اخوان المسلمون سے تعلق، سعودی یونیورسٹی کے متعدد ملازمین برطرف

Source: S.O. News Service | By Shahid Mukhtesar | Published on 22nd September 2017, 12:50 AM | خلیجی خبریں |

ریاض،21ستمبر(آئی این ایس انڈیا؍ایس او نیوز)سعودی حکام نے ملک کی ایک اہم جامعہ کے متعدد ملازمین کو اخوان المسلمون سے تعلق کے شبے میں برطرف کر دیا ہے۔ اخوان المسلون سعودی عرب میں کالعدم جماعتوں کی فہرست میں شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ برطرف کیے جانے والے افراد میں مسلم رہنما، دانشور اور دیگر شامل ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ جامعہ کے ملازمین کے خلاف ایک منظم انداز سے کریک ڈاؤن گزشتہ دس روز سے جاری ہے۔ برطرف کیے جانے والے ملازمین کی تعداد تیس تک بتائی جا رہی ہے۔

ایک نظر اس پر بھی

عاسکر فرنانڈیز کریں گے منکی کو اڈوپٹ ؛ منکی کی بنیادی مسائل حل کرنے اور ترقیاتی کاموں کو انجام دینے اتحاد و ملن پروگرام میں اعلان

منکی کے ساتھ میرا خاص تعلق رہا ہے اور منکی والوں کے ساتھ بھی میرے ہمیشہ سے اچھے تعلقات رہے ہیں، شیرور کو میں نے اڈوپٹ کیا تھا اور اپنے فنڈ سے شیرور میں ترقیاتی کام کئے تھے، اب میں منکی کے بنیادی مسائل حل کرنے اور وہاں ترقیاتی کاموں کو انجام دینے منکی کو اپنے اختیار میں لے رہا ...

ولی عہد دبئی کی جانب سے’فٹ نس چیلنج‘ میں شرکت کی دعوت

متحدہ عرب امارات کی قیادت بڑے بڑے چیلنجز کا خود مقابلہ کرنے کے ساتھ مملکت کے عوام اور امارات میں مقیم شہریوں کو نئے چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور انہیں زندگی کے ہرشعبے میں آگے نکلنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

اخوانی پروفیسروں پر سعودی یونیورسٹیوں کے دروازے بند،اخوانی نظریات سے دہشت گرد پیدا ہو رہے ہیں: ڈاکٹر سلیمان ابا الخلیل

سعودی عرب کی ایک بڑی دینی درس گاہ جامعہ الامام کے ڈائریکٹر اور سپریم علماء کونسل کے رکن ڈاکٹر سلیمان ابا الخلیل نے کہا ہے کہ یونیورسٹی نے اخوان المسلمون کے افکار سے متاثر تمام شخصیات سے معاہدے ختم کردیے ہیں۔