سدنہ بیت اللہ اور کلید کعبہ کا قصہ!

Source: S.O. News Service | By Sheikh Zabih | Published on 1st June 2017, 12:32 PM | اسلام |

ریاض،31مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سدنہ بیت اللہ وہ قدیم پیشہ اور مقدس فریضہ ہے جس میں خانہ کعبہ کی دیکھ بحال، اسے کھولنے اور بند کرنے، اللہ کے گھر کو غسل دینے، اس کا غلاف تیار کرنے اور حسب ضرورت غلاف کعبہ کی مرمت کرنے جیسے امور انجام دیے جاتے ہیں۔سدانہ کعبہ کا شرف صدیوں سے الشیبی خاندان کے پاس چلا آرہا ہے۔ اس وقت الشیخ ڈاکٹر صالح زین العابدین الشیبی سدنہ بیت اللہ ہیں اور وہ 109 ویں سادن ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ میں اپنے ان جذبات کو بیان نہیں کرسکتا کہ میں کرہ ارض پر واقع اللہ کے اس مقدس ترین گھر کا سدانہ ہوں اور میرے ہاتھ میں اس مقدس گھر کی چابی ہے۔ میں اسے کھولتا اور بند کرتا ہوں۔ میرے لیے یہ سب سے بڑا شرف ہے۔

حضرت ابراہیم اور ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھ سے خانہ کعبہ کی دیواریں اٹھائے جانے کے بعد سدانہ کی ذمہ داری ان کی اولاد کو سونپی گئی۔ درمیان میں جرھم نے ان سے یہ شرف چھین لیا مگر قصی بن کلاب نے دوبارہ یہ ذمہ داری اپنے ہاتھ میں لی۔ ان کے چار بیٹے عبدالدار، عبد مناف، عبد عزہ اور عبد شمس تھے۔جب تک قصی بن کلاب زندہ رہے،تو سدانہ کی ذمہ داری اور کلید کعبہ ان کے ہاتھ میں رہی۔ والد کی وفات کے بعد کلید کعبہ کے حصول میں بیٹوں میں لڑائی شروع ہوگئی اور کوئی بھی اس شرف سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔اس وقت السدانہ، الرفادہ، السقایہ اور دارالندوہ کی قیادت جیسے امور اس میں شامل تھے۔ ان میں سے بیشتر اب ختم ہیں اور السدانہ اور السقایہ اپنی جگہ موجود ہیں۔

فتح مکہ کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کلید کعبہ اہل شیبہ کو واپس کردی۔ کیونکہ حکم تھا کہ (إن اللہ یأمرکم أن تؤدوا الأمانات إلی أہلہا) کہ امانتیں ان کے مالکوں کو لوٹا دی جائیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو حکم دیا کہ وہ عثمان بن طلحہ کو بلائیں۔ حضرت عثمان بن طلحہ نبی علیہ السلام کے پاس آئے۔ آپ نے کلید کعبہ انہیں عطاء کی اور فرمایا کہ اے بنی طلحہ یہ (کلید) اپنے پاس سنھبال لو یہ تا قیامت ہمیشہ تمہارے پاس رہے گی اور ظالم لوگ ہی تم سے اسے چھینیں گے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

حضرت علی بن ابی طالب کرّم اللہ وجہہ : ایک سنی نقطۂ نظر ..... تحریر: ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ الشریف جامع کمالات تھے۔وہ نوجوانوں اور مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے تھے ۔ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت کے مطابق حضور پاکؐ کی بعثت پیر کے روز ہوئی اور حضرت علی صرف ایک دن بعد یعنی منگل کو ایمان لائے ۔اس وقت آپ کی عمر مشکل سے آٹھ یا دس سال ...

*ماہ صیام صبر و مواسات کا مہینہ* ازقلم! *ﻣﮩﺪﯼ ﺣﺴﻦ ﻋﯿﻨﯽ قاسمی*

ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﻨﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﻌﺎﻣﺎﺕ ﮐﺎ ﺷﻤﺎﺭ ﻣﻤﮑﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻋﻄﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻣﻨﻔﺮﺩ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ،  ﺣﻀﻮﺭ ﺍﮐﺮﻡ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺷﺪﺕ ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ...

امیر شریعت سادسؒ ، نقوش و تاثرات :عروس جمیل در لباس حریر ۔۔۔۔۔ آز: فضیل احمد ناصری القاسمی

امارت شرعیہ(بہار ،اڑیسہ وجھار کھنڈ)ہندوستان کے ان سرکردہ اداروں میں سے ہے،جن پر اہل اسلام کو ہمیشہ فخر رہا۔یہ روز اول سے ہی ملت اسلامیہ ہندیہ کی قیادت بہتر انداز میں کرتی رہی ہے، یہ ادارہ’’ مفکر اسلام‘‘ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد رحمۃاللہ علیہ کے خوابوں کی تعبیر ہے، ...

خواتین نسلوں کی معمار ہوتی ہیں۔سید امین القادری گلبرگہ میں ختم بخاری شریف، ۷،عالمات کی ردا ء پوشی،علماء کرام کے پر مغز بیانات

شہر گلبرگہ میں عالمی تحریک سنی دعوت اسلامی شاخ گلبرگہ کا سالانہ سنی اجتماع کا کل پہلادن تھا جو خواتین کے لئے مخصوص تھا۔پروگرام کاآغازدوپہر ۲، بجے رئیس القراء قاری ریاض احمد کے تلاوت کلا م پاک سے ہوا پھر انہوں نے بارگاہ رسالت مأب صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ نعت پاک پیش کی۔

نئی نسل کے لیے ایک بہترین دینی تحفہ مولانا الیاس ندوی کی مجالس نبوی ﷺ

حضورﷺ کی سیرتِ مقدسہ ایک بے مثال،ابدی عملی نمونہ ہے ، جو زندگی کےاعلیٰ وارفع مقصد کے حصول میں بہتر سے بہتررہنمائی کرتاہے تو  چھوٹے  چھوٹے ، معمولی مسائل کو بھی اپنے اندر سمیٹا ہواہے اور اس کی اہم اور خاص خصوصیت یہ ہےکہ یہ عملی نمونہ دنیا کے ساتھ اخروی زندگی کی کامیابی کی ضمانت ...