کے 25سال : بابری مسجد کی تعمیر نو کے مطالبے کو لیکر ایس ڈی پی آئی کرناٹک کی جانب سے ریاست گیر احتجاجی مظاہروں کا انعقاد

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 7th December 2017, 11:36 AM | ریاستی خبریں | ملکی خبریں |

ہمیں ملک کی عدلیہ پر بھرپوریقین ہے اور قومی امید ہے کہ عدالت کا فیصلہ بابری مسجد کے حق میں ہی آئے گا: عبدالحنان 
بنگلورو،6؍ دسمبر (ایس او نیوز؍ پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا کرناٹک کی جانب سے بابری مسجد کی تعمیر نو کو مطالبے کو لیکر ریاست بھر میں ایس ڈی پی آئی کارکنان نے احتجاجی مظاہرہ درج کیا۔ ان احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کارکنان اور عوام شریک ہے۔ بابری مسجد کی شہادت کے 25سال بعد بھی انصاف نہ ملنے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایس ڈی پی آئی کرناٹک کے ریاستی صدر عبد الحنان نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ 6دسمبر1992 کو صرف بابری مسجد نہیں ٹوٹی ہے بلکہ ہندوستان کی جمہوری اقدار ،عدلیہ ، انتظامیہ اور مقننہ کے اصول بھی ٹوٹے ہیں۔ بابری مسجد کے شہادت کے بعد کانگریس کے وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے وعدہ کیا تھا بابری مسجد کو اس جگہ تعمیر کیا جائے لیکن یہ وعدہ آج تک پورا نہیں ہوا۔ بابری مسجد معاملے میں جواہر لعل نہرو، راجیو گاندھی اور نر سمہا راؤ کی بابری مسجد کی شہادت میں جو خاموش رول تھی اس کو ہم بھلا نہیں سکتے ۔ وی ایچ پی ، آر ایس ایس اور بجرنگ دل نے تو بابری مسجدکو مسمار کرنے کے لیے علی الاعلان سازش کی تھی لیکن کانگریسی قائدین کی خاموش سیاست بھی تاریخ کا ایک حصہ ہے۔ ہاشم انصاری نے بابری مسجد کے لیے تقریبا 60سال تک قانونی لڑائی لڑتے لڑتے اس دارفانی سے کوچ کرگئے۔ فیض آباد کی کورٹ سے لیکر الہ آ باد لکھنو بنچ تک اور پھر سپریم کورٹ میں آج بھی بابری مسجد مقدمہ میں ہم انصاف کے منتظر ہیں۔ اس دوران کئی جج ریٹائر ہوئے ، کئی جج کے تبادلے ہوئے ، کئی مجرمین کا انتقال ہوا اور مجرمین اورقاتل اپنے سزا کے انتظار میں ہیں۔ بابری مسجد کے شہادت کے 10دن بعد جسٹس لبرہان کمیشن کو بٹھایاگیا اور مطالبہ کیا گیا کہ صرف تین مہینوں کے اندر وہ اپنی رپورٹ پیش کرے لیکن رپورٹ دنیا کی سب طویل انکوائری ثابت ہوئی اور لبرہان کمیشن نے 17سال بعد اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کو پیش کیا ۔ ریاستی صدر عبدالحنان نے کہا کہ مسجد کی تعمیر نو سے ہی ملک کی تعمیر ممکن ہے۔ عدالت کے باہر بابری مسجد کا مسئلہ حل ہو نہیں سکتا یہ مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ انہوں نے قوی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ 8فروری 2018 کو بابری مسجد کے حق میں فیصلہ آئے گا۔ سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا بابری مسجد کی تاریخ کو نسل در نسل منتقل کرتے رہے گی اور انصاف ملنے تک اپنی جدجہد جاری رکھے گی۔ 

ایک نظر اس پر بھی

ہوناور معاملہ پر وزیر اعلیٰ سے روشن بیگ کی نمائندگی،حالات پر نظر رکھنے ضلع انچارج وزیر دیش پانڈے کمٹہ روانہ

اترکنڑا کے ہوناور میں 8 دسمبر کو غیر مسلم نوجوان کی مشتبہ حالت میں نعش بازیافت ہونے کے معاملہ کو سنگھ پریوار کی جانب سے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی جو کوششیں ہورہی ہیں،

ایس ڈی پی آئی ریاستی صدر عبدالحنان کی قیادت میں ایک وفد نے بابا بڈھن گری دادا پہاڑ کا دورہ کیا

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیاکے ریاستی صدر عبدالحنان کی قیادت میں ایک وفد میں بابا بڈھن گری دادا پہاڑ کا دورہ کیا جہاں گزشتہ دنوں بجرنگ دل کے غنڈوں نے دتہ ہاترا کے موقع پر بابابڈھن درگاہ کے احاطہ میں زبردستی گھس کر وہاں موجود بزرگوں کے مزاروں کو توڑ پھوڑ کر کے بے حرمتی کی تھی۔ ...

13 دسمبر کو کرناٹک اقلیتی کمیشن کی میٹنگ

کرناٹک اسٹیٹ مائنارٹیز کمیشن کے سکریٹری ایس انیس سراج کی اطلاع کے مطابق 13 دسمبر بروز چہار شنبہ صبح10:30 بجے ٹینس پویلین، پیلیس گراؤنڈ بنگلور میں ایک میٹنگ کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے،

بی جے پی کوپاکستان جیسے بیانات دینے پربہارمیں نقصان ہوچکاہے:اسدالدین اویسی

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین بیرسڑاسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ گجرات کے انتخابی جلسوں میں جس طرح کی زبان وزیراعظم نریندر مودی استعمال کر رہے ہیں، اس پر ان کو کوئی تعجب نہیں ہوا ہے۔

’’بھگوا غنڈہ گردی ملک کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ‘‘: آل انڈیا امامس کونسل

ہندوتواوادی اور فسطائی غنڈے نے پھر سے ملک کو شرمسار کر دیا۔ ایک نہتے اور بے قصور مزدور افراز الاسلام کو مزدوری دینے کے بہانے بلاکر پھاوڑے سے قتل کر دینا اور پھر پٹرول چھڑک کر آگ لگا کر جلا دینا ملک کے لیے ایک انتہائی شرمناک معاملہ ہے۔