ہم جنس پرستی جرائم کے دائرے سے باہر ہو ؟ حکومت نے کہا : سپریم کورٹ ہی کرے فیصلہ

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 12th July 2018, 11:39 AM | ملکی خبریں |

نئی دہلی،12؍جولائی (ایس او نیوز؍ایجنسی)مرکزی حکومت نے بدھ کے روز سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرکے کہاکہ اسکا ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے ہٹانے سے متعلق کوئی موقف نہیں ہے اور اس سلسلہ میں فیصلہ وہ عدالت پر چھوڑتی ہے ۔

چیف جسٹس دیپک مشراکی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ ہم جنس پرستی کو جرم کے زمرے سے ہٹانے سے متعلق عرضیوں پر سماعت کررہی ہے ۔جسٹس آر ایف نریمن ،جسٹس اے ایم کھانولکر،جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس اندوملہوترہ بھی اس بنچ میں شامل ہیں ۔

عدالت میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کررہے ایڈیشنل سالیسیٹر جنرل تشارمہتہ نے تین صفحات کا حلف نامہ داخل کرکے کہاکہ مرکزی حکومت کا دفعہ 377کے آئینی جواز سے متعلق کوئی موقف نہیں ہے اور اس نے اس کا فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیاہے ۔انھوں نے کہاکہ اب یہ عدالت پر ہے کہ وہ اس سلسلہ میں فیصلہ کرے ۔

ایک نظر اس پر بھی

کانگریس کی چھٹی فہرست جاری، مہاراشٹر کے 7 اور کیرالہ کے 2 امیدواروں کے ہیں نام

کانگریس پارٹی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے امیدواروں کی چھٹی فہرست جاری کر دی ہے، چھٹی فہرست میں 9 امیدواروں کے نام شامل ہیں، ان میں مہاراشٹر کے 7 اور کیرالہ کے دو امیدواروں کے نام شامل ہیں، کانگریس پارٹی اب تک 146 امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر چکی ہے۔

مودی پھر جیتے تو ملک میں شاید انتخابات نہ ہوں: اشوک گہلوت

کانگریس کے سینئر لیڈر اور راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے منگل کو نریندر مودی حکومت کے دور میں ’جمہوریت اور آئین‘ کو خطرہ ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دعوی کیا کہ اگر عوام نے مودی کو پھر سے اقتدار سونپا، تو ہو سکتا ہے