ڈرائیونگ کے لیے خواتین کی کم سے کم عمر 18 سال مقرر

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 29th September 2017, 7:34 PM | خلیجی خبریں |

ریاض29 ستمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سعودی عرب کی وزارت داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے کہا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ کے حوالے سے قانون سازی اور ضابطہ اخلاق تیار کیا جا رہا ہے۔ گاڑی چلانے کے مجاز خواتین کی کم سے کم عمر اٹھارہ سال مقرر کی گئی ہے۔ منصور الترکی نے کہا کہ خواتین کی ڈرایؤنگ کی اجازت دینے کا فیصلہ واضح، ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے مطابق ہے۔ دنیا بھر کی طرح سعودی حکومت نے بھی ڈرائیونگ کے لیے مرد اور عورت دونوں کے لیے کم سے کم عمر کی حد اٹھارہ سال مقرر کی ہے۔ اٹھاہ سال کی عمر کے افراد ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرسکیں گے۔ایک سوال کے جوب میں ترجما وزات داخلہ نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے ساتھ تمام شہروں میں سڑکوں پر پولیس تعینات رہے گی۔ سیکیورٹی حکام ڈرائیونگ کے دوران خواتین کو درپیش مشکلات کے حل میں ان کی مدد کریں گے۔قبل ازیں سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود بن نایف نے کہا کہ سکیورٹی سروسز مملکت بھر میں مرد اور خواتین پر ٹریفک قوانین کے یکساں اطلاق کے لیے تیار ہیں۔انھوں نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ خواتین کی محفوظ طریقے سے گاڑیاں چلانے کے لیے رہ نمائی کی جائے گی اور ا ن کی ڈرائیونگ کو ایک تعلیمی عمل میں تبدیل کردیا جائے گا۔اس سے حادثات کی صورت میں ہونے والے جانی اور مالی نقصانات میں بھی کمی واقع ہوگی‘‘۔انھوں نے مزید کہا ہے کہ ’’ٹریفک کی تصریحات کے مردوں اور خواتین دونوں پر اطلاق کے لیے جاری کردہ نیا فرمان خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا ایک تاریخی اقدام ہے‘‘۔

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔