سعودی فضائیہ طاقت ورعرب فورس میں پہلے نمبر پر!;سعودیہ کی نا قابل تسخیردفاعی صلاحیتوں کا عالمی سطح پراعتراف

Source: S.O. News Service | Published on 7th April 2017, 5:35 PM | خلیجی خبریں |

ریاض،7اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کی ناقابل تسخیر دفاعی صلاحیت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانے لگا ہے۔روسی اسپوٹنیک ایجنسی کی تازہ رپورٹ میں سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مملکت 10 طاقت ور ترین ایئرفورسز میں پہلے نمبر پر ہے۔ سعودی عرب کے پاس بہترین اور جدید ترین سہولیات سے لیس فضائی بیڑے کی سہولت کے ساتھ ماہر،تجربہ کار اور پیشہ ہواباز بھی موجود ہیں جن کی صلاحیتوں پربجا طور پر فخر کیا جاسکتا ہے۔سعودی فضائیہ بری فوج کی معاونت کرنے کے ساتھ ساتھ ریسکیو آپریشنز، زخمیوں کو نکالنے، زخمیوں کو فضائی ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے، مال برداری،ہدف تک بروقت پہنچنے اور انٹیلی جینس آپریشنز میں بھی حصہ لیتی ہے۔
سعودی عرب کے فضائی بیڑے میں شامل یہ سب سے بہترین جنگی طیارہ شمار کیا جاتا ہے۔ یہ جنگی طیارہ بیسویں صدی میں سعودی فضائیہ کا حصہ بنا۔ اس نوع کے 2008ء تک 1100 جنگی جہاز تیار کیے گئے۔ اسے امریکی فضائیہ میں بھی کلیدی طیاروں میں شامل کیا گیا۔امریکا نے ’ایف 15 ایگل‘ کو 2025ء تک اپنے فضائی بیڑے میں شامل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب بھی آئندہ کئی سال تک ان طیاروں سے مستفید ہوگا۔سائز میں چھوٹے طیارے کی دیگر خصوصیات میں دشمن میں علاقے میں گھس کر دور تک سفر کرنا، تزویراتی ہداف کو درست انداز میں نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ یہ طیارہ پہلی بار خلیج جنگ کے دوران استعمال ہوا۔ سعودی عرب کے ایف 15 ایگل نے عراق کے دو معراج طیارے مار گرائے تھے۔ اس کے علاوہ ایران کے ایف 4 فانٹوم طیارہ بھی ایف پندرہ ایگل کی مدد سے تباہ کیا گیا۔
ٹورناڈو:
یہ جنگی طیارہ بھی کیثرالمقاصد سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب اور یورپی ممالک کی مشترکہ کاوشوں سے تیارکردہ ’ٹوناڈو‘ کے دو جیٹ انجن اس کی طاقت کے اظہار کی علامت ہیں۔ یہ جنگی جہاز کثیر جہتی جنگی مہمات کی انجام دہی میں کام آتا ہے،دن، رات ہرطرح کے موسمی حالات، انتہائی بلندی اور کم بلندی پر پرواز کرنے اور بھاری بوجھ اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔’ٹورناڈو‘ جنگی طیارے اس وقت برطانیہ، جرمنی اور دوسرے ممالک کے پاس ہیں۔ سعودی عرب نے خلیج جنگ سنہ 1991ء کے دوران IDS ماڈل کے72 میں سے 48 طیارے خریدے تھے۔ اطالوی فضائیہ نے ٹورناڈو کیقریبا 992 جہاز تیارکیے جو اس وقت مختلف ملکوں کے فضائی بیڑے کا حصہ ہیں۔
فرانس کا تیارہ کردہ داسو رافال ’فورتھ جنریشن‘ طیارہ ہے۔ پہلی بار اس طیارے کا انکشاف دسمبر 2000ء میں کیا گیا تھا۔ یہ جنگی جہاز بھی متعدد جنگی مہمات انجام دینے کی صلاحیت کا حامل ہے۔ فرانس نے سنہ 2015ء کو اسے طیارے کی فروخت میں دلچسپی ظاہر کی جس کے بعد سعودی عرب نے بھی اسے اپنے فضائی بیڑے میں شامل کیا۔یہ طیارہ مال برداری کے کام میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا اپنا وزن 9,500 کلو گرام ہیجب کہ 24000 کلو گرام وزن اٹھانے اور 2000 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ہیلی کاپٹروں میں شامل ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر سنہ 1952ء  سے امریکی فوج کے زیراستعمال ہے مگر اب تک اسے کئی بار اپ گریڈ کرکے جدید سہولیات سے بھی آراستہ کیا جا چکا ہے۔ عمودی شکل میں اڑنے اور لینڈ کرنے کی صلاحیت کے حامل ہیلی کاپٹر کو طبی عملے کی مدد اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ٹوربینی انجن کا حامل یہ ہیلی کاپٹر سمجھا جاتا ہے۔ ’یو ایچ 1 ارکویس‘ کے 16000 ہیلی کاپٹر تیار کیے گئے تھے جن میں سے 24 سعودی عرب کے پاس ہیں۔
دو انجنوں والا یہ ہیلی کاپٹر بھی امریکا کی ایجاد ہے۔ عمودی انداز میں لینڈ کرنے اور اڑان بھرنے کی صلاحیت کے ساتھ ساتھ بحری بیڑے پر اترنے، خشکی اور پانی میں جنگی مشن انجام دینے، بحری جہاز پر لینڈ کرنے، فوجیوں کونقل وحمل کی سہولت فراہم کرنے، آبدوزوں پر حملوں، ریسکیو اور ایندھن سپلائی کرنے جیسے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
امریکی ساختہ اپاچی ہیلی کاپٹر نہ صرف سعودی فضائیہ بلکہ امریکی فضائیہ کا بھی حصہ ہے۔ یہ جنگی ہیلی کاپٹر دیگر روایتی ہیلی کاپٹروں کی نسبت زیادہ جنگجو نوعیت کا ہے، اعلیٰ درجے کی فوجی کارروائیوں، فوری ری ایکشن، کم فاصلے پر جلد از جلد کارروائی، دشمن کو منتشر کرنے اور اس کے ٹھکانے تباہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔یہ ہیلی کاپٹر دن کی روشنی اور رات کی تاریکی اور ہرطرح کے موسمی حالات دونوں میں یکساں کام کرتا ہے۔ اس ہیلی کاپٹر سے فولاد شکن اور ہیلفائر میزائل بھی داغا جاسکتا ہے۔ یہ ہیلی کاپٹر 230 ملی میٹر دھانے والی مشین گن سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ ’ھائیڈرا 70‘ میزائل داغنے، گھمسان کی لڑائی میں دیر تک میدان جنگ میں کھڑا رہنے اور 23 ملی میٹر دھانے کی بندوقوں سے داغی گئی گولیوں کو دیر تک برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اخوانی پروفیسروں پر سعودی یونیورسٹیوں کے دروازے بند،اخوانی نظریات سے دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں: ڈاکٹر سلیمان ابا الخلیل

سعودی عرب کی ایک بڑی دینی درس گاہ جامعہ الامام کے ڈائریکٹر اور سپریم علماء کونسل کے رکن ڈاکٹر سلیمان ابا الخلیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی نے اخوان المسلمون کے افکار سے متاثر تمام شخصیات سے معاہدے ختم کردیے ہیں۔

ولی عہد کا فلاحی تنظیموں کو 50 لاکھ ریال کا عطیہ

سعودی عرب کے ولی عہد، نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے ذاتی جیب سے حائل کے علاقے میں فلاحی شعبے میں سرگرم تنظیموں کو پچاس لاکھ ریال کی رقم عطیہ کی ہے۔